الوداع حاصل بزنجو الوداع

بلوچستان کے شہر خضدار سے آگے نال شہر کی سڑکیں دور دور تک ریگستانی قصے بیان کر رہی ہوتی ہیں، کبھی ان سڑکوں کو سیلاب کی شدت کا سامنا ہوتا ہے تو کبھی تھر کے ریگستان کی طرح یہ سڑکیں، پہاڑ اور ریگستانی علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترستا ہے۔ میرے اس نال شہر میں جانے کی ہمیشہ دو وجوہات ہوتی تھیں ایک تو یہ شہر سیاسی تاریخ کے معتبر نام میر غوث بخش بزنجو کا شہر تھا دوسرا سیلاب کی تباہ کاریوں کی تاریخ رکھنے والا شہر بھی یہی نال تھا۔

اس شہر کے ناصرف پل کو سیلاب کا پانی بہا کر لے جایا کرتا ہے بلکہ انسانی وجود بھی سیلابی پانی کے اندر لاشوں کی صورت میں تیرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی کے دوران اس شہر کے سیلاب سے متاثر علاقوں کو ایسے دیکھا ہے جیسے کوئی 21 ویں صدی سے سیدھا 16 ویں صدی کے مناظر دیکھ رہا ہو۔ ہمارے ملک کے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے بڑے ہی معتبر بزنجو خاندان کا یہ شہر اب بھی 21 صدی کی ترقی کے خواب دیکھتا ہوا نظر آتا ہے۔ ناصرف یہ شہر ترقی کے خواب دیکھتا نظر آتا ہے بلکہ اس شہر کے بزنجو خاندان کے رہنما بھی نہ صرف نال شہر بلکہ پورے پاکستان کے پسے ہوئے عوام کی خوشحالی کا خواب اپنی آنکھوں میں سمائے گھومتے رہتے ہیں۔

میں نے اس شہر کی پگڈنڈیوں سے گزر کر سیلابی ریلے کے اندر سے میر طاھر بزنجو کے ساتھ لاشیں نکالنے کی کوششوں کے مناظر بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے اس شہر کی ندی نالوں سے گزرتا ہوا پانی ہی شور کرنے کا اختیار رکھتا ہے، لوگ اتنے دھیمے مزاج کے ہیں کہ سامنے گزرتی ہوئی ندی کے پانی میں پتھر بھی پھینکو تو دور تک آواز سنائی دیتی ہے۔ مجھے بزنجو خاندان کی لائیبرری کے دروازے کے فرش پر بیٹھ کر بزن بزنجو صاحب سے دیر تک کی گئی گفتگو کا وقت ہمیشہ یاد رہتا ہے۔

میں جب بھی بزنجو خاندان کے افراد سے ملتا ہوں تو سوچتا ہوں ان کو دانشور کہوں، صوفی کہوں، کامریڈ کہوں، سیاستدان کہوں، کیا کہوں، میرے کئی دوستوں کی نظر میں یہ لوگ ملنگ لوگ ہیں، جو عدم تشدد کے راستے پر اصول کا پرچم لیے کئی دہائیوں سے چل رہے ہیں۔ ایک تو میر غوث بخش بزنجو کا خاندان، پھر سب کے سب سینیٹر، ایم این اے اور پارٹی کے رہنما کی حیثیت رکھنے والے لیکن نال کی گلیوں سے لے کر اسلام آباد کے فیڈرل لاجز کی سڑکوں تک فٹ پاتھ کی سڑکوں پر بیٹھ کے چائے کے چسکے لینے میں عار محسوس نہ کرنے والے لوگ۔

میر حاصل بزنجو کو تو اپنے سے بہت کم عمر کے ساتھی کامریڈ کہہ کے بلاتے تھے۔ نیشنل پارٹی کے یہ سربراہ وفاقی وزارت سے لے کر سینیٹر بننے تک میرے آفس میں تن تنہا اکیلے آ جاتے تھے۔ وفاقی وزارت بھی ان کے اصولوں کے آگے پروٹوکول کا بند نہیں باندھ سکی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی بزرگ سے لے کر چھوٹے سے بچے تک سب ان کے ساتھی تھے، نال ہو، کوئٹہ ہو یا اسلام آباد کے فیڈرل لاجز کے دروازے، سب ایسے کھول کے چلے جاتے تھے جیسے سرمایہ داری دنیا کو لات مارتے ہوئے اپنے کامریڈ سے جا کے مل رہے ہوں۔

اسلام آباد کی فیڈرل لاجز کے باقی تمام اپارٹمینٹ کے وزرا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے میمبران، سب نے اپنے اپنے معیار کی تصاویر اپنے کمروں میں سجائی ہوئی تھیں۔ کسی نے اپنے لیڈر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کے کھڑے ہونے کی تصویر کو ترجیح دی ہوئی تھی تو کوئی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبر کی حیثیت سے رجسٹر پر دستخط کرنے کی تصویر کو آویزاں کرنا بہتر تصور کرتا تھا، لیکن میر حاصل بزنجو کا کمرا کارل مارکس، چے گویرا، ہوچی منہ، ماؤزے تنگ جیسے کامریڈوں کی تصویروں سے سجا ہوتا ہوا نظر آتا تھا۔

میر حاصل خان بزنجو دیوار پر آویزاں ان تصاویر کا تعارف بھی اپنے انداز میں کرواتے تھے۔ وفاقی وزیر بننے کے بعد جیسے ہی میں ان کے کمرے کے اندر داخل ہوا تو ان کے نال کے ہی کسی رشتے دار نے دروازے پر ہی صرف ”جی“ جیسا سوال کیا تو دور سے ہی میر حاصل خان بزنجو کی آواز سنائی دی کہ اسے کیسے روک سکتے ہو۔ کبھی کبھی میر حاصل خان کو ڈھونڈنے میں دشواری ہوتی تھی تو ان کے چھوٹے بھائی سینیٹر طاھر بزنجو کو نال شہر فون کرکے میر حاصل خان کو تلاش کر لیتے تھے۔

بلوچستان کے رہنماؤں کی یہ ادا مجھے سب سے زیادہ اچھی لگتی تھی کہ وہ فون زیادہ تر خود اٹینڈ کیا کرتے تھے، چاہے میر حاصل خان بزنجو ہو یا طاھر بزنجو۔ میں نے اکثر یہ سوال ان کے سامنے رکھا کہ ایک تو بہت معتبر سیاسی گھرانہ، پھر اس کے اوپر نیشنل پارٹی کے سربراہ، پھر سینیٹر، کوئی پروٹوکول کوئی لمبی لمبی گاڑیون کی قطاریں لگانے کا آپ کا من نہیں کرتا کے جواب میں میر حاصل خان بزنجو ہمیشہ ایسے مسکرا دیتے تھے جیسے کہ رہے ہوں کہ ایسے سرمایہ داروں کے نظام کو ہم ختم کر دیں گے۔

جب الیکشن کے دنوں میں میں نے میر حاصل خان بزنجو سے پوچھا کہ کیا آپ کی پارٹی الیکشن میں حصہ لے گی تو میر صاحب نے جواب دیا ”چاہے ہم سب مر جائیں لیکن الیکشن میں حصہ ضرور لیں گے۔“ میر حاصل خان بزنجو کی نیشنل پارٹی جب الیکشن میں کامیاب ہو کے مری معاہدے کے تحت ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو بلوچستان کا وزیراعلی بنانے میں کامیاب ہوئی تو ڈھائی سال کے بعد بھی میاں نواز شریف کا دل ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو ہٹانے سے انکاری تھا، تب میر حاصل خان بزنجو ہی وہ شخصیت تھے جو اپنی حکومت کے خاتمے کے لئے جاکے میاں نواشریف سے ملے اور کہا کے ہم سیاسی لوگ ہی اگر اقتدار کی خاطر اپنے معاہدوں پر عمل نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا۔

بلوچستان حکومت بنانے کے بعد اور میاں نواز شریف کی کابینہ کا ممبر بننے کے بعد ہمیشہ وہ کہتے تھے کہ ناراض بلوچوں کو واپس لانا میری اولین ترجیح ہے۔ ڈاکٹر مالک کی حکومت ان کوششوں میں مصروف بھی نظر آئی، ایک دن میں نے میر حاصل خان سے پوچھا کہ ناراض بلوچوں کی واپسی کا کیا ہوا؟ تو حاصل خان نے کہا کہ ہم اپنے رسک پر ان کو واپس آنے کا نہیں کہ سکتے، اتنا بڑا رسک نہیں لیں گے۔

سینیٹ کے الیکشن کے دنوں میں راجہ ظفرالحق کی شکست اور صادق سنجرانی کی کامیابی سے وہ بہت دکھی تھے۔ صادق سنجرانی کو عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں ہٹا کر حاصل خان کو چئرمین سینیٹ نامزد کرنے کے فیصلے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک کے ناکام ہونے سے بھی میر حاصل خان بہت دل شکستہ نظر آئے۔ میں نے ایک دن کہا کے حکومت کا کہنا ہے کہ ہم نے میاں نواز شریف کے امیدوار کو روکنا تھا میر حاصل خان بزنجو کچھ دیرتک خاموش رہنے کے بعد کہنے لگے ”میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ بلوچستان کو ایک وزیراعظم یا ایک سینیٹ چئرمین دینے کی مہربانی مت کرو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا“ میر حاصل خان بزنجو زندگی کے آخری دنوں میں اپنے اردگرد اصول پرستی کے دائرے میں چند لوگوں کے علاوہ اپنے سامنے سرمایہ داری، موقع پرستی زندہ باد جیسا ماحول دیکھ کر اداس کیفیت میں نظر آتے تھے۔

مجھے ان کی زندگی کی سب سے بڑی بہادری ان دنوں میں نظر آئی جب کینسر جیسی تکلیف میں مبتلا ہونے کے باوجود نہ صرف معمول کی زندگی کو بحال رکھا بلکہ سیاسی پروگراموں، سینیٹ کے اجلاس اور ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت جیسی مصروفیات بھی مسکراتے ہوئے ایسے ادا کرتے جیسے موت نہیں، زندگی سامنے ان کا انتظار کر رہی ہو۔ میری آخری ملاقات میر حاصل خان بزنجو سے پارلیمنٹ کی راہداریوں میں ہوئی تھی جب میں پارلیمنٹ میں لگی تصاویر کا جائزہ لے رہا تھا، وہ ملے، مسکرائے اور کہا، اچھا میں چلتا ہوں

ذوالفقار گرامانی
humsub-