کراچی میں مزید بارشوں کااِمکان،20 اضلاع آفت زدہ قرار

کراچی میں ریکارڈ بارش اور اس کی وجہ سے ہونے والی اربن فلڈنگ کو دو روز گزرنے کا باوجود ابھی تک کئی شاہراہوں، گلیوں اور علاقوں میں برساتی پانی کھڑا ہے، لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور مواصلاتی رابطے تاحال منقطع ہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کی جانب سے پیش گوئی کی گئی ہے کہ سنیچر سے پیر تک سندھ اور بلوچستان میں مزید مون سون بارشوں ہوں گی۔ اربن فلڈنگ کی وجہ سے زیریں سندھ کے نشیبی علاقے دوبارہ زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے 6 اضلاع سمیت صوبے کے کل 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ کراچی میں جمعرات کو ہونے والی طوفانی بارش سے سنیچر تک مختلف حادثات میں 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

محکمہ موسمیات کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سنیچر سے پیر کے دوران کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، شہید بے نظیرآباد ، دادو، تھرپارکر، نگرپارکر، میرپور خاص، اسلام کوٹ، عمر کوٹ، سانگھڑ، سکھر اور لاڑکانہ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
اتوار اور پیر کو بلوچستان میں لسبیلہ، خضدار، آواران، بارکھان، ژوب ، موسیٰ خیل، لورالائی، کوہلو اور سبی میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی توقع ہے۔


اس دوران پنجاب میں بہاولپور، رحیم یار خان، خان پور، راجن پور، ڈی جی خان، ملتان، خانیوال اور ساہیوال میں بھی موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، میرپور خاص اور بدین میں اتوار اور پیر کو موسلا دھار بارش کے باعث مزید اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ اس دوران سبی، قلات، خضدار، لسبیلہ اور ڈیرہ غازی خان کے ندی نالوں میں بھی طغیانی کا خطرہ ہے۔
تمام متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں۔
کراچی سمیت صوبے کے 20 اضلاع آفت زدہ قرار دے دیے گئے
حکومتِ سندھ نے مون سون کی حالیہ تباہ کاریوں اور محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیشِ نظر پورے کراچی سمیت صوبے کے 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔

سنیچر کو ریلیف کمشنر سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فیکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے چھ اضلاع کے علاوہ حیدرآباد آباد ڈویژن کے 9 اضلاع، بدین، ٹھٹھہ، مٹیاری، دادو سمیت، میرپور خاص، تھر پارکر اور سانگھڑ کو بھی آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔
جن اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے وہاں کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگائیں تاکہ لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔
حکومت نے شہر کے بعض علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے جبکہ برساتی پانی میں بہہ کر ہلاک ہونے والوں کی نعشیں نکالنے اور لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں جمعرات کو 234 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ ہوئی جس کے باعث شہر کے بیشتر علاقے ڈوب گئے اور شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ پورا دن جاری رہنے والی بارش نے تمام شہر کو متاثر کیا اور سرجانی سے لے کر ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹی اور کورنگی سے لے کر کیماڑی تک تمام علاقے زیرآب آگئے

اس بارش کو دو روز گزرنے کے باوجود سنیچر کے روز بھی متعدد علاقوں میں پانی جمع ہے، کئی سڑکیں زیرِ آب ہیں، رہائشی کالونیاں ڈوبی ہوئی ہیں، مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، بجلی کی فراہمی معطل ہے اور پاک فوج یا فلاحی ادارے ان علاقوں میں محصور لوگوں کو راشن فراہم کر رہے ہیں یا انہیں محفوظ مقام تک منتقل کر رہے ہیں۔
شہر کی نسبتاً نئی کالونی نیا ناظم آباد میں ابھی بھی کئی فٹ پانی جمع ہے، فوج اور ایدھی رضاکاروں نے ریسکیو آپریشن کر کے وہاں سے لوگوں کو منتقل کیا۔
رہائشی ماہ رخ نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کالونی کے ڈوبے ہونے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد ریسکیو اداروں نے وہاں کا رخ کیا۔ ایک اور علاقہ مکین طلال مغل کا کہنا ہے کہ کالونی میں اس قدر پانی جمع ہے کہ گاڑی نہیں چل سکتی جبکہ بجلی منقطع تھی اور جنیریٹڑ کا فیول بھی ختم ہوگیا تھا جس کے بعد انہوں نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا اور رضاکاروں نے آکر انہیں وہاں سے نکالا۔
شہر سے ایئر پورٹ کی جانب جانے والی شارع فیصل پر واقع ڈرگ روڈ انڈرپاس میں ابھی بھی پانی جمع ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں خلل واقع ہو رہا ہے۔ ضلع وسطی کو ضلع شرقی سے ملانے والی شاہراہ پر گلشنِ شمیم کے مقام پر سڑک پانی میں ڈوبی ہوئی ہے اور لوگوں کو آمد و رفت میں مشکلات درپیش ہیں

شہر کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس میں بارش رکنے کے دو روز بعد بھی کئی علاقوں میں تاحال پانی کھڑا ہے جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی تعطل کا شکار ہے۔ رہائشی طحہٰ کے مطابق بجلی کی عدم فراہمی کے باعث وہ جنریٹر پر انحصار کر رہے ہیں۔ پٹرول ختم ہونے کی وجہ سے انہیں باہر نکلنا پڑا تو سڑک پر ابھی بھی کئی فٹ پانی کھڑا ہے اور وہ بڑی مشکل سے گھر آئے۔
حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اس حوالے سے کہا کہ حالیہ بارشوں میں ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کا علاقہ بے حد متاثر ہوا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو ریلیف دینے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے بھی ڈی ایچ اے کی انتظامیہ سے اس بابت استفسار کیا مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب شہر کے ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ نسبتاً کم ہونے کے بعد لاپتہ افراد کی نعشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ چھیپا رضاکاروں نے مشرف کالونی کے قریب تالاب سے ایک لڑکے کی ڈوبی ہوئی نعش نکالی جبکہ منظور کالونی جونیجو ٹاؤن سے بھی ایک شخص کی نعش برساتی نالے سے ملی۔
کراچی پولیس کے مطابق کورنگی ندی سے ایک مرد اور ایک عورت کی نعش سنیچر کو ملی جسے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ بارش کے بعد کرنٹ لگنے کے واقعات میں اورنگی ٹاؤن میں ایک خاتون اور ناتھا خان نالے کے پاس ایک لڑکے کی ہلاکت ہوئی

کراچی کے کاروباری مرکز صدر اور آئی آئی چندریگر کے علاقوں میں بھی تاحال پانی جمع ہے، شہری اسماعیل قدوائی نے بتایا کہ ان کے دوست کی گاڑی جمعرات کو صدر میں پانی میں بند ہو گئی تھی جسے نکالنے کے لیے وہ آج گئے۔ ان کا کہنا تھا کئی علاقوں میں ابھی بھی پانی جمع ہے اور گاڑی کھینچ کر مکینک تک لانے میں خاصی مشکل پیش آئی۔
گلستانِ جوہر کے رہائشی فاروق بلوچ کا کہنا ہے کہ جمعرات کو بارش کے باعث ان کے فلیٹ میں پانی بھر گیا تھا جس کے باعث انہیں نقل مکانی کرنا پڑی، آج دو دن بعد جب وہ واپس آئے ہیں تو تب بھی گھر کے اطراف میں پانی کھڑا ہے اور گھر کے اندر سے جتنا پانی نکالا تھا وہ پھر سے جمع ہو گیا ہے۔
بارش سے شہر کے قبرستان بھی متاثر ہوئے، گزری قبرستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد قبریں بہہ گئیں اور بیشتر مخدوش حالت میں ہیں۔
دوسری جانب سخی حسن قبرستان میں ابھی بھی کئی فٹ بارش کا پانی کھڑا ہے جس کے باعث قبریں زمین میں دھنس رہی ہیں۔ وہیں قریب سے برساتی نالہ بہتا ہے جس سے ہر بارش میں قبرستان کو نقصان پہنچتا ہے

حکومت سندھ نے بارش کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے سبب ضلع ملیر کے بعض علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔ جبکہ بارشوں کے بعد سے کراچی شہر میں موبائل فون سگنلز نہیں آرہے اور کمپنیوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بجلی کی عدم دستیابی اور تباہ کن صورتحال کے باعث موبائل ٹاورز مکمل طور پر کام نہیں کر رہے جس کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔
جمعرات کو ہوئی بارش کے سبب جمعے تک کراچی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی اور جمعہ کی شام سے بتدریج علاقوں کو بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے، تاہم لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ 9 محرم الحرام کی مناسبت سے جلوس بھی نکالا جارہا ہے جس کے انتظامات کے حوالے سے ملت جعفریہ کی تنظیموں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا

سنیچر کی صبح طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا کہ ’صوبائی و شہری حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے جلوس کے روٹ کو سیوریج اور غلاظت دور نہ کیے جانے کی صورت میں متفقہ طور پر 9 محرم الحرام کے جلوس کو نماز ظہرین کے بعد امام بارگاہ علی رضا پر روک لیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاوقتیکہ انتظامیہ جلوس کے روٹ کو مکمل طور پر متنظمین جلوس کی تسلی کے مطابق کلیئر نہ کرادے۔‘
علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے اپنے پیاروں کی گمشدگی کے حوالے سے پوسٹ بھی لگائیں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ جمعرات کی بارش کے بعد سے لاپتا ہیں۔
کراچی میں جمعرات سے سنیچر تک مختلف حادثات میں 28 اموات
کراچی میں جمعرات کو ہونے والی طوفان بارش سے مختلف حادثات میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 28 ہو گئی ہے۔
شہر کے ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ نسبتاً کم ہونے کے بعد لاپتا افراد کی نعشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ چھیپا رضاکاروں نے مشرف کالونی کے قریب تالاب سے ایک لڑکے کی ڈوبی ہوئی نعش نکالی جبکہ منظور کالونی جونیجو ٹاؤن سے بھی ایک شخص کی نعش برساتی نالے سے ملی۔
کراچی پولیس کے مطابق کورنگی ندی سے ایک مرد اور ایک عورت کی نعش سنیچر کو ملی جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ بارش کے بعد کرنٹ لگنے کے واقعات میں اورنگی ٹاؤن میں ایک خاتون اور ناتھا خان نالے کے پاس ایک لڑکے کی ہلاکت ہوئی۔
لیاری آٹھ چوک میں نور حسین نامی شخص کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوا
urdunews-report