جنرل عاصم باجوہ کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کی حقیقت بھی جلد ہی سامنے آجائے گی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شاید ملکی سیاست دانوں میں واحد شخص ہیں جنہوں نے سی پیک کے سربراہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اہل خاندان کے اثاثوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ اور اس پر سوشل میڈیا میں ہونے والے مباحث پر رائے دینے کا حوصلہ کیا ہے۔ اس صورت حال میں سب سے پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک کا کوئی حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی افسر کسی قسم کی بے قاعدگی کا مرتکب ہو تو کیا اس کے بارے میں بات کرنا بھی منع ہے؟

ملتان میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے اگرچہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ شاید بے بنیاد ہو۔ ان کا خیال ہے کہ ملک میں بیشتر میڈیا رپورٹیں کسی تصدیق کے بغیر شائع کردی جاتی ہیں حالانکہ کسی بھی خبر کو شائع یا نشر کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق کرلینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل عاصم باجوہ کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات کی حقیقت بھی جلد ہی سامنے آجائے گی۔ گویا بالواسطہ طور سے وزیر خارجہ نے اس خبر کی تردید کرنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن براہ راست یہ کہنے سے گریز کیا ہے کہ عاصم باجوہ کے اہل خاندان پر گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بنائے گئے اثاثوں کے بارے میں صحافی احمد نورانی کی رپورٹ غلط ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے ایک ویب سائٹ ’فیکٹ فوکس‘ پر اپنی اہلیہ، بچوں اور بھائیوں کے مبینہ بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں رپورٹ سامنے آنے پر ایک ٹوئٹ میں اس کی پرزور تردید کی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک غیر معروف ویب سائٹ پر میرے اور میرے خاندان کے خلاف عناد پر مبنی ایک کہانی شائع ہوئی ہے جس کی میں پرزور انداز میں تردید کرتا ہوں‘۔ احمد نورانی کی رپورٹ اور جنرل عاصم باجوہ کی تردید کے بعد دو طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے۔ ایک تو ملکی میڈیا نے عمومی طور سے اس پر خاموشی اختیار کی ہے۔ یہ خاموشی ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے خبر نشر یا شائع نہ کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ کسی بھی ٹاک شو میں اس معاملہ پر گفتگو کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا۔ حالانکہ خبر سامنے لانے والی ویب سائٹ ضرور نئی اور غیر معروف ہے لیکن احمد نورانی ملک کے ممتاز انوسٹی گیٹو صحافی ہیں جو ماضی میں قومی روزناموں میں اہم خبریں فائل کرتے رہے ہیں۔ انہیں خاص طور سے اکتوبر 2017 میں اسلام آباد میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کے حملہ کے بعد شہرت حاصل ہوئی تھی ۔ اس حملہ میں وہ شدید زخمی ہوگئے تھے ۔ نورانی خاصا عرصہ ہسپتال میں رہے اور انہیں مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں کئی ماہ لگ گئے تھے ۔ شہباز شریف، بلاول بھٹو، اسد عمر اور متعدد دیگر سیاست دانوں کے علاوہ ملک کے موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے اس حملہ کی شدید مذمت کی تھی۔

اس پس منظر میں دیکھا جائے تو ملکی میڈیا کی طرف سے ایسے جانے پہچانے صحافی کی فائل کی ہوئی رپورٹ کے حوالے سے کوئی خبر شائع یا نشر نہ کرنا نہایت پراسرار اور حیران کن رویہ ہے۔ حتی کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خبر کی تردید کے لئے صحافی کے سوال کے جواب میں جو وضاحت کی ہے، اسے بھی پاکستانی میڈیا نے ہمہ گیر طور سے شائع نہیں کیا۔ گویا اسے غیر اہم خبر سمجھتے ہوئے نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی بظاہر یہی وجہ دکھائی دیتی ہے کہ شاہ محمود قریشی کی وضاحت چھاپتے ہوئے ، اس کا پس منظر بتانا بھی ضروری ہوجاتا ۔ پاکستانی میڈیا بوجوہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خاندان پر کثیر اثاثے جمع کرنے کے الزامات کی تفصیلات سامنے لانے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔

یہ گریز صرف میڈیا ہی کی حد تک نہیں ہے۔ ملک کے کسی بھی سیاست دان یا سرکاری عہدیدار نے اس معاملہ پر کوئی تبصرہ کرنے، مناسب اقدام کرنے، جنرل عاصم باجوہ کو سچا اور صحافی کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ حالانکہ ملک میں اس وقت کرپشن اور ناجائز اثاثے رکھنے کا معاملہ سیاسی ایجنڈے پر سر فہرست ہے۔ گزشتہ روز ہی وزیر اعظم عمران خان نے اے آر وائی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ کرپشن کے سوال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے خواہ اس کے لئے انہیں اپنا اقتدار ہی کیوں داؤ پر نہ لگانا پڑے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے نواز شریف کو واپس لانے کی کوششوں اور این آر او نہ دینے کے بارے میں پر زور طریقے سے اپنے عزم کا اظہار کیا تھا۔

وزیر اعظم کو بھی اس انٹرویو کے دوران اپنے معاون خصوصی اور ملکی معیشت کے سب سے اہم منصوبے سی پیک اتھارٹی کے چئیر مین پر عائد کئے گئے الزامات کے بارے میں ایک لفظ بھی کہنے کا حوصلہ نہیں ہؤا۔ حالانکہ کرپشن کے خاتمہ کو اپنی حکومت کا اولین مقصد قرار دینے والے وزیر اعظم کا فرض تھا کہ فوری طور سے اس خبر کا نوٹس لیتے اور اگر یہ خبر غلط ہے تو سارے حقائق سامنے لاکر اس گمراہ کن خبر کی تردید کرتے یا اس میں اگر کسی بھی قسم کی صداقت ہے تو وہ اپنے ماتحت کام کرنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے باز پرس کرتے اور معاملات کی وضاحت تک انہیں اطلاعات کے معاون خصوصی کے علاوہ سی پیک اتھارٹی کے چئیرمین کے عہدے پر کام کرنے سے روکتے۔ اس طرح حکومت عوام پر یہ واضح کر سکتی تھی کہ نواز شریف اور آصف زرداری سے سیاسی مخالفت کی وجہ سے ان کے خلاف بیان بازی نہیں کی جاتی بلکہ عمران خان کسی بھی طبقہ یا ادارے سے تعلق رکھنے والے فرد کی بدعنوانی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مشکوک مالی لین دین کرنے والے لوگوں سے ہر طرح کا فاصلہ رکھا جائے گا اور اگر حکومت کا کوئی رکن بھی ناجائز اثاثوں کے کسی معاملہ میں ملوث ہے تو اس کی پوری ذمہ داری قبول کی جائے گی۔

احمد نورانی کی رپورٹ کے بعد سامنے آنے والی صورت حال میں دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ملکی میڈیا، سیاسی لیڈر اور حکومت تو اس معاملہ پر مہر بلب ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اس مسئلہ پر گرما گرم مباحث کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ خبر سامنے لانے والی ویب سائٹ پر سائبر حملوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی خبریں پھیلائی جارہی ہیں کہ احمد نورانی نے بھارتی ایجنٹوں کی پلانٹ کی ہوئی معلومات کو عین اس وقت رپورٹ کیا ہے جبکہ جنرل عاصم سلیم باجوہ سی پیک جیسے اہم منصوبہ کے آخری مراحل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے کام کی نگرانی کررہے ہیں۔ اس طرح ایک تو اس خبر کو سابق فوجی کمانڈر اور سرکاری عہدوں پر کام کرنے والی ایک اہم شخصیت کو نشانہ بنانے کی بھارتی سازش قرار دیا گیا ہے تاکہ سی پیک کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی احمد نورانی کا اعتبار ختم کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ یہی کوشش شاہ محمود قریشی نے اپنے طور پر کی ہے کہ پاکستان میں خبریں تصدیق کے بغیر شائع کرنے کا رواج ہے۔

حیرت ہے کہ سیاست دانوں کے بارے میں جھوٹی سچی خبروں کو سرکاری سرپرستی میں باقاعدہ پھیلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ حتی کہ نواز شریف کی بیماری، ان کی بیرون ملک روانگی اور علاج کے حوالے سے شبہات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے۔ ان کوششوں میں نہ تو اخلاقیات کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی یہ پرواہ کی جاتی ہے کہ بیشتر سیاست دانوں پر لگنے والے الزامات ابھی تک کسی عدالت میں ثابت نہیں کئے جاسکے۔ اورحکومتی ارکان عدالتوں میں زیر غور معاملات پر بات کرنے سے گریز کریں۔

ویب سائٹ ’فیکٹ فوکس‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا فوج میں کیرئیر اور ان کے خاندان کا کاروبا ر ایک ہی وقت میں یکساں رفتار سے ترقی کرتا رہا ہے۔ احمد نورانی نے امریکی اور پاکستانی اداروں سے حاصل کی ہوئی دستاویزات کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ عاصم باجوہ کی اہلیہ، بیٹے اور ان کے بھائی امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں وسیع کاروبار اور املاک میں حصہ دار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس خاندان کا کاروبار 4 ملکوں میں پھیلا ہؤا ہے۔ احمد نورانی کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم باجوہ کے بچوں اور اہلیہ کا شراکتی کاروبار 2002 سے پہلے نہ ہونے کے برابر تھا۔ تاہم جوں ہی عاصم باجوہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے اسٹاف میں شامل ہوئے تو ایک طرف ان کے فوجی کیرئیر میں ترقی شروع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی ان کے خاندان کا کاروبار چمکنے لگا جس کی مالیت کئی ملین ڈالر ہے۔

احمد نورانی نے جنرل عاصم باجوہ کی تردید سامنے آنے کے بعد اپنے متعدد انٹرویوز میں کہا ہے کہ یہ رپورٹ کسی ’ذریعے یا رابطے‘ کے دعوے پر منحصر نہیں ہے بلکہ انہوں نے سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر سرمایہ کاری ، املاک اور کاروباری مفادات کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔ یہ دستاویزات ’فیکٹ فوکس‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں شامل کردی گئی ہیں۔ جنرل عاصم اگر ان دستاویزات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو وہ واضح کریں کہ یہ سرکاری دستایزات غلط اور جعلی ہیں۔ ان کا خاندان امریکہ یا دوسرے ملکوں میں کسی قسم کے کاروبار میں ملوث نہیں ہے۔ احمد نورانی کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تردید آنے تک وہ اپنے اس دعوے پر قائم ہیں کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ اور بیٹوں کے بیرون ملک املاک اور کاروبار ی اثاثے ہیں۔

یہ صورت حال اور اس پر اختیار کی گئی سرکاری خاموشی کرپشن کے خلاف عمران خان کے مقدمہ کو ہی کمزور نہیں کرتی بلکہ یہ سنگین سوال بھی سامنے لاتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فوجی عہدہ پر سرفراز ہوتے ہوئے ناجائز طور سے اثاثے جمع کرتا ہے تو کیا وہ جوابدہی سے مبرا ہے۔ اس رویہ سے حکومت ہی کی نہیں بلکہ فوج کی بطور ادارہ شہرت و دیانت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا

by-mujahid -ali-published -in -humsub-

جنرل عاصم باجوہ کیس: کیا فوجی کرپشن پر بات کرنا منع ہے؟