مشیر کتنے اور اختیارات کیا؟ عدالت کا تفصیلی فیصلہ

اسلام آبادہائیکورٹ نے وزیرا عظم کے مشیران کو حکومتی امور اور وزارتوں میں مداخلت سے روک دیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر کو وزیر کا درجہ دینے سے اُسے وزیر کے مساوی اختیار ات کا کام کرنے کی اجاز ت نہیں دی جاسکتی،وزیر اعظم پاکستان عمران خان صدر مملکت کو صرف پانچ مشیرتقرر کرنے کا کہیں،کسی مشیر کے تقرر کی اہلیت کا تعین نہیں کیا گیا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

اسلام آبادہائیکورٹ نے چیئرمین اثاثہ جات ریکوری یونٹ شہزاد اکبر کی تقرری کیخلاف کیس کا فیصلہ جاری کردیا ہے۔ نو صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے تحریر کیا ہے۔

تحریری فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ صدر مملکت کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 93کے تحت وزیر اعظم کے پانچ معاونین کے تقرری کی اجازت حاصل ہے، وزیراعظم پاکستان عمران خان صدر مملکت کو صرف پانچ مشیروں کے تقرر کرنے کے لیے کہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون میں وزیراعظم کے مشیر کو وزیر کا درجہ دینے سے اُسے وزیر کے مساوی اختیار ات کا کام کرنے کی اجاز ت نہیں دی جاسکتی،قانون کے مطابق کسی وزارت کا سیکرٹری اُس کا آفیشل ہیڈ ہوتا ہے جس کی ذمہ داریوں میں موثر طریقے سے انتظامی امور چلانا اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے،مشیر کا کسی وزارت کی پالیسی امور یا وفاقی حکومت کے امور میں کوئی کردار نہیں ہوتا،مشیر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شرکت بھی نہیں کر سکتا تاہم اگر وزیر اعظم کو کسی مشیر کی حاضری کی ضرورت ہو تو خصوصی دعوت نامے کے زریعے اُسے شامل کیا جاسکتا ہے،وزیر اعظم کی منظوری کے بغیر اہم پالیسی کے فیصلے نہیں کیے جاسکتے اور یہ ایک وزیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیر اعظم کو پالیسی بنانے میں معاونت فراہم کریں۔

فیصلے کے مطابق سرکاری امور کی انجام دہی میں وزیر تک پہنچنے کا ذریعہ سیکرٹری،جوائنٹ سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری کے علاوہ کوئی افسر نہیں ہوسکتا،تقویض کردہ وزراء،سیکرٹریز ہی حکومت کے سرکاری ترجمان ہوسکتے ہیں،ایک مشیر مجلس شوریٰ کی کارروائی میں شامل بھی ہوسکتا ہے،گفتگو بھی کرسکتا ہے لیکن اُسے ووٹ کا حق حاصل نہیں ہے،مشیر کسی وزارت کے پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا،یہ آئین پاکستان کی اس اسکیم کے تحت ہے جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حکومتی امور عوام کے منتخب نمائندوں کے زریعے سے ہی چلائے جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا نیب قانون (فوجی آمر پرویز مشرف کا دور) 1999میں بنایا گیا،مشیر بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر نیب یا ایف آئی اے کے امور میں مداخلت نہیں کرسکتا، مشیر کی ایسی مداخلت خلاف قانون ہے،وزیر اعظم پاکستان عمران خان صدر مملکت کو صرف پانچ مشیرتقرر کرنے کا کہیں،کسی مشیر کے تقرر کی اہلیت کا تعین نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے فیصلے میں مزید کہا کہ درخواست گذار نے چیئرمین اثاثہ جا ت ریکوری یونٹ شہزاد اکبر کی تقرری کو چیلنج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ شہزاد اکبر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے نیب اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں پر اثر انداز ہورہے ہیں،درخواست گذار نے اپنے دعویٰ کے حق میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے علاوہ کوئی مواد پیش نہیں کیا گیا۔سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے میں شہزاد اکبر کیخلاف آبزرویشنز دی گئی تھیں۔

فیصلے کے مطابق درخواست گذار نے اپنی درخواست میں شہزاد اکبر کیخلاف سپریم کورٹ میں اٹھائے گئے اعتراض کا حوالہ دیا،اُس مقدمے کا ابھی تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے،یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ چیئرمین اثاثہ جات ریکوری یونٹ شہزاد اکبر کی تقرری کیخلاف مقدمے کا فیصلہ سپریم کورٹ سے آنا ابھی باقی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ چیئرمین اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تقرری سے متعلق معاملہ پر جائزہ لینے کے معاملے پر خو د کو روک رہی ہے۔

Pakistan24.tv-report