عقیل بخاری جاپان میں کک باکسنگ میں مقبول

جاپان میں مقیم پاکستانی نژاد جاپانی عقیل بخاری جاپان میں کک باکسنگ جیسے جارحانہ کھیل میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔

اٹھائیس سالہ عقیل بخاری جاپان میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری شخصیت حسن بخاری کے صاحبزادے ہیں عقیل بخاری کی والدہ جاپانی شہری ہیں تاہم چھ فٹ سے زائد قد و قامت والے عقیل بخاری جاپان میں قومی سطح کے تین اہم ٹورنامنٹس میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن کررہے ہیں بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کررہے ہیں
عقیل بخاری کے والد حسن بخاری کا تعلق پاکستان کے پہلوانوں کے شہر گجرانوالہ سے ہے جو ماضی میں خود بھی پاکستان کے نامور پہلوانوں کے ساتھ پہلوانی کرتے رہے ہیں جبکہ عقیل بخاری کے دادا بھی تقسیم ہند سے قبل متحدہ ہندوستان کے معروف پہلوان رہ چکے ہیں جنہوں نے انگریز سرکار کے زمانے میں خوب نام کمایا تھا۔

عقیل بخاری کے والد حسن بخاری نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عقیل بخاری کو کک باکسنگ میں جانے کے لیے کبھی نہیں کہا تھا لیکن گھر میں میری اور میرے والد کی پہلوانی کی تصاویروں نے ضرور اسے پہلوانی کی جانب مائل کیا ہوگا۔

حسن بخاری کے مطابق عقیل بخاری رنگ میں جتنا طاقتور اور جارح مزاج نظر آتا ہے عام زندگی میں اتنا ہی ملنسار اور فرمانبردار بیٹا ہے، وہ خوش ہیں کہ وہ جاپان میں پاکستان کی نیک نامی کا سبب بن رہا ہے تاہم وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں وہ اپنے خاندانی کاروبار پر زیادہ توجہ دے
حسن بخاری کے مطابق عقیل بخاری کے مقابلے جاپان کی ٹی وی پر بھی ٹیلی کاسٹ ہوتے رہتے ہیں۔

حسن بخاری نے کہا کہ جاپان میں پاکستانی اور جاپانی خواتین کے درمیان شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کی نئی نسل بہت ذہین ہے اور جاپان میں یہ نئی نسل دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید پروان چڑھانے اور جاپان میں پاکستان کی نیک نامی کا سبب بنے گی۔