عرب امارات اور اسرائیل میں امن معاہدہ؟

افضال ریحان
———

آج کل میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا میںاسرائیل کے بارے میں ایک شور ہے، ہر دوست پوچھ رہا ہے کیا ہوا ہے؟ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل سے کیا معاہدہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں گراس روٹ لیول پر اسرائیل ایک قابل نفرت نام ہے کیونکہ ہر نماز یا جمعہ کے بعد دعا میں ہم اسرائیل اور یہودیوں کی بربادی کیلئے دعائیں ضرور مانگتے ہیں ۔ ایسے میں اگر کوئی اسرائیل کا جواز بیان کرے گا تو راسخ العقیدہ ذہن اس کا منہ توڑ دینا چاہے گا کیونکہ اس نے صرف ایک تصویر دیکھ رکھی ہے ۔ درویش نے آج سے کوئی دو دہائیاں قبل تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کے لئے ایک مفصل و مدلل آرٹیکل بعنوان ”امریکا کی اسرائیل سے محبت کا راز“ تحریر کیا تو بہت سے نوجوانوں نے رابطہ کرتے ہوئے مزید تفصیلات طلب کیں اور کہا کہ ہم نے تو زندگی میں پہلی بار یہ باتیں پڑھی ہیں۔ابھی 13 اگست کو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر کے ذریعے اسرائیل اور عرب امارات میں جوامن معاہدہ کروایا ہے اس کے تحت دونوں ممالک نہ صرف یہ کہ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کریں گے بلکہ توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی و سیاحتی حوالوں سے معاہدے کرتے ہوئے اسٹرٹیجک پارٹنر بنیں گے، باہمی پروازیں بھی شروع ہونگی اور عرب مسلمان مسجد اقصیٰ میں نمازیں بھی پڑھ سکیں گے۔ امریکہ کو امید ہے کہ سوڈان، عمان اور بحرین بھی جلد اس نوعیت کے معاہدوں میں شامل ہو جائیں گے اور سعودی عرب سے بھی اسرائیل کو تسلیم کروانے کیلئے کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔ سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے کی بات تو ہو چکی ہے۔ مڈل ایسٹ میں قیام امن کا راگ الاپتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مشیر کو خصوصی طور پر اس امر کی وضاحت کرنے کیلئے کہا کہ ہم اسے سیدنا ابراہیم ؑ کے ساتھ کیوں منسوب کر رہے ہیں؟ بتایا گیا کہ سیدنا ابراہیم ؑ یہودیوں اور عربوں دونوں کیلئے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں اور تینوں بڑے مذاہب، مسیحیت، یہودیت اور اسلام انہی کی پیروی کے دعویدار ہیں، اس لئے خطے میں قیام امن کے اس تاریخی معاہدے کو ان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے دراصل ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ صدارتی انتخابات میں اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنے خلاف اپنے عوام کا غم و غصہ کم کرنے کے لئے اس معاہدے کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا ہے۔ ایک طرف یہ کہا گیا کہ ویسٹ بینک کے جن علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا سیاسی نعرہ لگایا گیا تھا یورپی یونین کی مخالفت کے بعد ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا گیا کہ فی الحال اس پر عمل کو روک دیا گیا ہے ساتھ ہی اگلے روز کہا گیا کہ ہم نے وقتی طور پر یہ عندیہ ظاہر کیا ہے مکمل دستبرداری نہیں کی، جو بھی ہے اس میں قیام امن سے زیادہ سیاسی مفاد کے حصو ل کی خواہش بہرحال کارفرما ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اس سے پہلے 28 جنوری کو جیرڈکشنر کی سنچری ڈیل کی تقریب جو وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی تھی، شرکت کی تھی جس میں امریکی صدر نے ان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا تھا۔ اس کے بعد 20 جون کو امریکی یہودیوں کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے کھلے بندوں یہ کہا تھا کہ ہم عربوں نے کئی دہائیوں سے اسرائیل کا بائیکاٹ کر کے دیکھ لیا ہے مگر مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اس لئے اب ہم تعلقات کی بحالی کرنے جا رہے ہیں اگر فلسطین کے ایشو پر اختلافات رہ بھی گئے تو انہیں ایک طرف رکھتے ہوئے ہم دیگر تمام شعبہ جات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے۔ایک زمانہ تھا جب اسرائیل کے ساتھ بھرپور جنگیں لڑنے کے بعد 1979ءمیں عرب جمہوریہ مصر کے صدر انور سادات نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے مقبوضہ علاقے واگزار کروائے تھے تو خود عرب لیگ اور OIC میں ایسا طوفان اٹھا تھا کہ مصر کا حقا پانی بند کر دیا گیا حتیٰ کہ اس جرم کی پاداش میں مصری رہنما انور سادات کو گولی مار دی گئی مگر آج وقت کس قدر بدل چکا ہے۔ پوری عرب دنیا میں کہیں کوئی قابل ذکر مخالفت نہیں ہوئی ہے، ماقبل 1994ءمیں اردن نے بھی اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے باہمی تعلقات کا آغاز کیا تو تب بھی اس کی مخالفت نہیں ہوئی، خود فلسطینیوں کے ہردلعزیز لیڈر یاسر عرفات نے بھی اسرائیل کے وجود کو ایک معاہدے کے تحت تسلیم کیا۔ مراکش اور تیونس کے بھی اچھے تعلقات ہیں۔مسلم ورلڈ میں اس وقت صرف دو ممالک ہیں جنہوں نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے ترکی اور ایران۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ترکی خود 1949ءسے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہوئے ہے بلکہ پیہم اس کے ساتھ اچھے خاصے تجارتی تعلقات بھی چلے آ رہے ہیں۔ ترک صدر رجب اردوان نہ صرف خود اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں بلکہ اسرائیلی صدر بھی ان کی دعوت پر ترکی آئے اور ترک پارلیمنٹ سے انہوں نے خطاب بھی کیا جو کسی بھی ملک کیلئے ایک اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ 1911ءکے بعد کچھ سیاسی مصلحتوں کے تحت پیدا ہونے والے گلے شکوؤں کے باوجود اس وقت بھی ترکی کا اسرائیل کے ساتھ تجارتی حجم 6 ارب ڈالر سے زائد ہے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت بھی زوروں پر ہے۔ رہ گیا ایران تو اس پر بحث کی کالم میں گنجائش نہیں بچی ہے۔ یہ درویش کی دلچسپی کا موضوع ہے اس پر اپنے کسی اگلے کالم میں مزید دلچسپ نکات اٹھائیں گے اور پاکستان کو کیا کرنا چاہیے اس پر بھی بحث کی جائے گی بلکہ درحقیقت اب وقت آ گیا ہے کہ OIC اس ایشو پر سعودی عرب کی قیادت میں ٹھوس فیصلہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حوالے سے کچھ قابل عمل مطالبات منوالے۔
jang-