کراچی کے پوش علاقوں سے پانی نکالنا ہماری نہیں کسی اور کی ذمہ داری ہے لیکن وہ بھی ناکام ہوئے

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی کے پوش علاقوں سے پانی نکالنا ہماری نہیں کسی اور کی ذمہ داری ہے لیکن وہ بھی ناکام ہوئے،سندھ حکومت نے شہریوں کی تکالیف میں کمی کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ نواز شریف جھوٹ بول کر باہرگئے،مریم نوازکی نیب آمد پر غنڈہ گردی کی گئی،ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت جس قدر جھوٹ پر اتر آئی ہے اس پر شرم محسوس کرتا ہوں۔

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ کراچی میں بارش کا 90سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے،سندھ حکومت نے شہریوں کی تکالیف میں کمی کیلئے ہر ممکن کوشش کی ہے، شہر کے نشیبی علاقوں میں بارش کا پانی موجود ہے جسے نکالنے کیلئے وقت درکار ہے، بارش مکمل رکنے کے بعد نالوں میں جگہ بنے گی اور گھروں سے پانی نکالا جاسکے گا کراچی کی بڑی شاہراہوں سے پانی نکال دیا گیا ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ نالوں کی صفائی پر اختیارات کی کوئی لڑائی نہیں ہے، نالے کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے پاس ہیں وہی انہیں صاف کرتے ہیں،سندھ حکومت نے اپنے طور پر نالوں کی صفائی کا کام شروع کیا، نالوں کی صفائی کے بعد بھی بارش کے ساتھ کچرا دوبارہ آجاتا ہے اسے روزانہ صاف کیا جاتا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بہت سی چیزیں بہتر کی ہیں جو ماضی میں خراب تھیں، پہلے شاہراہ فیصل چار چار دن بند ہوتی تھی اب چند گھنٹوں میں پانی نکال دیتے ہیں، کراچی کے پوش علاقوں سے پانی نکالنا ہماری نہیں کسی اور کی ذمہ داری ہے لیکن وہ بھی ناکام ہوئے۔

کراچی جیسے شہر کے مسائل صوبائی حکومت اپنے وسائل میں رہ کر حل نہیں کرسکتی ، محدود وسائل میں رہتے ہوئے کراچی کے مسائل حل کررہے ہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ دو بی آر ٹی لائنز کیلئے عالمی اداروں سے فنڈنگ لانے کا عمل پورا کرلیا ہے، صوبائی حکومت نیا ضلع بنانے کیلئے قانونی طور پر دیگر جماعتوں سے مشاورت کے پابند نہیں ہیں،زیادہ آبادی والے ضلع کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنا لوگوں کے فائدے کی بات ہے اس پر سیاسی جماعتوں کو ہمیں سپورٹ کرنی چاہئے، نیا ضلع بنانا کسی بھی حکومت کا انتظامی اختیار ہوتا ہے۔