وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر کے گاؤں یارمحمد کا دورہ کیا جہاں لوگوں نے ملیرندی کے اندر اپنے مکانات تعمیر کررکھے ہیں

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر کے گاؤں یارمحمد کا دورہ کیا جہاں لوگوں نے ملیرندی کے اندر اپنے مکانات تعمیر کررکھے ہیں جس نے بارش کے پانی کے بہاو کو روکا ہوا ہے جبکہ ایک گوٹھ آغا گوٹھ کے نام سے تعمیر کیا گیا ہے اور یہ مکمل گوٹھ ملیر ندی کے اندر واقع ہے ۔
گوٹھ کے لوگوں نے شہری سہولیات کی عدم فراہمی کے بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ سے شکایات کرنا شروع کردی۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں ان لوگوں کے خلاف ایک بڑی شکایت ہے کہ انہوں نے بارش کے پانی کے بہائو کےنالے پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔جس کے نتیجے میں شہر ڈوب رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے شاہراہ فیصل کا دورہ کیا۔ نرسری میں وہ کمرشل گلی کی حالت دیکھنے کے لئے رک گئے جہاں فرنیچر شو رومز واقع ہیں۔ وہاں موجود دکانداروں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ نرسری سے چنیسر ہالٹ کی طرف جانے والا نالہ شاہراہ فیصل کے پار کچھ عمارتوں کی تعمیر کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے ایم ڈی واٹر واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ وہ نالے کا سروے کرے اور اس بات کی نشاندہی کریں کہ کون سی عمارت نالہ کے بہاؤ کو روک رہی ہے اور اس کی اطلاع دیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان تمام ڈھانچوں کو بلڈوز کروں گا جو نالوں کو روکنے اور اس کے نتیجے میں شہری سیلاب کا باعث بنے ہیں۔
مراد علی شاہ اپنے دورے کے دوران ڈرگ روڈ پر واقع شہید منور سہروردی انڈر پاس پر رک گئے۔ انڈر پاس پانی سے ڈوبا ہواتھا اور شاہراہ فیصل سے بائیں طرف راشد منہاس روڈ جانے والی سڑک منہدم ہوگئی ہے۔ سڑک کے نیچے انڈر پاس میں جمع بارش کا پانی نکالنے کے لئے ایک پمپ نصب کیاگیاہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انڈر پاس کو صاف کرنے اور ٹریفک کی بحالی کے لئے سکشن پمپ فوری شروع کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے پی ڈی کراچی پروجیکٹ خالد مسرور کو سڑک کی مرمت اور ٹریفک کی بحالی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے حسن اسکوائر سے نیپا تک یونیورسٹی روڈ کا بھی دورہ کیا اورتمام سڑک کلیئر تھی، سوائے اردو یونیورسٹی اور نیپا چورنگی کے حصے کے۔ واٹر بورڈ اور ڈی ایم سی سڑک کو صاف کرنے کے لئے کوشاں ہیں ، بصورت دیگر ٹریفک معمول کے مطابق چل رہا تھا۔
یوسف گوٹھ: یار محمد گاؤں اور شاہراہ فیصل کے دورے کے بعد ، وزیراعلیٰ سندھ یوسف گوٹھ ، ضلع غربی گئے جہاں بارشوں کے پانی نے تباہی مچا دی ہے۔ لوگوں کو کیمپوں اور محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومت متاثرہ لوگوں کو کھانا ، پانی اور طبی سہولیات مہیا کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی فکر ہے اسی وجہ سے تین دن میں دو بار یہاں کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ میں یوسف گوٹھ کے معاملے کوبہتر طور پر حل کرنے جا رہا ہوں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سیلابی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے دیکھا کہ دو ایکسیویٹرز، دو شاولز نالوں کی بلا کیج کو کھولنے کے لیے کام کررہے تھے ۔نشیبی علاقوں سے پانی کو نکالنے کے لیے پمپ بھی کام کررہے تھے جبکہ لوگوں کو کھانا ، پینے کے پانی ، پانی کے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جارہاتھا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جوکہ گھروں پر تھے انہیں بھی فراہم کیے جارہے تھے۔ گورنمنٹ بوائز اسکول میں شیلٹر کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ذریعہ قائم ایک میڈیکل ریلیف کیمپ بچوں اور بوڑھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ٹیکے لگائے گئے ہیں جبکہ علاقے میں فیومیگیشن بھی کی گئی ہے ۔
ضلعی انتظامیہ نے کشتیاں بھی دستیاب کردی ہیں۔ پاکستان رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی پھنسے ہوئے لوگوں کے انخلا ، خوراک اور رہائش کی فراہمی میں انتظامیہ کی مدد کے لئے موجود تھے۔ گاؤں میں چوبیس گھنٹے امدادی کاموں کے لئے ریونیو اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ یوسف گوٹھ میں امدادی کاموں کے لئے فلاحی تنظیموں کے ساتھ بھی ان کے امدادی کاموں میں مدد اور معاونت کررہی ہے۔
پی ڈی ایم اے: ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ انہوں نے کے ایم سی ، تمام ڈی ایم سیز اور ضلعی کونسل کو اپنے علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے ڈی واٹرنگ مشینیں فراہم کی ہیں۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ