بارش کے اسپیل کےدوران میں نے شہر کا دورہ کیا اور رات کو پھر کراچی کےمختلف علاقوں کا دورہ کیا۔کل میں شاہراہ فیصل سے نہیں جاسکاتھا کیونکہ میری اپنی گاڑی پانی میں رک گئی تھی

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بہت تیز اور شدید بارش ہوئی ہے، اس بارش نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ 1931 اور 1977میں کراچی میں ریکارڈ بارشیں ہوئی تھیں اس کے بعد اب اتنی شدید بارشیں ہوئی ہیں جوکہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ گزشتہ روز 230 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جبکہ پورے کراچی میں اوسطاً 150ملی میٹر سےزیادہ بارش ہوئی ہے اور اگست میں اس سال کراچی میں سرجانی میں604ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید بارش کےدوران شہر میں برساتی پانی جمع ہوا اور کل بارش کے اسپیل کےدوران میں نے شہر کا دورہ کیا اور رات کو پھر کراچی کےمختلف علاقوں کا دورہ کیا۔کل میں شاہراہ فیصل سے نہیں جاسکاتھا کیونکہ میری اپنی گاڑی پانی میں رک گئی تھی اور جب میں گاڑی سے نیچے اترا تو میری کمر تک پانی تھا جب میری گاڑی پھنس گئی تھی تو دوسری گاڑی منگوائی گئی مگر میں نرسری نہیں جاسکاتھا مجھے روک دیاگیاتھا کہ نرسری میں بارہ فٹ تک پانی تھا، ان بارشوں سےبہت شدید نقصان ہوا ہے اور میں لوگوں سے وعدہ کرکے آیاہوں کہ دوبارہ بارشوں کے بعد آکر ان کے مسائل اپنی نگرانی میں حل کرونگا۔اگست میں بدین میں 345،چھور میں 311، بےنظیرآباد میں247ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ دیہی سندھ میں بھی بارشوں سےنقصان ہوا ہے۔ کچے گھر گرگئے ہیں اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور میں نے تمام کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں ۔انہوں نے مزید کہا کہ چیف سیکریٹری سندھ کو نقصانات کا تخمینہ لگانے کا بھی کہا ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں 47افراد چھ جولائی سے کل تک جاں بحق ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز کراچی میں 17اموات بارشوں کےدوران ہوئی ہیں جبکہ پورے سندھ میں 80افراد مون سون اسپیل کےدوران جاں بحق ہوچکے ہیں ، ان میں حیدرآباد ڈویژن میں دس میرپورخاص ڈویژن میں گیارہ اموات ہوئیں ۔انہوں نے کہا کہ دیوار گرنے،بجلی گرنے،کرنٹ لگنے سے اموات واقع ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں بارشوں کے دوران جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کےساتھ اظہار تعزیت کرتاہوں۔جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے انکے ساتھ دلی ہمدردی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ہر ایک گھنٹےبعد فون کرکےصورتحال معلوم کرتے ہیں۔بلاول بھٹو کو تشویش ہے کہ کس طرح فوری نقصان کا ازالہ کیاجائے۔سندھ حکومت نے صوبے بھر میں بارشوں کےنقصانات کےسروے کا حکم دیدیا۔پوش علاقوں میں بھی بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ شہری علاقوں میں کاروبار کے نقصانات کا جائزہ لینے کا کہا ہے اور شہری علاقوں میں گھروں میں پانی گیا ہے اس کی بھی رپورٹ مانگی ہے ۔دیہی علاقوں میں چھوٹےزمینداروں کی فصلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ کچےمکانات گرگئے ہیں۔تمام نقصانات کا سروے کراکر رپورٹ بنائیں گے اوربارشوں کےدوران نقصانات کا سروے کراکر وفاقی حکومت کےسامنے رکھیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ حکومت ان کےساتھ ہے۔دکانداروں کا بہت نقصان ہواہے۔پیپلزپارٹی کی تاریخ ہےکہ وہ نقصانات کا ازالہ کرتی ہے۔کمیٹی بناکر لوگوں کی مدد کرینگے۔وفاقی حکومت سے بھی مدد کی درخواست کرینگے۔یہ نیشنل ڈیزاسٹر ہے۔ہماری ذمہ داری ہے اور وجوہات بتانے پر حقیقت سامنے لانا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب اختیارات کے لئے تڑپ رہے ہیں۔ماضی کےبلدیاتی نظام کےتحت گجرنالے میں پکی لیز دی گیئں۔کراچی میں بہت کام کرناہے۔میرا پیغام لوگوں کے لئے ہے کہ سندھ حکومت ان کےساتھ ہے۔کل پوش علاقے والوں نے بھی بارش کےنقصانات کو محسوس کیا۔کل والے مون سون اسپیل نے ہمیں ہلاکر رکھ دیا ہے۔نالوں کی صفائی کا کام شروع کرینگے اور نالوں کےاطراف جو تجاوزات قائم کی گئی ہیں اُن کا خاتمہ کیاجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں بارش کے کھڑے پانی کی فوری نکاسی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور جلد ہی تمام متاثرہ علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی کردی جائے گی۔
اس موقع پر میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی شہر کی مفصل اسٹڈی کرائیں گے اور مسائل کی نشاندہی کےساتھ ساتھ ذمہ داروں کےنام بھی سامنے آنے چاہیئں۔انہوں نے کہا کہ سو سال میں اتنی بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کا تقرر سندھ حکومت/کابینہ کرے گی کیونکہ یہ سندھ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹر لگائے اور یہ گورنر کا اختیار نہیں کہ وہ ایڈمنسٹریٹر لگانے کی بات کریں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قدرتی آفت میں ہماری مدد کرے۔امید ہےکہ وزیراعظم ہماری مدد کریں گے جیسا کہ انہوں نے کہا بھی ہے مگر یہ نہ ہو کہ وفاقی حکومت اختیار مانگنے لگے۔
انہوں نے کہا کہ تجاوزات کےخلاف آپریشن بلاتفریق ہوگا۔کسی کو چھپانے کی کوشش نہیں کرینگے۔جو تجاوزات ،چائنہ کٹنگ میں ملوث ہے اس کے خلاف کاروائی کرینگے۔گلستان جوہر لینڈ سلائیڈنگ کی رپورٹ آگئی ہے۔کراچی کے ایم سی حدود میں میئر کا اختیار ہے۔کراچی کا بڑا مسئلہ یہ ہےکہ اتھارٹیز بہت ہوگئی ہیں یہاں پر کے ایم سی،ڈی ایم سیز اورکنٹونمنٹ بورڈ کے ادارے کام کررہے ہیں مگر بطور وزیراعلیٰ سندھ کے ان کو ہدایات دینا میرا کام ہے ۔انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر گڑھے ختم کرنے اور پیچ ورک کا کام جلد سے جلد کرینگے۔نئی گاج کاچھو میں بند ٹوٹنے کےبعد کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دادو میں برساتی نالے کی وجہ سے نقصان ہواہے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ وفاقی وزیر امین الحق کا فون آیا تھا۔علی زیدی اور امین الحق نے بھی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔کراچی کی آبادی مردم شماری میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ بتائی گئی ہے۔مردم شماری کے نتائج پر ہمارے اعتراضات ہیں کہ کراچی میں گنتی درست نہیں ہوئی اورسی سی آئی نے مردم شماری کے نتائج کی توثیق نہیں کی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کو بے بس نہیں کیا جبکہ نالوں کی صفائی کا کام تو بلدیاتی نمائندوں کے پاس تھا۔اگر بلدیاتی نمائندے چاہتےتو نالوں کی صفائی کرسکتے تھے۔سب سے زیادہ خرابی ماضی کےبلدیاتی قانون کی وجہ سے ہوئی۔ماضی کےبلدیاتی قانون میں اختیارات تو تھے مگر جواب دہی کچھ نہیں تھی ۔انہوں نے کہا کہ اگر مرادعلی شاہ نے بھی غلط کام کیاتو سزا ہوگی۔ایڈمنسٹریٹر کون ہوگا یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے۔انہوں نے ایک سول کے جواب میں کہا کہ میئر نے خط لکھے ہونگے اور ہم نے ان کے جواب بھی دئیے ہیں۔