160

واہ رے اونٹ … کوئی کل نہ سیدھی


تحریرآفتاب میمن

واہ بھئی واہ! حکومت ہو تو سندھ حکومت جیسی۔ ویسے تو وفاقی حکومت کی من مانیوں کا بھی جواب نہیں۔ پر سندھ حکومت کی رگِ مزاح اور حسِ سنگدلی و بے حسی بے نظیر ہے۔ پوچھے ہو کیسے؟ کیا کیا رونا روئیں۔ کس سے فریاد کریں۔ صرف ایک مثال ہی کافی ہے جو بے حسی سے زیادہ معاشی دہشتگردی اور وہ بھی ریاستی پروردہ ہونے کا عدیم المثال ثبوت ہے۔

          یہ تو سب جانتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے اجناس خورد چاہے وہ گندم ہو یا چاول یا چینی خریدنے کے لئے متعلقہ محکمہ حکومت یا ادارہ سب ہی بینک دولت پاکستان سے کیش کریڈٹ حدود مقرر کرواتا ہے۔ جب حکومت گندم خریدنے کے لئے تیاری کرتی ہے تو فصل کی آمد کا تخمینہ، سٹوریج، فصل کے بعد کی کھپت،  سٹاک جیسے عوامل مدِنظر رکھے جاتے ہیں۔  اِن سب عوامل سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کی زرعی معیشت کو ترقی دینا یا کم از غیر متوازن ہونے سے بچانے  کی سعی کرنا۔ اس لئے اسٹریٹجک ذخائر Strategic Restores کی اصطلاح وجود میں آئی ہے۔ جس ذخائر کا صحیح سلامت ہونا اُتنا ہی اہم ہے جیسے  بیرونی دفاع۔ ایک طرح سے یہ اندرونی دفاعی حکمتِ عملی ہے۔ خوراک کے ذخائر۔ پیٹرول کے ذخائر۔ ایسے اہم ذخائر سے لاپرواہی قوم کے دفاع اور اُس کی بقا کے لئے زہرِ قاتل ہے۔ اب کیا کریں کہ چاہے ۔ اعلیٰ  فوجی قیادت، احتساب کرنے والے ادارے اور سیکورٹی ایجنسیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کتنے ہی مستقل مزاج اور جدوجہد پیہم کا عزم رکھتے ہوں پر معاشی دہشتگردی جو ہمارے وطنِ عزیز کی بنیادوں اور جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ مثلِ اہرمن محشرِ بداماں ہے۔ کئی پہلو یا تو نظروں سے اوجھل ہیں یا پھر وہ ارتکازِ نظر میں کم ترجیحات رکھتے ہیں۔ شاید اس لئے بھی کہ اِس معاشی دہشتگردی کے دور رس نتائج کم ہی لوگوں کو سمجھ میں آتے ہیں۔ یہ بلکل اِسی طرح ہے جیسے سندھ کے صحرائے تھر میں 2013 کے قحط میں آخیر تک معلوم نہ ہوا کہ کس کا روش تھا اور کس کا نہیں۔ جب کہ محکمہ ریونیو کے سٹیڈنگ آرڈرز سے تھوڑی سے شدبدہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ضلع کلٹر، رلیف کمشنر المعروف سینئر ممبر بورڈ آف روینیو، وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرِ خزانہ نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا۔ یہ بلکل اِس طرح ہے جیسے سندھ کے کین کمشنر کو شُگر کین ایکٹ کے مطابق 15 اکتوبر کوشگر مِل مالکان کو مل چلانے کے لئے حکم صادر کرنا ہے کہ دس ایک دن مل کو چالو حالت میں کرنے کے لئے لگ بھی جائیں تو بھی اکتوبر آخیر میں گنّے کی کرشنگ شروع ہوجائے۔ پر اُس سے پہلے سپورٹ پرائیس یا گنّے کی کاشتکار سے قیمت خرید مقرر کرنی ہے۔ جس کے لئے مجوزہ اور مقرر کردہ قانونی فورم ایک صوبائی کمیٹی ہے جس کی سربراہی ایکٹ کے مطابق کین کمشنر کرتا ہے اور مل مالکان، کاشتکار، محکمہ خزانہ کا نمائندہ بھی اُس کمیٹی میں ہوتے ہیں۔ اب اُسے کیا کہتے کہ ملوں کے مالک مُلک کی تقدیر کے مالک ہیں۔ کین کمشنر ایک چھوٹا سا اہلکار ہے۔ جب کمیٹی ہی تشکیل نہ ہو۔ جب صوبائی وزیرِ زراعت اور وزیراعلیٰ اوپر سے ہدایت کے منتظر ہوں تو سپورٹ پرائس کیسے مقرر ہو۔ دسمبر میں جب سردی اپنے جوبھن پر ہوتی ہے اور گنے میں سرکوس اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے تو مالکان مل حکومت کو اشارہ دیتے ہیں اور حکومت کی مشنری حرکت میں آتی ہے۔ پر چینی تو بین الاقوامی مارکیٹ میں ہمہ وقت بہتات کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ شگر ملز کی بہتات اور اُن کے ہتھ کنڈے معاشی دہشتگردی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ سپورٹ پرائیس کے وجہ سے نہیں۔ اِس وجہ سے کہ سندھ کے جن اضلاع میں گنّے کی کاشت پر سرکار کے دیمک زدہ پنّوں میں منع ہے وہاں گنّے کاشت ہورہا ہے۔ شگر ملیں لگی ہوئی ہیں۔ بہترین کاشت زمین سیم زدہ ہورہی ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ بھی اخباروں کی خبروں تک محدود ہے۔ بڑے لوگ ہیں۔ اپنے واٹر کورس بند ہونے سے ڈرتے ہیں۔

          پر چینی کا مسئلہ اُس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ سرکار مِل مالکان سے چینی خرید کر انہیں کی ملوں میں سٹاک کرنے کو رکھتی ہے۔ ایک معمولی انسپیکٹر اور  دو سپاہی۔ کیسے دیکھیں کہ سٹاک ہے بھی یا نہیں۔ ایک طوفانِ بدتمیزی ہے کہ سنبھلنے کو نہیں آتا۔

          چینی اور چینی کے کارخانوں کی ایک عجب کہانی ہے۔ حال ہی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ہاں مقامی چینی کی پیداواری قیمت 448 ڈالر فی ٹن ہے۔ جب کہ بین الاقوامی سطح پر چینی کی قیمت330 ڈالر فی ٹن ہے۔ پچھلے سال ہی حکومتِ پاکستان نے چینی کی برآمدگان / شگر مل مالکان کو قریب ایک لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے پر  اور اپنی جیب بھرنے کے لئے  پندرہ سے بیس ارب روپے  کی سبسڈی عوام کے پیسوں سے دی۔  ہر سال چینی کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔ سال 17-2016ء میں گنے کی پیداوار 73.4 ملین ٹن تھی۔ جو ایک سال میں بڑھ کے 18-2017ء میں 82.1 ملین ٹن ہوگئی۔اگر اسی پیمانہ پر دیکھا جائے تو 15-2014ء میں گنے کی پیداوار  62.8 ملین ٹن تھی جو 18-2017ء میں یعنی تین سالوں میں 31 فیصد بڑھوتی بنتی ہے۔ اس کی جگہ دیکھا جائے تو پاکستان ہر فصل میں  پچھلے چند سالوں سے پیداواری صلاحیت اور رقبہ زیرِ کاشت کھو رہا ہے۔مندرجہ ذیل چند حوالاجات رکارڈ کے لئے کافی رہیں گے:

٭       کپاس کی کاشت سال 18-2017ء میں سال 17-2016ء کے مقابلے میں 6.9 فیصد کم رہی۔

٭       پنجاب جو کپاس سب سے اول رہتا ہے۔ وہاں 9.5 فیصد کم پیداوار ہوئی۔ 18-2017ء میں 6.62 ملین گانٹھیں پیداوار ہوئی جب کہ اس سے پچھلے سال 7.317 ملین گانٹھیں پیداوار ہوئی۔

٭       سندھ میں بھی قریب 2.45 فیصد کم پیداوار ہوئی۔ یعنی پچھلے سال  کے 4.263 ملین گانٹھیں کی جگہ پے 4.149 گانٹھیں پیداوار ہوئی۔

٭       کم پیدوار کی وجہ سے 169  ارب روپےکی کپاس درآمد کرنی پڑی۔

٭       اگر کپاس کی درآمد کی قیمت اور چینی کی پیداواری فائدے کو دیکھا جائے اس طرح کی روش ملک کو دیوالیہ بنا دے گی۔ لیکن ارباب اقتدار حکمران ٹولے کی شگر ملوں اور ان کا پیٹ بھرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ملکی خزانہ اور عوام ان کے لئے ثانوی حیثیت بھی شاید نہ رکھتا ہو۔

٭       کپاس کی بات ہوئی یہ بتاتے چلیں کہ پہلی اپریل 2019 تک آئے ہوئے اسٹاک سے آٹھ لاکھ گانٹھوں کا سودا نہ ہوسکا جب کہ پچھلے سال یہی اعداد اس سے آدھے تھے۔

٭       حالیہ جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تمام زرعی اجناس بشمول کپاس، گندم، مکئی اور دیگر سبزیوں اور میوہ جات  کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ نہ کمی آئی ہے تو گنے کی کاشت میں۔ حالانکہ بینک دولت پاکستان نے حکومت پاکستان کو تجویز کیا کہ گنے کی کاشت   دیگر اجناس کی پیداواری صلاحیت  پراثر انداز ہو رہی  ہے۔ خاص طور کپاس کا زیرِ کاشت رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے۔  اسی صورت میں کپاس درآمد کرنی پڑے گی جو کہ ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں