جتنی بارش پوٹھوہار کے ڈھلوانی میدان میں دس مہینوں میں ہوتی ہے وہ کراچی جیسے شہر پر ایک مہینے میں برس گئی ہے

راولپنڈی اسلام آباد میں بارش کے نکاس کا قدرتی انفراسٹرکچر موجود ہے۔ یہاں اوسط سالانہ بارش 1142 ملی میٹر ہوتی ہے۔ کراچی میں یہ اوسط 175 ملی میٹر سالانہ ہے۔ معلوم اعدادوشمار کے مطابق اسلام آباد میں چوبیس گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ بارش کا ریکارڈ 23 جولائی 2001 کو قائم ہوا جب 624 ملی میٹر بارش برسی یعنی بارہ گھنٹوں میں اوسطا 312 ملی میٹر۔ اسے 23 جولائی کا کلائوڈ برسٹ کہا جاتا ہے جس کی وجہ سے پنڈی اسلام آباد تباہی کی زد میں آیا۔ نالہ لئی کے کنارے بستیوں کی بستیاں پانی کی نذر ہوئیں۔ راجہ بازار سمیت پنڈی کا ڈائون ٹائون بھی ڈوبا۔ اربوں کا نقصان ہوا۔ سو کے قریب افراد جان سے گئے۔ میرے جیسے جن لوگوں نے اس دن پنڈی یا اسلام آباد کے کسی بھی حصے کا حال دیکھا ہے وہ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ کسی شہر میں بارش کیسے قدرتی آفت بنتی ہے۔ کراچی زیادہ گنجان آباد بھی ہے اور اس کا قدرتی و مصنوعی انفراسٹرکچر اپنی بہترین حالت میں بھی ایک سال میں 175 ملی میٹر کی بارش کے پانی کا نکاس ہی کر سکتا ہے جبکہ صرف آج کے دن بارہ گھنٹوں کے اندر کراچی میں 223 ملی میٹر بارش ہوئی ہے اور اس مہینے میں مجموعی طور پر 484 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کراچی نے اپنے حصے کی ڈھائی سال کی بارش ایک مہینے میں وصول کر لی ہے اور اس میں سے بھی سوا سال کی مجموعی بارش صرف 12 گھنٹوں میں نازل ہوئی ہے. دوسرے لفظوں میں جتنی بارش پوٹھوہار کے ڈھلوانی میدان میں دس مہینوں میں ہوتی ہے وہ کراچی جیسے شہر پر ایک مہینے میں برس گئی ہے . اتنی بارش کسی بھی غیر پہاڑی علاقے کے لیے ایک عظیم آفت سے کم نہیں چہ جائیکہ وہ ایک خستہ انفراسٹرکچر کے سہارے کھڑا ہوا بے ہنگم میٹروپولٹن ہو۔ کراچی اور سندھ کے دیگر علاقے ایک بڑی قدرتی آفت کی زد میں ہیں جو ایک بڑی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ سیاسی جگتوں کے مقابلے کی بجائے یہ وقت مقہورومجبور خلق خدا کے کام آنے کا ہے۔ پوائنٹ سکورنگ تو بعد میں بھی ہوتی رہے گی۔