کراچی بارشوں نے مرکزی صوبائی اور شہری حکومت کی کارکردگی عیاں کر دی

کراچی بارشوں نے مرکزی صوبائی اور شہری حکومت کی کارکردگی عیاں کر دی ۔
عوام اور کاروباری برادری کومجموعی طور پرکھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔
تمام ٹیکس معاف ، کاروباری برادری کو بلا سود قرضہ اور پیکیج دیا جائے ۔ میاں زاہد حسین
mian zahid hussain sme 8-5-2020
(28اگست2020)
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ مون سون کی بارشوں نے کراچی کو تباہ کر دیا ہے جبکہ مرکزی صوبائی اور شہری حکومت کے محکموں کی نا اہلی کو بھی روز روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے ۔ نکاسی کا انتظام نہ ہونے کے سبب بارش کا پانی کارخانوں ،گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا ہے جس سے عوام اور کاروباری برادری کومجموعی طور پرکھربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ حکومت اس شہر کو آٖفت زدہ قرار دے ، ہر قسم کے ٹیکس ایک سال کے لئے معاف اور کاروبار وں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے بلا سود قرضے اور پیکیج دئیے جائےں ۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ زیر تعمیر منصوبوں کو بھی بارش سے بہت نقصان پہنچا ہے، گوداموں میں پڑا ہوا اربوں روپے کا تعمیراتی سامان، اشیائے خورد و نوش کے ذخیرے ، برآمدی اشیاء اور دیگر چیزیں ضائع ہو گئی ہیں ، بجلی اور گیس بند ہے ، گٹر اُبل رہے ہیں ،واٹر بورڈ کا کام معطل ہے جبکہ صنعتیں ، ایکسپورٹ اور امپورٹ بند پڑی ہے ۔ مرکزی صوبائی اور شہری ادارے مسائل حل کرنے سے زیادہ الزام تراشی میں دلچسپی لے رہے ہیں اوراپنی عدم کا رکردگی کاجواز90سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کو بتا رہے ہیں جس سے شہریوں کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں گورننس کا نظام کئی دہائیوں سے مسلسل انحطاط کا شکار ہے ۔ ملک کے سب سے اہم شہر کراچی کے لئے ہمیشہ ایمرجنسی اقدامات کئے جاتے ہیں مگر مسائل کا مستقل اور دیرپا حل نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو ملکی معیشت سے کھلواڑ کے مترادف ہے ۔ کراچی کے حالات اس حد تک بگاڑے گئے ہیں کہ ریکارڈ بارش تو کیا معمولی بارش بھی کروڑوں کی آبادی کے اس شہر کو مفلوج کر دیتی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ جبکہ ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے ۔ بارشوں کے نقصانات اور چالیس سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد صوبائی حکومت نے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو نا قابل عمل ہے کیونکہ وہ کام تو اس وقت کریں گے جب اپنے دفتر پہنچیں گے کیونکہ تمام سڑکیں دریا بن چکی ہیں اور شہر کا زیادہ تر حصہ زیر آب ہے ۔ جب تک پی ٹی آئی ، پی پی پی اور ایم کیو ایم کے سیاستدان الزامات کی سیاست کے بجائے متحد ہو کر لوٹ مار کے کلچر کو ختم اور کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہترنہیں بناتے شہر کی حالات خراب ہی رہے گی ۔ موجودہ انفراسٹرکچر بارش برداشت نہیں کر سکتا اور اسکی کمزوری سے ملکی معیشت مسلسل متاثر ہوتی رہے گی ۔ کراچی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اعلیٰ حکام کی جانب سے ہر بار وضاحتیں پیش کرنا اب آپشن نہیں رہا ہے ۔