مردوں کی دنیا میں عورتوں کا گاڑی چلانا

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

مان لیا حضور، عورت بنی ہی اسی لئے ہے کہ اس پہ پھبتیاں کسی جائیں، حظ اٹھایا جائے، ایک آنکھ میچ کے، قہقہہ لگا کے!

ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں کہ معاشرے کے طرز عمل سے واقف ہیں۔ یہی تو سنتے، سہتے زندگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس عمر تک آن پہنچے ہیں۔ قلم اٹھانے پہ اس لئے مجبور ہوئے ہیں کہ دل پہ چوٹ سی لگی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی عورت کے لئے یہ قرون وسطی کا زمانہ ہی ہے۔ جو چاہے کہہ ڈالو، جو چاہے کر ڈالو، سامنے عورت ہی تو ہے، بے وقعت عورت!

آج تکلیف کچھ یوں زیادہ ہے کہ ایک ساتھی قلمکار نے پھبتی کستے ہوئے عورتوں کی ڈرائیونگ پہ لطیفے سنائے ہیں۔ یہ تیر وتفنگ کی بارش ایک عورت کے لئے کوئی نئی بات نہیں لیکن ایک دانشور اور صاحب کتاب ادیب کا قلم عورت کی تضحیک کے لئے اٹھے، کیا معنی رکھتا ہے آخر؟ کاش قلم کی حرمت کا ہی خیال رکھ لیتے!

اوائل عمر کی یاد ہے، جب بھی سڑک پہ کوئی گاڑی ٹیڑھی میڑھی چل رہی ہوتی، پاس سے ہی آواز آتی، ذرا بچ کے، عورت گاڑی چلا رہی ہے۔ ہم گردن گھما کے تاسف سے دیکھتے تو واقعی سٹیئرنگ ویل پہ سختی سے ہاتھ جمائے، سیٹ کی پشت سے ذرا آگے ہو کے ایک خوفزدہ تاثرات والی خاتون گاڑی چلا رہی ہوتیں۔

ذرا اور بڑے ہو ئے، صاحب کی ہمراہی ہوئی۔ عورت کو گاڑی چلاتا دیکھ کے ان کا بھی وہی حال ہوتا۔ آہستہ روی سے چلتی گاڑی کے پیچھے پیچھے رینگتے ہوئے وہ جھنجھلا جاتے اور کہتے، میں شرط لگاتا ہوں اگلی گاڑی کی ڈرائیور کوئی محترمہ ہیں۔ ہم اوور ٹیک کرتے ہوئے مارے تجسس کے گردن گھماتے تو ان کا اندازہ صحیح نکلنے پہ کوفت ہوتی۔ لیکن اس کیفیت نے ایک سوال اٹھانے پہ مجبور کر دیا؟

آخر زیادہ تر عورتیں گاڑی بھرپور اعتماد سے گاڑی کیوں نہیں چلاتیں؟ کیوں سہمی سہمی سی نظر آتی ہیں؟

چشم تصور سے آپ کو کچھ دکھانا چاہتی ہوں۔ بیگم امید سے ہیں اور میاں صاحب کی خوشی دیدنی ہے۔ الٹرا ساؤنڈ ہو رہا ہے، بے چینی سے دل بلیوں اچھل رہا ہے کہ یقیناً ڈاکٹرنی صاحبہ وارث کی آمد کا اعلان کرنے والی ہیں (نہ جانے کس چیز کا وارث؟)۔ یقین جانیے ہم نے چراغ جیسے چہروں پہ موت جیسی زردی کھنڈتی دیکھی ہے جب یہ علم ہو جائے کہ وہ جو بطن میں کہیں بہت دور کا مسافر آن ٹھہرا ہے وہ اس قبیلے سے نہیں جس پہ مرد نام کی کلغی لگی ہو۔ یہ ہے اس دنیا میں عورت کی زندگی کا آغاز!

تیوری بھری پیشانی، ڈھلکےشانے، اور آہیں بھرتا باپ، کوسنے دیتی دادی، ناک بھوں چڑھاتی پھوپھی اور پژمردہ مضمحل نڈھال ماں!

ساؤتھ ایسٹ ایشیا میں الٹرا ساؤنڈ پہ جنس کے تعین ہونے کے بعد لڑکی نام کی مخلوق کا حمل گرانا اتنا عام ہے کہ اب کئی ملکوں میں سرکاری طور پہ الٹراساؤنڈ سے جنس کا تعین کرنے پہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

ہر مرد کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس وقت ان کی پیدائش پہ مبارک بادیوں کے شادیانے کے ساتھ لڈو بٹے ہوں گے وہیں پڑوس میں کسی لڑکی کے پیدا ہونے پہ صف ماتم بچھی ہو گی۔ کسی نے آہ بھر کے کہا ہو گا، پھر سے لڑکی؟ قسمت پھوٹ گئی!

چلیے، ہو گئی لڑکی پیدا، ایک ان چاہی مخلوق۔ اب برتاؤ کا مسئلہ آن پہنچا۔ غذا، لباس، تعلیم، محبت، کہیں بھی کچھ ایک جیسا نہیں۔ لڑکی پرایا دھن ہے سو اس کی تعلیم پہ لڑکے کی طرح خرچ کرنا بے وقوفی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے بہتر ہے جہیز جوڑ لیا جائے۔ متوسط طبقہ ہو تو لڑکی پبلک سکول میں بھیجی جاتی ہے اور لڑکا پرائیویٹ میں۔ تھوڑے بہتر مالی حالات ہوں تو بیٹا لندن امریکہ پڑھنے جائے گا اور بیٹی وہیں کسی بغل کے کالج میں۔ لڑکی کو پرندے کی سی آزادی اور بے فکری عطا کرنا غیرت کے پیمانے میں تولنا ہے۔

چلیے مناسب سی تعلیم بھی ہو گئی، معاشی خود مختاری کی بات چھوڑیے۔ زندگی میں نئے رشتے بنانے کی نوبت آئی تو معلوم ہوا کہ بیٹے صاحب بڑھ بڑھ کے اپنی پسند اور رائے کا اظہار کر رہے ہیں اور بیٹی؟ نہیں بھئی، لڑکی تو اپنی ذات میں بیاہی جائے گی، ہاں بیٹا جنم جنم سے آزاد ہے سو کوئی اعتراض نہیں۔

جیون ساتھی کا ساتھ نباہنے اس کے گھر تک آن پہنچی مگر یہاں تو اسے ایک اور صراط کا سامنا ہے۔ کسی کو اس کا نام بدلنا ہے اور کسی کو اس کی عادات، کسی کو اس کی سوچ پہ اعتراض ہے تو کسی کو اس کا لباس نہیں بھاتا۔ لیجیے دسیوں خشمگیں نظروں اور تنک مزاج رویوں کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہے ہماری عورت۔

یہ تو چاہت کا دعویٰ رکھنے والے رشتوں کا سلوک ہے اور ان کے متعلق کیا کہیں جو نہ جانے کیوں عورت نام ہی سے تاؤ کھا جاتے ہیں۔گھر سے باہر قدم قدم پہ احساس دلانے والے ہزاروں کہ کہ عورت ہونے کی وجہ سے تم ناقص العقل تو ہو ہی سو تمہاری صلاحیتوں پہ اعتبار ذرا مشکل سے آئے گا۔ ہم نے بہت پڑھے لکھے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ڈاکٹر اگر عورت ہے تو اس کے پاس مت جانا، اسے تو اپنے اعصاب پہ ہی قابو نہیں ہوتا۔

اب اس پہ ستم ظریفی دیکھیے کہ ہنسی کس کی اڑائی جا رہی ہے جسے کبھی کسی نے زمین پہ قدم جمانے کا موقع ہی نہیں دیا۔ نہ کسی نے خوشی سے جھوم کے خوش آمدید کہا جب وہ ننھی کلی دنیا میں آئی، نہ محبت بھری نظروں سے اس کی بلائیں لیں، نہ کسی نے اس کو اپنی ذات کا غرور جانا۔

بچپن سے منفی رویوں اور دوسرے درجے کی شہری کے احساسات کے ساتھ جب یہ عورت دنیا میں اپنی جگہ ڈھونڈنے نکلتی ہے تو اچھے بھلے صاحبان علم پاؤں تلے سے زمین کھینچنے کے درپے ہوئے جاتے ہیں۔

سنگلاخ زمین پہ جلتے قدم لئے، آگ اگلتے سورج تلے، بدصورت رویوں کو سہتی، لمحہ لمحہ جیتی اور مرتی، استہزائیہ لہجوں کی مار کھاتی، طنز بھری نظروں کا نشانہ بنتی، جب یہ عورت سڑک پہ ڈری سہمی آہستہ آہستہ گاڑی چلاتی ہے تو محترم ناصر محمود ملک جیسے ادیب ٹھٹھا لگا کر عورتوں کی ڈرائیونگ کے متعلق گھسے پٹے لطیفے سنا کر قارئین کی ہنسی کا سامان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ناصر محمود ملک سے گزارش ہے کہ مقابلہ کرنا اس سے جچتا ہے جسے معاشرے نے شروع سے آپ کے برابر قرار دے کے بڑھنے کا موقع دیا ہو۔ رہ حیات میں ناپسندیدہ ٹھہری مخلوق میں اتنا دم خم کہاں کہ سڑک پہ آپ کی طرح فراٹے سے گاڑی چلا سکے!

معاف کر دیجیے صاحب، یہ آپ کی دنیا ہے!

from-humsub-pages