کورونا وائرس ایک اجتماع کے ذریعے لاکھوں افراد میں منتقل ہوا، یہ اجتماع رواں سال 26فروری کو ہوسٹن میں منعقد ہوا تھا

ہوسٹن : ماہرین کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس ایک اجتماع کے ذریعے لاکھوں افراد میں منتقل ہوا، یہ اجتماع رواں سال 26فروری کو ہوسٹن میں منعقد ہوا تھا۔

نئے کورونا وائرس کی دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ اس کا ایک سے دوسرے فرد میں خاموشی سے منتقل ہونا ہے۔

درحقیقت ایسا بھی ممکن ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر ایک فرد اسے درجنوں افراد میں منتقل کردے۔

ہوسکتا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو مگر اب ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک عام سی کانفرنس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کووڈ 19کا شکار ہوگئے۔

رواں سال 26 فروری کو بائیو ٹیک کمپنی بائیو جین کے عہدیداران بوسٹن کے ایک ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ہوئے، اس وقت کورونا وائرس امریکی عوام کی نظر میں کوئی خاص مسئلہ نہیں تھا جو چین تک ہی محدود تھا مگر وائرس اس کانفرنس میں موجود تھا جو ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا چلا گیا۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ کانفرنس کورونا وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا باعث بننے والا پہلا ایونٹ بن گیا جس نے امریکا، سنگاپور اور آسٹریلیا تک ممکنہ طور پر لاکھوں افراد کو متاثر کیا۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے اور اس میں بتایا گیا کہ موزوں حالات میں کورونا وائرس کتنی دور تک پھیل سکتا ہے۔

تحقیق کے نتائج ایک پراجیکٹ کا حصہ تھے جس کا آغاز مارچ کے اوائل میں ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے براڈ انسٹیٹوٹ نے کیا تھا، یہ ایسا تحقیقی مرکز ہے جو بڑے پیمانے پر جینوم سیکونسنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

جب میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو اس انسٹیٹوٹ کے محققین نے متاثرہ افراد کے خلیات میں موجود وائرسز کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کیا۔

محققین نے میساچوسٹس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ کے نمونوں کو بھی دیکھا جس کی جانب سے بوسٹن میں بے گھر افراد کی پناہ گاہوں اور نرسنگ ہومز میں ٹیسٹنگ کی جارہی تھی۔

سائنسدانوں نے جنوری سے مئی کے دوران کووڈ 19 کے 772 مریضوں کے وائرل جینومز کا تجزیہ کیا، اس کے بعد محققین نے ان تمام جینومز کا موازنہ کرتے ہوئے جاننے کی کوشش کی کہ ہر فرد میں یہ وائرس کہاں سے آیا۔

جب ایک وائرس اپنی نقول بنانا شروع کرتا ہے تو یہ ورثے میں جینیاتی مواد پیچھے چھوڑتا ہے جس کی مدد سے محققین وائرس کی منتقلی کے واقعے کو ٹریک کرسکتے ہیں، محققین نے بتایا کہ یہ کسی فنگرپرنٹ کی طرح ہے جس کی مد سے ہم وائرس کا تعاقب کرسکتے ہیں۔

بوسٹن میں کورونا وائرس کا پہلا مصدقہ کیس 29 جنوری کو چین کے شہر ووہان سے واپس آنے والے فرد میں سامنے آیا تھا، جس کا جینیاتی مواد ویسا تھا جو ووہان میں دریافت کیا گیا۔

مگر براڈ انسٹیٹوٹ کے محققین نے بعد میں بوسٹن میں سامنے آنے والے مریضوں میں اس کے جینیاتی فنگرپرنٹ کو دریافت نہیں کیا، کیونکہ پہلے کیس کو الگ تھلگ رکھ کر وائرس کو پھیلنے سے روک دیا گیا تھا۔

مگر فروری میں محققین نے بوسٹن میں 180 دیگر افراد میں دریافت کیا کہ انہوں نے دیگر تک اس وائرس کو پھیلایا۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بوسٹن میں بیشتر کیسز کے جینیاتی فنگرپرنٹ یورپ کے ابتدائی کیسز سے مماثلت رکھتے تھے کیونکہ کچھ افراد اس وائرس کو براہ راست یورپ سے اپنے ساتھ لے آئے تھے۔

جب ماہرین نے گہرائی میں جاکر دیکھا کہ کن مقامات سے یہ وائرس شہر بھر میں پھیلا تو انہوں نے دریافت کیا کہ میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے مریضوں میں ایک جیسی اقسام نہیں پائی جاتیں، جس سے عندیہ ملا کہ یہ ہسپتال وائرس پھیلنے کا ذریعہ نہیں۔

مگر ایک نرسنگ ہوم میں ایسا ہوا جہاں مقیم 87 فیصد مریض اور 37 فیصد عملہ کووڈ 19 سے متاثر ہوا اور محققین نے ان مین وائرس کی 3 اقسام کو شناخت کیا، تاہم ان میں سے ایک قسم 90 فیصد کیسز کا باعث بنی۔

اس طرح کے بڑے پیمانے پر سامنے آنے والے کیسز کورونا وائرس کی خصوصیت ہے جس میں وائرس کے پھیلاؤ کے لیے موزوں مقام پر ایک متاثرہ فرد درجنوں افراد کو بہت کم وقت میں متاثر کرسکتا ہے۔

تاہم ایسے واقعات بہت زیادہ نہیں ہوتے، مگر جب ہوتے ہیں تو طبی ماہرین کو وائرس کی صلاحیت دنگ کردیتی ہے۔ نرسنگ ہوم میں پھیلنے والا وائرس چاردیواری سے باہر نہیں جاسکا مگر بائیوجین کی کانفرنس میں جب وائرس نمودار ہوا تو تحقیق کا رخ بالکل بدل گیا۔

محققین اس کانفرنس میں شریک افراد میں 28 وائرل جینوم سیکونسز تیار کرنے میں کامیاب رہے اور ہر ایک میں ایک ہی قسم سی

2416ٹی کو دریافت کیا گیا۔ اس کانفرنس میں یورپ سے آنے والے افراد نے بھی شرکت کیتھی اور یہ ممکن ہے کہ وہاں سے آنے والا کوئی فرد اپنے ساتھ وائرس کی اس قسم کو لے آیا۔

مگر یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وائرس بوسٹن میں کانفرنس سے ایک ہفتے یا اس سے پہلے پہنچ چکا ہو اور کوئی اسے اپنے ساتھ کانفرنس میں لے گیا۔

اس کانفرنس میں شریک افراد نے گھنٹوں ایک ساتھ ایک دوسرے کے قریب رہ کر گزارے، جہاں ہوا کی نکاسی کا نظام ناقص تھا جبکہ فیس ماسکس کا استعمال بھی نہیں کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وائرس تیزی سے پھیلا۔

کانفرنس میں شریک افراد کے اندر یہ وائرس ایک اور قسم جی 26233 ٹی میں تبدیل ہوا اور جن کے اندر یہ قسم بنی، جب اس نے دیگر افراد یں اسے منتقل کیا تو وہ دوہری اقسام والے وائرسز کا شکار ہوئے۔

اس کے پھیلاؤ کا سلسلہ پھیلتا چلا گیا، یہاں تک کہ بے گھر افراد کے ایک مرکز میں 51 فیصد افراد میں سی 2416 ٹی کو دریافت کیا گیا جبکہ 54 میں دونوں اقسام دیکھی گئیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یہ اس کانفرنس سے جڑا ہوسکتا ہے، یہ ہمارے لیے سرپرائز کی شکل میں سامنے آیا، محققین کے تخمینے کے مطابق بوسٹن میں 20 ہزار سے زائد افراد اس کانفرنس سے پھیلنے والے وائرس سے متاثر ہوئے۔ مگر یہ سلسلہ یہاں تھما نہیں بلکہ محققین نے دیگر امریکی ریاستوں جیسے ورجینیا،نارتھ کیرولائنا اور مشی گن سے حاصل کیے گئے نمونوں میں اسے دریافت کیا، جبکہ یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا تک بھی پہنچا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے لیے یہ تعین کرنا ناممکن ہے کہ بوسٹن میں ہونے والی کانفرنس کئی ماہ اب تک یہ وائرس کتنے افراد کو اپنا ہدف بنایا جاچکا ہے، مگر ہمارے خیال میں یہ تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے۔

اس کانفرنس کو اب 6 ماہ ہوگئے ہیں اور محققین کا کہنا تھا کہ یہ نتائج ہر ایک کے لیے انتباہ ہیں جن کے خیال میں وائرس کو قابو کیے بغیر زندگی پھر معمول کی جانب لوٹ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک برا فیصلہ لاتعداد افراد کو متاثر کرسکتا ہے، جن میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جن کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہو۔
ARY-report