فالج کے شکار مریضوں کو انتقال خون کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے‘

واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے چوہوں پر کی جانے والی ایک تحقیق کے بعد بتایا کہ فالج کے حملے کے بعد برین ڈیمیج یا دماغ کی شریانوں کو پہنچنے والے نقصان سے مریض کو بچانے کے لیے انتقال خون ایک ممکنہ اور بہتر علاج ہوسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سائنس دانوں نے جب چوہوں پر یہ تجربات کیے تو یہ پتا لگا کہ انہیں جب ایک صحت مند چوہے کا خون بذریعہ انجکشن دیا گیا تو اسٹروکس کے شکار چوہوں میں بیماری کی کمی کی علامات نظر آئیں۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ خون کی منتقلی کے بعد اسٹروکس کے حملے کے بعد جو پروٹین دماغ کے سیل کو نقصان پہنچاتا ہے اس میں کمی آجاتی ہے۔

شعبہ میڈیسن میں تبدیلی خون ایک بڑھتا ہوا موثر طریقہ علاج سمجھا جارہا ہے، جوکہ دیگر کیفیت میں علاج کےساتھ ساتھ کورونا وائرس اور پارکنسن کی بیماریوں میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

اس مقالے کی رائٹر اور ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کی نیورو سائنٹسٹ، پروفیسر صوفی رین اور انکے ساتھیوں نے اپنے تجربات کے دوران خون کی تبدیلی کے ذریعے 333 نر چوہوں پر اس تجربے کو آزمایا، اور چوہوں پر جب اسٹروکس کا حملہ ہوا تو سات گھنٹوں بعد انھیں خون کا انجکشن لگایا گیا جوکہ کامیاب رہا۔

فالج کی وہ علامات جو ایک ہفتہ قبل سامنے آجاتی ہیں

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ فالج کی یہ انتباہی نشانیاں مختلف شکلوں میں اصل دورے سے ایک ہفتہ قبل ہی سامنے آنے لگتی ہیں۔

جسم کے ایک حصے کا سن ہوجانا یا چلنا ناممکن ہوجانا

بولنے سے قاصر ہوجانا یا باتوں کو سمجھ نہ پانا

بہت زیادہ ذہنی الجھن

ایک جانب سے چہرے ڈھلک جانا اور مسکرانے کے قابل بھی نہ رہنا

شدید سردرد اور قے

ایک یا دونوں آنکھوں سے دیکھنے میں مشکل کا سامنا

چلنے میں مشکلات کا سامنا

کچھ نگلنا مشکل ہوجانا

جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مشکل

جسمانی توازن میں کمی کے باعث چلتے ہوئے لڑکھڑانا، شدید کمزوری وغیرہ

ان علامات کا احساس ہوتے ہی اگر فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کیا جائے تو آپ اپنی یا کسی اور فرد کی زندگی بچا سکتے ہیں۔
ARY-report