پاکستان کا فائیٹ بیک، جیمز اینڈرسن کی کلاس اور پاکستانی مداحوں کو انگلینڈ کا انتظار

اگرچہ سیریز ہارنا مایوس کن تھا مگر مجموعی طور پر ایک نوجوان ٹیم کے لیے یہ بہت مثبت تجربہ رہا۔

یہ واقعی بھرپور جوش اور جذبے سے کھیلی گئی مقابلے سے بھرپور ایک سیریز تھی۔شائقین کی عدم موجودگی میں ایک ایسا حوصلہ افزاء ماحول پیدا ہواجہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور منیجمنٹ نے حریف کھلاڑیوں کو عمدہ کارکردگی پر سراہا۔

میدان میں اختلاف رائے یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے نہ صرف کھیل کی ساکھ کو برقرار رکھا بلکہ اس کا بھرپور لطف بھی اٹھایا۔ یہ ماحول تو اعمال اور پھر اس پر ردعمل کے سبب ہی پیدا ہوتا ہے، اگر کھلاڑی ایک دوسرے اور کھیل کا احترام کریں تو ماحول سازگار ہی رہے گا۔

بائیو سیکیور ماحول میں اس نئی زندگی کا تجربہ بھی خوشگوار رہا ہے، ہمارے لیے یہ پاکستان میں بوٹ کیمپ کی طرح ہی تھا، جہاں آپ کھانا، ٹریننگ اورکھیلنا سب اکٹھے ہی کرتے ہیں۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ بعض اوقات کھلاڑیوں کے لیے کتنا دشوار ہوتا ہے کیونکہ یہاں آپ سوئچ آف نہیں کرسکتے، باہر نہیں جاسکتے، مختلف جگہوں کا دورہ نہیں کرسکتے۔

لیکن مجموعی طور پر ہم ایک گروپ کی طرح اکٹھے رہے اور ہم نے ایک دوسرے کی کمپنی کا بہت لطف اٹھایا۔ زیادہ وقت ایک ساتھ گزارنے سے اس گروپ کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔یہ ایک طویل دورہ تھا تاہم اگر یہ معمول بن جاتا ہے تو پھر کھلاڑیوں اور اسٹاف کے لیے اپنے اہل خانہ سے اتنا عرصہ دور رہنا مشکل ہوگا۔

لیکن ہم نے حال ہی میں تین ماہ گھروں میں گزارے تو ہم سب ٹریننگ اور کھیل کے آغاز کے لیے بیتاب تھے۔

کھیل کے اختتام پر ہم نے ایک ساتھ بیٹھ کر سیریز کے مثبت پہلوؤں کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی جہاں ہمیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔ بہتری کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے۔ ہم ایک گروپ کی حیثیت سے تبادلہ خیال بھی کرتے ہیں اور پھر کھلاڑیوں سے انفرادی خامیوں پر بھی بات کرتے ہیں جس کے بعد انہیں تحریری طور پر ایک پلان دیا جاتا ہے۔

ہمیں مزید محنت اور ایک مضبوط انداز میں واپس آنے کی ضرورت ہے۔

ایک مضبوط پوزیشن کے باوجود پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست نے ہمیں مایوس کردیا تھا مگر اس کے باوجود مثبت پہلو یہ رہا کہ کھلاڑی ان مشکل کنڈیشنز اور حالات میں بھی لڑتے رہے۔ محمد رضوان، شان مسعود اور بابراعظم سب سے نے اچھا کھیل پیش کیا۔

آخری ٹیسٹ میچ میں مزاحمت کا سہرا ہمارے کپتان اظہر علی کے سر سجتا ہے۔ وہ بہت سخت دباؤ کا شکار تھے مگر انہوں نے اعصابی مضبوطی اور زبردست کردار کا مظاہرہ کیا۔ اس اننگز نے ہمارا میچ بچالیا۔ کسی بھی بلے باز کی سنچری بہت اہم ہوتی ہے مگر اظہر علی کی یہ سنچری کچھ خاص ہی تھی کیونکہ انہوں نے اس کے لیے بہت محنت کی تھی۔

ان کی طرف پھینکی گئی ہر گیند اور وہ سب محنت جو ہم نے کی تھی بالآخر کام آگئی۔

یہ سیریز ہمارے باؤلرز کے لیے اپنی فٹنس اور مہارت دکھانےاور وقار یونس جیسے عظیم کرکٹر سے سیکھنے کا ایک بہترین موقع تھا۔ ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی ابھی نوجوان ہیں جبکہ دوسری طرف انگلینڈ کے پیسرز کی وکٹیں ملائی جائیں تو 1114 ٹیسٹ وکٹیں بنتی ہیں۔

اس سیریز میں ہمارے باؤلرز نے بہت کچھ سیکھا اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ شاہین شاہ آفریدی نے میچ کے اختتام پر جیمز اینڈرسن سے باؤلنگ کی ٹپس لیں۔ یہ ٹپس مستقبل میں ان کے کام آئیں گی۔

جیمز اینڈرسن کا 600 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنا حیران کن تھا۔ انہوں نے غیرمعمولی نظم وضبط، حوصلہ ا فزائی اور عزم کا مظاہرہ کیاکیونکہ فاسٹ باؤلنگ کرکٹ کا سب سے مشکل کام ہے۔ وہ خود پر کنٹرول، حکمت عملی بنانے میں ہوشیاری اور ہمیشہ بلے باز کو چیلنج کرتے ہیں اور یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے حاضر ہیں۔ انہیں ریڈ بال کرکٹ سے پیار ہے کیونکہ وہ صرف طویل طرز کرکٹ کے لیے ہی دستیاب ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہمارے باؤلرز خاص طور پر نوجوان باؤلرز کو ترجیح دینا ہوگی۔

میں اپنےان تمام پرستاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی۔ اگرچہ اسٹیڈیم میں کوئی تماشائی موجود نہیں تھا لیکن ہم نے محسوس کیا ہے کہ اس نوجوان ٹیم میں صرف بہتری ہی آئے گی۔

میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے اس ٹور پر ہماری میزبانی کی۔ براہ راست اس کا تجربہ کرنا ایک ناقابل یقین کام تھا لیکن اس میزبانی میں نہ صرف کھلاڑیوں کا خیال رکھا گیا بلکہ انہوں نے بھی خود کو محفوظ سمجھا۔

مستقبل کو دیکھتے ہوئے ، ہم انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے جلد دورہ پاکستان کو سراہیں گے۔

حال ہی میں ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے پاکستان میں کھیلے گئے میچوں میں انگلینڈ کے بہت سے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ پھر ہم نے سیزن 20-2019 میں سری لنکا، بنگلہ دیش ایم سی سی کی میزبانی کی، سیزن 18-2017 میں ہم نے ورلڈ الیون اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی کی تھی۔

دنیا بھر میں موجود کھلاڑی اب پاکستان میں فراہم کردہ سیکورٹی کے بارے میں بخوبی جانتے ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی کس حد تک کرکٹ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ کے مداح دنیا کے بہترین کرکٹرز کو اپنے سامنے کھیلتا دیکھنے کے خواہشمند ہیں، لہٰذا ہر شخص اس دورہ کا منتظر ہے۔

ایک انداز سے یہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا طریقہ ہے۔ کرکٹ کے مداحوں اور کھیل کے فروغ کے لیے کرکٹ کی دنیا کو ایک دوسرے کی مدد کرنے کی اشد ضرورت ہے