جدہ کی ڈائری۔۔ امیر محمد خان

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یوم آزادی کی پرجوش تقریب

پاکستان تحریک انصاف سعودی عرب کے صدر عقیل آرائیں اور انکی ٹیم کی جانب سے یوم آزادی کے حوالے سے جدہ کے ایک مقامی ہوٹل میں پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پی ٹی آئی کے مرد اور خواتین عہدیداروں کارکنوں نے بھی بھرپور شرکت کی تقریب کی صدارت عقیل آرائیں نے کی اس موقع پر عقیل آرائیں نے اپنے صدارتی خطاب میں یوم آزادی پر سب کو مبارک بآد دی اور کہا کہ پاکستان نظریہ کی بنیاد پر معرضُ وجود میں آیا اور ہم آج عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کی حفاظت کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر دیں گے عمران خان کی مدبرانہ اور مخلصانہ قیادت میں پاکستان ترقی و خوشحالی کی منازل پر تیزی سے آگے بڑھے گا اور عمران خان تمام بحرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور عالم اسلام میں ایک منفرد مقام حاصل کریں گے انہوں نے کرونا وائرس میں پاک کیمونٹی کے لئے شاندار خدمات ادا کرنے والوں کو بہترین کارکردگی پر شیلڈ سے نوازا اور پی ٹی آئی کے مرد اور خواتین کارکنوں اور عہدیداروں کو انکی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تعریفی اسناد سے نوازا جس میں خصوصی طور پر قاضی الیاس۔ مرزا مدثر۔ شعیب الطاف اسماعیل رضا جبران زمان۔ حمید رمضانی طارق ندیم۔ خواجہ حماد نیاز احمد اکرام اللہ خان۔ ثنا شعیب۔ سارہ قمر نادیہ عثمان حفصہ اور عروج اصغر کے علاوہ بہت سارے مرد و خواتین عہدیدار اور کارکن شامل تھے۔ قاضی الیاس۔ اسماعیل رضا۔ ثنا شعیب۔ سید جبران زمان حمید رمضانی شعیب الطاف طارق ندیم مرزا مدثر نیاز آحمد نزیر چغتائی اور کئی دوسرے مقررین نے ا پنے اپنے خطاب میں یوم آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پی ٹی آئی حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا امید ظاہر کی کہ عمرن خان تمام بحرانوں پر قابو پالیں گے سعودی عرب اور پاکستان روحانی اور لازوال رشتوں میں منسلک ہیں اوربھارت کے منفی پروپیگنڈہ پر اسکی پر زور الفاظ میں مزمت کی گئی اور کہا گیا کہ الحاقُ پاکستان کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ہم اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ اور ایک سال سے نافذ کرفیو ختم کیا
تقریب میں الریاض سے سردار طلعت خصوصی طور پر پی ٹی آء کی نمائیند گی کرتے ہوئے شریک ہوئے۔ جدہ سٹی باڈی کے سینئر نائب صدر طارق ندیم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شرکت کی اس موقع پر بسام نے قومی ترانوں سے سامعین کا جوش و جذبہ خوب بڑھایا اور وہ پاکستانیت کے جذبہ سے سرشار ہو کر رقص کرتے رہے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے اس موقع پر یوم آزادی کا بڑا کیک کاٹا گیا اور یوں یہ شاندار اور پر وقار تقریب رات گئے تک جاری رھی۔ حاضرین محفل کی پر تکلف ڈنر سے تواضع کی گئی۔ آخر پر پاکستان سعودی عرب اور عالم اسلام کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعا کرائی گئی اور صدر محفل عقیل آرائیں نے سب کا شکریہ ادا کیا۔

شیخ عبدالرحمن سیدس کے ہاتھوں ایک امریکی نے اسلام قبول کیا۔
ایک امریکن نے گزشتہ دنوں شیخ عبد الرحمن سدیس کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا، امریکن جسکا نام اسٹیف تھا ، شیخ سیدیس سے سعودی عرب میں رہائش کے دوران اچھی ہم آہنگی، رواداری اور سعودیوں کی مہمان نوازی نے اسٹیف کواسلام قبول کرنے پر آمادہ کیا ۔ سعودی عرب کے شہر ابھاء میں رہائش پذیر تھا جنرل پریزیڈنسی برائے امور مساجد حرام و مسجد نبوی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان کے ہاتھوں اسلام قبول کیا ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اسٹیف نے شیخ سدیس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ آج میں اپنے آپ کو ایک بہترین انسان سمجھ رہا ہوں۔شیخ سدیس نے اس موقع پر اسٹیف کا دل کھولنے پر اللہ تعالٰی کی تعریف کی کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے اس قابل بنایا کہ اس نے حقیقی مذہب کو قبول کیا اور جِس سے اُسے بے حد عزت کا مستحق بنایا۔شیخ سدیس نے کہا کہ اسٹیف ”اب اسلام میں میرا بھائی ہے۔” انہوں نے کہا کہ جس چیز نے اسٹیف کے ذہن پر دائمی تاثر ڈالا تھا وہ اسلام کی پاکیزگی اور اس کی وحدانیت اللہ کی عظیم تعلیم، رواداری، اور پرامن بقائے باہمی پر زور دینا تھا۔اسٹیف اسلامی تعلمات سے بے حد متاثر ہوا۔ اسٹیف، جو میامی میں سیاحت کے دفتر میں کام کرتا ہے، اپنے کچھ قریبی دوستوں کے ساتھ ابھا کا دورہ کر رہا تھا۔ نو مسلم اسٹیف نے سعودی عرب کے عوام میں پایا جانے والی مہربانی اور مہمان نوازی کے لئے اظہار تشکر اور تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا، ”یہاں کے لوگ بہت آسان اور دیکھ بھال کرنے والے ہیں۔ سعودی عرب میں، مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے ہی خاندان اور بھائیوں میں شامل ہوں۔ بعد میں، شیخ سدیس نے میزبان اسٹیف کو مکہ مکرمہ میں عمرہ کرنے اور مدینہ میں مسجد نبوی کی زیارت کے لئے بھی ہدایات دیں۔ المطرفی نے کہا، ”اسٹیف خوشی سے اتنا مغلوب ہو گیا تھا کہ وہ اپنے آنسوں کو روک نہیں سکا۔”
پاکستان قونصلیٹ کے نئے قونصل پریس سید حمزہ سلیم گیلانی کی آمد ۔
انسان کی فطرت کا عجب ہے یہ کرشمہ
نسلوں کا بھی ہر راز دکھا دیتی ہے یکسر
کچھ سانپ ملیں گے تمھیں صورت میں بشر کی
وہ زہر ہلاکت انہیں ورثے میں ملا ہے
ایک بار ڈسیں گے تو کئی بار مروگے
جی ہاں یہ خوبصورت انسانی فطرت پر روشنی ڈالتی ہوئی شاعری جدہ میں پاکستان کے نئے پریس قونصلر سید حمزہ گیلانی کے ہیں جو چند روز قبل اپنا عہدہ سنبھالنے جدہ پہنچے ، یہاں آمد سے قبل وہ وزارت اطلاعات میں لاہور کے ڈائیرکٹر جنرل تھے، امریکہ سے حاصل کئی گئی تعلیم، اور وزارت اطلاعات پاکستانکی تجربات سے وہ امید ہے کہ سعودی عرب میں سعودی میڈیا میں سہیل علیخان سابق قونصل پریس کی خلاء پوری کرینگے۔ سہیل علیخان عربی زبان پر عبور رکھتے تھے جس سے انہیں مقامی سعودی میڈیا میں روشناس ہونے میں دیر نہیں لگی۔ آج کی صورتحال میں سعودی میڈیا میں بھی انگریزی زبان جاننے والے بے شمار صحافی اور ایڈیٹرز ہیں جن سے شناسائی ممکن ہوگئی ہے۔ اور امید ہے کہ نوجوان حمزہ گیلانی پاک سعودی تعلقات کی مضبوطی کو مزید مستحکم کرنے میں اپنا بھر پور کردار کرینگے۔۔گزشتہ دنوں انہیں پاکستان جنرنلسٹ فورم مدینہ المنورہ نے انہیں ملاقات کی دعوت دی ، اسطرح مدینہ المنورہ جہاں پاکستانی صحافی تھوڑے ہی ہیں وہ پہل کرگئے اور حمزہ گیلانی کو دعوت دے بیٹھے، جدہ جہاں صحافیوں ، نیم صحافیوں اور خوامخواہ کے ’موبائل بردار“ صحافیوں کی بڑی تعداد ہے وہ کام تا حال نہیں کرسکے اور حمزہ گیلانی سے انکے دفتر میں تعارفی ملاقاتیں کررہے ہیں۔
مدینہ المنورہ میں پریس قونصلر سید حمزہ گیلانی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ روضہ رسول پر حاضری کے بعد جرنلسٹ فورم کے عشائیہ میں شریک ہوئے اس موقع پر صدر جرنلسٹ فورم مدینہ منورہ جاوید اقبال بٹ نے عہدہ سبھالنے اور مختصر وقت میں دعوت قبول کرتے مدینہ منورہ تشریف لانے کا شکریہ ادا کیا جبکہ پریس قونصلر حمزہ گیلانی نے کہا وہ پاکستان حکومت کی پالیسوں کو اجاگر، خارجہ اور داخلی پالیسوں کو اجاگر اور پاکستان کا سافٹ امیج پیش کرنے، صنعت وحرفت اور سرمایہ کہ مواقع کی نشاندھی کریں گئے انہوں نے کہا کہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پاک سعودی دوستی بردارنہ تعلقات کی تاریخ دھائیوں پر مشتمل پر ھے جس میں روز بروز تعلقات مضبوط سے مصبوظ تر ھورھے ھیں سعودی عرب کو پوری مسلمہ امہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے انہوں نے کہا کہ پاکستان صحافیوں کی مدد سے مختلف شہروں دورہ اور ملاقات بھی کروں گا اور رابطہ بھی رھے گا سینئر صحافی حافظ شاھد نے گلدستہ پیش کیا اور میزبانی کہ فرایض بھی ادا کیے ملاقات میں رابطے کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق بھی ھوا۔