سوات کے لاوارث جنگلات

– عوامی شعور بیدار کرنے اور جنگلات کی اہمیت سے لوگوں کو خبردار کرنے کی اشد ضرورت
جس بیدردی اور بے رحمی کے ساتھ سوات میں ریاست اور اداروں کی سرپرستی میں جنگلات کی کٹائی ہو رہی ہے، اس سے یہ خدشہ ہے، کہ بہت جلد سوات کی خوبصورتی، گھنے جنگلات قصہ پارینہ بن جائیں گے۔


سوات جو کبھی اپنے زیتون، چیڑ، صنوبر ، دیار اور شاہ بلوط جیسے قیمتی جنگلات کیلئے دنیا بھر میں مشہور تھا، کہ ریاست کے دور میں والئ سوات نے درختوں کو اپنے بچوں جیسا پیار کیا تھا، اور حفاظت بھی اپنے پیارے، لاڈلے بچوں جیسے کی تھی۔
جہاں ندیوں اور دریاؤں کے کنارے بید مجنون اور الدار کے درخت ایک شان سے جھومتے۔ بس اسٹاپوں اور چشموں پر چنار کے دیو قامت درختیں سایہ اور سکون فراہم کرتے۔ سڑک کے دونوں جانب انجیر، توت اور شہتوت سمیت انواع و اقسام کے درخت ایک سر سبز قدرتی سرنگ کا منظر پیش کرتے۔ جن کو نقصان پہنچانے پر سخت سزائیں ملتیں اور جرمانے کئے جاتے۔ اب وہی سوات بے یارومددگار، چٹیل میدانوں اور بے گیاہ بنجر پہاڑوں کی سرزمین بنتا جا رہا ہے۔


حیرت کی بات یہ ہے، کہ سوات میں عام لوگوں کو اپنی زمینوں پر خود کاشت کئے گئے عام درختوں سے ایندھن کی خاطر کٹائی کیلئے بھی اجازت نامے لینے پڑتے ہیں۔ اگر چہ لکڑی ہی ایندھن فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف قیمتی قدرتی جنگلات کی ایسی بے دریغ کٹائی ہو رہی ہے، جیسے یہ لاوارث سرزمین ہو، یا کوئی مقبوضہ علاقہ ہو، جہاں سے قابض لوگ اور ادارے کوچ کرنے سے قبل لوٹ مار میں مصروف ہوں۔
لگ تو یہ رہا ہے، کہ ریاستی و غیر ریاستی ٹمبر مافیا اس جھاڑ جھنکاڑ اور صرف جلانے کیلئے کار آمد، لوگوں کے لگائے گئے عام درختوں کی آڑ میں اپنے جرائم اور تباہی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔

سوات کے جنگلات کی کٹائی کس بے دردی کے ساتھ ہو رہی ہے،، یہ دیکھنے اور سمجھنے کیلئے ایک روز جاکر ملاکنڈ ٹاپ پہ بیٹھ جائیے، اور لکڑی سے بھرے بھرے ٹرک گنتے جائیے، جو قیمتی قدرتی جنگلات کی لکڑی لے کر جاتے ہیں۔ پھر سوچئے اور روئیے کہ ایک دن میں کتنے ٹرک جاتے ہیں؟
یہ کٹائی کون کر رہا ہے، یہ لکڑی کہاں جا رہی ہے، !! یہ عام لوگوں کا کام تو ہو نہیں سکتا۔
دوسری طرف جب سے سوات میں آرمی آئی ہے، توالزام کی بات نہیں، ایمانداری سے کہہ رہا ہوں، کہ جنگلات کی کٹائی میں کمی کی بجائے تیزی آئی ہے۔
سوات میں فساد سے قبل بھی درختوں کی کٹائی ہوتی تھی، اور لوکل ٹمبر مافیا سرگرم تھا، لیکن سیاحتی مقامات جیسے کالام کے پہاڑ درختوں سے کافی حد تک ڈھکے ہوئے تھے۔ اب اسی سر سبز کالام کے پہاڑ تو ننگ دھڑنگ ہوچکے ہیں، جن پہ اب دیو قامت ، فلک بوس درختوں کی بجائے جھاڑ جھنکاڑ ہی باقی بچے ہیں، اب مالم جبہ اور دوسرے علاقوں کا بھی یہی حال ہوتا جا رہا ہے۔ ہر بار جاکر غور کرنے پہ پتہ چلتا ہے، کہ تازہ کٹائی ہوئی ہے، کیونکہ تازہ کٹے ہوئے درختوں کے تنے صاف بتاتے ہیں۔ اس حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے اور جنگلات کی اہمیت سے لوگوں کو خبردار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اس کام کیلئے قائم ادارے تو یہ فرض نبھانے سے رہے، تو یہ کام اب فلاحی تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں اور کارکنان ہی کو کرنا ہوگا۔