152

حنیف گوہر کا خاندان بڑے سانحے کے بعد کس حال میں ہے؟ (تحریر… نوید انجم فاروقی)

(نوید انجم فاروقی)

پاکستان کے مشہور بزنس مین آباد کے سابق چیئرمین ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر اور گوہر گروپ آف کمپنیز کے سربراہ محمد حنیف گوہر کا خاندان ایک بڑے سانحہ سے دوچار ہونے کے بعد اب آہستہ آہستہ نارمل زندگی کی طرف واپس لوٹ رہا ہے۔ محمد حنیف گوہر کے دو بھائیوں میں ہونے والا جھگڑا دو بھائیوں اور ایک بھابی کی جان لے گیا ۔خاندان سے تین افراد کے جنازے اٹھے۔ گیارہ بچے یتیم ہو گئے ۔ایک بھائی کے چھ اور دوسرے بھائی کے پانچ بچے ہیں ۔ان بچوں کا سوچئے جن کے ماں باپ دونوں نہیں رہے ۔ان بچوں کا سوچیے جن کے سر پر باپ کا سایا نہیں رہا ۔اس بات کا سوچئے جس کے سامنے دو بیٹوں کا جھگڑا ہوا گولیاں چلیں دو بیٹے اور ایک بہو زندگی کی بازی ہار گئے۔ پورا خاندان بڑے سانحے سے گزرا ۔حنیف گوہر اس دن کراچی میں نہیں تھے ورنہ شاید وہ بھی اس دن موقع پر موجود ہوتے۔ جن دو بھائیوں کی افسوسناک انداز میں موت ہوئی ان میں ایک بڑا اور ایک چھوٹا بھائی۔ دونوں اپنا اپنا الگ کاروبار کرتے تھے بڑا بھائی کچھ ذہنی الجھن اور مسائل کا شکار بھی تھا۔ ہسپتال میں ان کا علاج بھی ہوتا رہا ۔چھوٹا بھائی والد کے ساتھ رہ کر زیادہ لاڈلا بن چکا تھا۔ خاندان کے لئے وہ بڑا ہی بدقسمت دن تھا بلکہ ایک منحوس دن تھا۔جھگڑا ہوا ۔جھگڑا بڑھ گیا۔ بڑے بھائی پر پہلے ہی ذہنی دباؤ تھا۔ پستول جل گیا۔ چھوٹا بھائی اور اس کو بچاتے ہوئے اس کی بیوی گولیوں کا نشانہ بنے ۔گولیوں کی آواز سن کر تیسرا بھائی بھاگا چلا آیا۔ بڑے بھائی کے ہاتھ میں پشتول دیکھ کر اسے جھنجھوڑا۔ وہ سکتے سے باہر آگئے۔ منظر دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا ۔پھر اس نے خود کو گولی مار کر سزا دے دی۔ یوں ایک ہنستے بستے خاندان سے 2 سگے بھائی اور بعد میں بھابھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ تین جنازے، ایک خاندان، ہر طرف قیامت صغریٰ کا منظر، سوگ، ۔صدمہ، سکتہ،
ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟

حنیف گوہر کے والد غم سے نڈھال، والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے، وہ بھی طارق روڈ کے سوسائٹی قبرستان میں دفن ہیں۔ دونوں بیٹوں اور ایک بہو کو بھی یہاں سپرد خاک کیا گیا۔ اس قبرستان میں جگہ خود والد نے اپنے لئے مختص کر آئی تھی۔ لیکن اولاد پہلے چلی گئی۔ قبرستان کے سامنے ہیں طارق روڈ پر ایک بھائی کا بزنس آفس تھا اس لئے یہاں ہیں تدفین کا فیصلہ ہوا۔

حنیف گوہر کا خاندان کیا میں پاکستان کے بعد انیس سو سینتالیس میں ہی مانسہرہ سے گاؤں ڈوڈھیال سے کراچی آ گیا تھا ۔والد پولیس سروس کے بعد ریٹائرہونے ۔حنیف گوہر مجموعی طور پر نو بہن بھائی تھے دو بہنیں اور سات بھائی۔

حنیف گوہر نے بھی دیگر بھائیوں بہنوں کی طرح بڑا صدمہ لیا ہے ۔چار دن تک سکتہ کے عالم میں رہے پھر کہیں جا کر آنکھوں سے آنسو بہے تو خوب کھل کر روئے۔ لیکن کئی دن گزر جانے کے بعد بھی سانحہ والا کمرہ دیکھنے اور قبرستان جانے کی ہمت اپنے اندر پیدا نہیں کر سکے۔
حنیف گوہر کا دل کسی کام میں نہیں لگ رہا۔ کوئی کام کرتے ہیں کوئی بات کرتے ہیں تو چہرے کے سامنے بھائیوں کی شکلیں آ جاتی ہیں ۔ساتھ گزرے دن یاد آ جاتے ہیں ۔بھولا یے بھول نہیں سکتے۔
سب کے کہنے اور سمجھانے پر بالآخر دفتر آنا شروع تو کر دیا ہے تاکہ آہستہ آہستہ نارمل زندگی کی طرف سب کی واپسی ہو سکے۔

وقت ہی سب سے بڑا مرہم ہے ۔سب دوست احباب رشتے دار دعا گو ہیں۔ لیکن صبر آتے آتے ہی آئے گا۔

پورے خاندان کا بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے۔

سبق یہ ملا ہے کہ ہتھیار اور اسلحہ نہیں رکھنا چاہیے یہ شیطانی کھلونا ہے نہ جانے کب چل جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں