پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں ہرانے کیلئے محنت کرنا پڑی، کرس ووکس

انگلینڈ کے آل راؤنڈر کرس ووکس کا کہنا ہے پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے، امید ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ ٹیموں کی آمد کا سلسلہ جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں ہرانے کے لیے محنت کرنا پڑی۔

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین ٹیسٹ سیریز کے اختتام پر قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر شان مسعود نے انگلینڈ کے آل راؤنڈر کرس ووکس سے بائیو سیکیور ماحول، سیریز کے دوران کرکٹ کے معیار اور پاکستان میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی پر گفتگو کی ہے۔

جب شان مسعود نے کرس ووکس کو پاکستان میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی اور پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کے اب تک کھیلے گئے تمام میچوں کے پاکستان میں انعقاد سے متعلق بتایا تو انگلش آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اور انہوں نے پاکستان میں بسنے والے کرکٹ کے پرجوش مداحوں سے متعلق بہت سی کہانیاں سنی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا وہ پرامید ہیں کہ بین الاقوامی ٹیسٹ ٹیموں کی پاکستان آمد کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔

اس حوالے سے کرس ووکس کا مزید اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دونوں ٹیموں کے مابین کھیلی گئی حالیہ ٹیسٹ سیریز اعلیٰ معیار کی تھی جہاں بھرپور مقابلہ دیکھنے کو ملا۔

دونوں کرکٹرز نے اتفاق کیا کہ اگر اس سیریز کے دوران شائقین کرکٹ اسٹیڈیم میں موجود ہوتے تو یہ میچز مزید یادگار بن سکتے تھے۔

کرس ووکس کا مزید کہنا تھا کہ انگلینڈ میں پاکستانی مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور انہیں یقین ہے کہ تمام شائقین کرکٹ نے اولڈ ٹریفورڈ ٹیسٹ کا بھرپور لطف اٹھایا ہوگا۔

سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں کھیل کے معیار پر اظہار خیال کرتے ہوئے انگلش آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ اس ٹیسٹ میں شائقین کرکٹ کو ضرور موجود ہونا چاہیے تھا اور اگر ایسا ہوتا تو انہیں اسٹیڈیم میں موجود مداحوں کے شور اور براہ راست جاری میچ میں کرکٹ کھیلنے کا بہت مزہ آتا۔

انگلش آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ اس سیریز میں کانٹے کا مقابلہ ہوا اور انہیں پاکستان جیسی باصلاحیت ٹیم کے خلاف سیریز جیتنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے انگلینڈ میں ناقابل شکست رہنے کے دس سالہ ریکارڈ کی ایک بڑی وجہ دیگر غیرملکی ٹیموں کے برعکس پاکستانی کھلاڑیوں کی یہاں کنڈیشنز سے جلد ہم آہنگی ہے۔

اس موقع پر کرس ووکس نے شان مسعود کی 156 رنز کی اننگز کی خوب تعریف کی، میزبان ٹیم کے آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ انہیں یاد ہے کہ وہ 2007 میں انڈر 19 کی سطح پر شان مسعود کے مدمقابل آچکے ہیں۔

پاکستانی اوپنر کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ بائیں ہاتھ کے اوپنر نے ایک شاندار اننگز کھیلی تاہم اس دوران ان کی ٹیم کو بہت اوورز کروانے پڑے۔

پاکستان کی مضبوط ٹیم منیجمنٹ سے متعلق کرس ووکس کے سوال کے جواب میں شان مسعود نے کہا کہ مصباح الحق کی سربراہی میں لیجنڈری کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم منیجمنٹ نے ٹیسٹ سیریز کے دوران کھلاڑیوں کی کمزوریوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جو مفید ثابت ہوئی۔

شان مسعود نے کرس ووکس کو بتایا کہ یونس خان کے ساتھ ان کی دوستی دیرینہ ہے اور بطور بیٹنگ کنسلٹنٹ ان کی موجودگی میں سیریز کے پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری اسکور کرنا ان کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ وقار یونس نے نوجوان پیسرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کے ساتھ بہت کام کیا ہے یہاں تک کہ قومی کرکٹ ٹیم کے بالنگ کوچ نے نیٹ میں ان کی بالنگ پر بھی بہت محنت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساؤتھ ہمپٹن ٹیسٹ کے ایک موقع پر ان سے بھی بالنگ کروائی گئی۔

شان مسعود نے کہا کہ مصباح الحق کی اس نئے کردار میں موجودگی پورے اسکواڈ کی حوصلہ افزائی اور بھرپور معاونت کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح مشتاق احمد کا انگلش ٹیم کے ساتھ تجربہ بھی قومی ٹیسٹ ٹیم کے لیے مفید ثابت ہوا۔

پاکستان کے اوپنر نے کہا کہ بائیو سیکیور ماحول ایک نیا تجربہ تھا، جہاں موجود بہترین سہولیات میں تمام کرکٹرز بھرپور محنت کرتے نظر آئے۔

شان مسعود نے کہا کہ دورہ انگلینڈ کا آغاز ڈربی سے ہوا، جہاں ان مشکل حالات کے باوجود ہماری میزبانی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی