آدھا سچ

تحریر
——
عبدالرحمان وائس چیئرمین آباد
——-

قارئین کرام انگریزی کی ایک کہاوت ہے
Half- a -truth- is- full- of -lies-
یعنی آدھا سچ بدترین جھوٹ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔

اور آج ہم جس دور میں زندہ ہیں اس دور میں یا تو سراسر جھوٹ ہے یا آدھے سچ کی بھرمار ہے اس آدھے سچ نے جس بری طرح سے ہمارے مذہبی اخلاقی سماجی اور معاشرتی اقدار کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا ہم آج تک صحیح اندازہ ہی نہیں لگا پائے ہیں ۔

آدھا سچ جان بوجھ کر متعارف کرانے والے دراصل طاقتور یہود و نصاریٰ اور نصرانی حلقے ہوتے ہیں لیکن ان کی تشکیر بیرونی فنڈز پر چلنے والی این جی اوز اور انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ ساتھ ہمارا لوکل پرنٹ الیکٹرونک اور سوشل میڈیا انتہائی شدومد کے ساتھ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار ادا کرنے میں تمام حدود اور قیود پار کرنے کو نہایت باعث فخر کارنامہ سمجھتے ہیں ان آدھے بچوں نے صرف گزشتہ بیس پچیس سالوں میں نہایت سرعت کے ساتھ جس قدر شدید اثرات مرتب کیے ہیں ان کی پلاننگ انیسویں صدی کی ابتدا میں ہی کی گئی تھی ۔

میرا تعلق متوسط طبقے کے ایک پڑھے لکھے نوکری پیشہ خاندان سے ہے میں نے بہت کم عمری میں نہایت چھوٹے پیمانے پر کاروبار کی ابتدا کی اور الحمدللہ دنیا کے 75 ممالک کے کاروباری دورے کرنے کے ساتھ ساتھ پچھلے چالیس سال امریکہ کینیڈا اور پاکستان میں بیک وقت کاروبار کر رہا ہوں ۔

آدھے سچ کے نام سے کالم کا یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں اور آپ کی توجہ ان آدھے بچوں اور ان کے مرتب کردہ اس رات کی جانب مبذول کر آؤں گا امید ہے میں شاید مرنے سے پہلے اپنی نوجوان نسل کی صحیح سمت میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے پاؤ ں ۔آج کے اس کالم میں سب سے بڑے آدھے سچ کے بارے میں آپ کی توجہ دیں لاو جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے بڑے سے بڑے سیاستدانوں کی زبان بھی لڑکڑاہٹ کا شکار ہوتی ہے وہ آدھا سچ کچھ اور نہیں جمہوریت ہے ۔جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا

دے استبداد جمہوری دنیا میں پائے کو ب

تو سمجھتا ہے اسے آزادی کے نیلم بری

جمہوریت کا یہ نظام جس کا اب کہیں وجود نہیں ۔دراصل کیپٹلزم کی راہ ہموار کرنے کے لیے لایا گیا اور بالآخر یہ مقصد الیکشن لڑنے پر آنے والے بھاری اخراجات کے باعث سرمایہ داروں یا سرمایہ داروں کے اشارے پر ناچنے والے افراد کے حوالے کر دیا گیا تاکہ سیاسی چالبازیوں سے ناواقف عوام کو ان حقوق کے وعدوں اور پروفیشنل سیاسی شعبدہ بازوں کے شعبدوں کے ذریعے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنا کر ان کے جذبات اور حقوق سے کھیلا جا سکے ۔مغرب نے جمہوریت کے اس سسٹم کو مقدس گائے کا رتبہ دے کر ان ممالک پر جہاں ان کے حکمرانی کے مقامی سسٹم نہایت خوش اسلوبی سے اپنے معاملات چلا رہے تھے ان عناصر نے جب جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا واویلا مچا کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اس نعرے کے ساتھ کے گویا زبردستی کی جمہوریت نافذ کرنے کا حق ان کو قدرت نے بد کیا ہے البتہ یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں کہ ان ممالک میں لوٹ مار کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں اس کے حال میں چھوڑ کر جمہوری اقدار تو کجا ان کے سکھ کا سانس بھی ملبہ کے ڈھیروں تلے دبا دیے گئے ۔

میں نے جمہوریت کے پلندا زیادہ کھولنا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اب یہ بھی آخری سانسیں لے رہا ہے اور یقین رکھیں کہ کیپٹل ازم جو اس جمہوریت کے پردے کے پیچھے چھپا تھا اس پینڈیمک کے بعد کھل کر منظر عام پر آ جائے گا جیسے ہم نے نائن الیون کے بعد فری نائن الیون اور پوسٹ نائن الیون ورلڈ دیکھا اسی طرح اب ہمیں ایک بالکل نئی دنیا یعنی پوسٹ بینک ورلڈ کپ کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔
تحریر عبدالرحمان
برائے جیوے پاکستان ڈاٹ کام