بگٹی کی افسانوی موت


دنیا بھر کی طرح بلوچستان اور سندھ میں بھی آج بلوچ قوم پرست رہنما شہید نواب محمد اکبر خان بگٹی کی 14 ویں برسی منائی جارہی ہے۔ اس دن کومنانے کا مقصد ہے کہ نواب صاحب کی طرز زندگی اور شہادت کے مقصد پر روشنی ڈالاجائے۔
میری پہلی ملاقات نواب اکبر خان بگٹی سے طالبعلمی کے زمانے میں ہوئی۔ جب میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے سابق چیئرمین رازق بگٹی کا پولنگ ایجنٹ تھا۔ عام انتخابات میں رازق بگٹی اور نواب اکبر خان ایک دوسرے کے مدمقابل تھے۔ جب ہم دیگر بی ایس او کے ساتھیوں کے ساتھ انتخابات کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے ڈیرہ بگٹی پہنچے۔

اسی رات ہمیں نواب صاحب کے محافظوں نے انتخابات کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے اپنے مہمان خانے میں لے کر چلے گئے۔ ہمیں دو روز تک مہمان خانے میں رکھا گیا۔ دو دن بعد ہمیں چھوڑا گیا۔ اور ساتھ ساتھ یہ خبر سنائی کہ آپکے امیدوار رازق بگٹی کا ضمانت ضبط ہوگیا ہے۔ اور نواب اکبر خان بھاری اکثریت سے رکن اسمبلی منتخب ہوگئے۔


بہرحال ہمیں نواب صاحب کے اوطاق میں لے جایا گیا۔ جہاں نواب صاحب خود موجود تھے۔ دوپہر کے کھانے کے دوران نواب صاحب نے ہم سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ آپ بی ایس او والے بڑے انقلابی ہوتے ہوں جبکہ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آپکا سابق چیئرمین رازق بگٹی سرکاری آدمی بن چکا ہے۔ اور وہ سرکار کا آلہ کارہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ (نواب اکبر بگٹی) کبھی بھی سرکاری آلہ کار نہیں رہا ہے۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ سرکار کے ساتھ برابری کی بنیاد پر اقتدار میں حصہ داری کی ہے۔ انہوں مزید کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ بی ایس او والے میری باتوں پر یقین نہیں کررہے ہیں مگر یہ وقت بتائےگا کہ کون سرکاری آلہ کار ہے اور کون نہیں۔ اس مختصر گفتگو کے ساتھ ہم نواب سے رخصت ہوگئے اور ڈیرہ بگٹی سے اپنے اپنے آبائی علاقوں کی جانب روانہ ہوگئے۔
واقعی وہ وقت بھی دیکھنے کو ملا جب رازق بگٹی بلوچستان حکومت کا ترجمان بن گیا۔ انہوں نے آخری دم تک سرکاری ترجمانی کرتے کرتے کوئٹہ شہر میں دم توڑ گیا۔


طالبعلمی کو خیرباد کرنے کے بعد میں نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا اور مختلف اوقات میں پیشہ وارانہ سرگرمیوں سے متعلق نواب اکبر سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھی۔ وہ ایک سیاسی شعور رکھنے والے سیاستدان تھے۔ سیاسی بصیرت سے حکومتوں کا حصہ رہے اور کبھی کبھار انہیں خیرباد کرتے رہے۔ وہ اصولوں کی ایک پابند شخصیت کے مالک تھے۔


جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ملک کا باگ ڈور سیاسی قیادت سے نکل کر عسکری قیادت کے ہاتھ لگ گیا۔ جس سے ملک میں جمہوری طرز عمل کا خاتمہ ہوگیا۔ اور ایک غیر جمہوری طرز عمل کا آغاز ہوا۔ نواز شریف سمیت مسلم لیگ ن کی قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ تاہم پنجاب میں کوئی خاص اینٹی مشرف تحریک نہیں چل سکی۔ شاید اس کی وجہ پنجاب میں سیاسی کلچر کی موجودگی کا فقدان تھا۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے سیاسی ورکرز پیدا نہیں کئے۔ پارٹی اور ورکرز کے درمیان نظریاتی رشتے کے بجائے مراعات پر قائم تھے۔ سیاست برادریوں کی بنیاد پر کی جاتی تھی جس کی وجہ سے پنجاب میں سیاسی کلچر پروان نہیں چڑھ سکا۔ جس کی وجہ سے مشرف حکومت کو کوئی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ لیکن بلوچستان اس کے برعکس نکلا۔ جہاں سیاسی شعور کی موجودگی نے مشرف حکومت کو ٹف ٹائم دیا۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کا پرامن ماحول کو ایک جنگ کی طرف دھکیل دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے انارکی و انتشار کی آگ نے ڈیرہ بگٹی سے گوادر کو اپنے لپیٹ میں لے لیا۔آگ اتنی شدید تھی کہ 79 سالہ بزرگ سیاستدان نواب اکبر خان بگٹی کو قومی حقوق کے حصول کے لئے شہادت نصیب ہوگئی۔ حالانکہ نواب صاحب نے سیاسی مذاکرات کے لئے اپنے دروازے آخری دم تک کھولے رکھے۔ اس سلسلے میں کئی مذاکراتی ٹیمیں بنائی گئیں۔ تاہم سب بے سود ہوگئیں۔ اور بالآخر حالات نے نواب صاحب کو مجبوراً پہاڑوں کی طرف دھکیل دیا۔ پہاڑوں کی جانب پیشقدمی سے چند روز قبل کراچی پریس کلب کی گورننگ باڈی نے نواب صاحب کو ٹیلی فونک میٹ دی پریس سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔ دعوت کا یہ سہرا کراچی پریس کلب کے موجودہ نائب صدر سعید سربازی اور سینئر رکن عارف بلوچ کے سر تھا۔ ان دونوں نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ آپ میٹ دی پریس کی دعوت نواب صاحب کو دیں اور انہیں خطاب کے لئے راضی بھی کروائیں۔ کیونکہ نواب صاحب نام نہاد قومی پریس کی منفی پروپیگنڈہ سے نالاں تھے۔ آئے روز نواب صاحب کے خلاف اداریے اور کالم لکھے جاتے تھے۔ اور ان کی کردارکشی کی جاتی تھی۔
بہرحال میری اور نواب صاحب کے درمیان ایک طویل ٹیلی فونک گفتگو کے بعد نواب صاحب میٹ دی پریس سے خطاب کرنے پر راضی ہوگئے۔ اس طرح جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی رہنما رؤف خان ساسولی اور سینیٹر شاہد بگٹی کو بھی میٹ دی پریس میں شرکت کرنے کی بھی دعوت دی گئی۔ یہ میٹ پریس کلب ٹیلی فون تھا۔ اس زمانے میں ٹیلی فونک کے آلات مارکیٹ میں ڈیکوریشن والوں کے پاس نہیں ہوتے تھے۔ ٹیلی فونک کے آلات ایم کیو ایم کے مرکز 90 سے لائے گئے۔ ان آلات لانے کی ذمہ داری رؤف خان ساسولی نے سرانجام دی۔
اس وقت کے کراچی کے پریس کلب کے صدر خورشید عباسی کو میٹ دی پریس کے مہمان نواب اکبر خان کو خوش آمدید کے چند الفاظ کہنے تھے۔ خورشید عباسی نے اپنی تقریر کا متن مصنف اور سینئر صحافی صدیق بلوچ اور سعید سربازی کی مدد سے لکھوایا۔ اور وہ متن اتنا دھواں دار تھا کہ سعید سربازی اس دھویں کے اندر غائب ہوگیا۔ انہیں چار دن اور چار راتیں خفیہ سیل میں رکھاگیا۔ کراچی پریس کلب کے جنرل سیکریٹری نجیب احمد مرحوم نے جلوس کی صورت میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ اور سعید سربازی کی رہائی کے لئے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا۔ بالآخر ہمارا سردار، سعید سربازی کو یہ کہہ کر چھوڑا گیا کہ پیچھے مڑکر مت دیکھنا، سیدھا چلتے رہنا۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین سے نواب اکبر بگٹی کو صدر پرویز مشرف سے برابری کی بنیاد پر مذاکرات پر راضی کردیا۔ دونوں کی ون آن ون ملاقات کسی نامعلوم مقام پر ہونی تھی۔ اس سلسلے میں نواب صاحب ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں اطلاع دی گئی کہ جہاز میں تیکنیکی خرابی آگئی ہے۔ اس لئے آج ملاقات نہیں ہوسکتی ہے۔ ملاقات کی آئندہ تاریخ طے کرکے آپ کو بتایا جائیگا۔ جب نواب صاحب ایئرپورٹ سے گھر کی جانب رواں دواں تھے۔ تو آسمان پر وہی خراب جہاز صحیح حالت میں اڑ رہاتھا۔ نواب صاحب نے اپنی گاڑی روک کر جہاز کی طرف دیکھا اور اپنے محافظوں کو کہا کہ اب مجھے گھر مت لے جائیں۔ بلکہ بلوچستان کے پہاڑوں کی طرف لے جائیں۔ بالآخر 26 اگست 2006 کو کوہلو کے پہاڑوں میں اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا۔
مصدقہ ذرائع کا کہنا تھا کہ اس مذاکرات کو سبوتاژ کرنے میں بیجنگ کا ہاتھ تھا۔ مذاکرات کے دروازے کو چائینیز تالا لگایاگیا۔ بعد میں وہی چائینیز تالا 79 سالہ بزرگ بلوچ رہنما اکبر خان بگٹی کے صندوق کو لگادیا گیا۔
چائینیز حکام کا یہ خدشہ تھا کہ گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد انہیں بلوچستان کے تین قبائلی اضلاع میں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ کیونکہ ان اضلاع میں مضبوط بلوچ ٹرائیبل نیشنلزم موجود ہے۔ جن میں ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور وڈھ شامل ہیں۔ چینی حکام کا اصرار تھا کہ ان علاقوں میں فوجی آپریشن کے ذریعے ان کو کچلا جائے۔تاکہ ٹرائیبل نیشنلزم ایک جدید سائنسی بنیادوں پر استوار نہ ہوسکے اور غیر قبائلی علاقوں میں پھیل نہ سکے۔۔ جن میں گوادر، تربت، پنجگور، پسنی، مند، بلیدہ، آواران اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ کیونکہ بلوچ تاریخ میں بیشتر جنگیں ٹرائیبل نیشنلزم کی بنیاد پر لڑی گئیں۔ ماضی میں خان آف قلات کے بھائی عبدالکریم بلوچ اور میر نوروز خان نے بلوچستان کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی۔ لیکن چینی حکام کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ 79 سالہ بزرگ رہنما کا خون انہیں آج گوادر پورٹ سے چاہ بہار پورٹ (ایران) کی جانب بھاگنے پر مجبور کردیگا ۔آج بلوچستان ایک شورش زدہ صوبہ ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ سے چین نے ایران کے ساتھ چارسو ارب ڈالرز کے معاہدے پر دستخط کئے۔ کیونکہ موجودہ بلوچستان کے امن و امان کی صورتحال سرمایہ کاری کے لئے ناساز ہوچکے ہیں۔
——-


عزیز سنگھور

روزنامہ آزادی کوئٹہ