سندھ کے چار اضلاع میں سیلاب، کراچی میں ایمرجنسی نافذ

سندھ کے چار اضلاع میں سیلاب، ک
پاکستان کے صوبہ سندھ کے اضلاع ٹھٹھہ، بدین اور دادو میں مون سون کی بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے اور کراچی میں کئی علاقے زیر آب آنے سے ہزاروں شہری متاثر ہوئے ہیں۔

سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ کر کے تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ان کو امدادی کاموں کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

منگل کو تیز بارش کے بعد وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صدر اور شارع فیصل کے علاقوں کا دورہ کیا، تمام مقامات پر سڑکیں زیر آب تھیں۔ مراد علی شاہ نے صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے چیف سیکریٹری کو فون کرکے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی۔

صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور چھٹیوں پر ملازمین کو اپنے محکموں میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کو ریلیف کے کاموں کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا۔

ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 11 بجے سے شام 5 بجے تک کراچی میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف فیصل بیس میں 125 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، گلش حدید میں 114ملی میٹر، صدر میں 83 ملی میٹر، لانڈھی میں 81 ملی میٹر، اولڈ ایئرپورٹ ایریا میں 79 ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 77 ملی میٹر، ناظم آباد میں 76.6ملی میٹر، سعدی ٹاؤن میں 70.8 ملی میٹر، جناح ٹرمنل پر 65.8ملی میٹر، پی اے ایف مسرور بیس پر 62 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 49.8 ملی میٹر جبکہ سرجانی میں 42 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔

دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ اندرون سندھ میں گزشتہ36سے 48گھنٹے کی مسلسل بارش کے بعد سیلابی صورتحال ہے اور شدید بارشوں سے کراچی، بدین، ٹھٹھہ، مٹھی، دادو اور حیدرآباد کے متعدد علاقے متاثرہوئے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ بشمول دیگر حکومتی ادارے امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں لائف جیکٹس اور کشتیاں فراہم کر دی گئیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیںجنسی نافذراچی میں ایمر