موجودہ حکمران ”ریاست مدینہ“ کس کوکہہ رہے ہیں۔

ذرا سوچئے! آپ کی منزل کیا ہے؟
——-
سہیل دانش
——–

یکم محرم کو حضرت فاروق اعظم ؓ کی یوم شہادت پر ”ریاست مدینہ“ کے تصور پر میرے ذہن میں کئی سوالات رینگ رہے ہیں۔ جب میں آج کے حکمرانوں سے ریاست مدینہ کا تذکرہ سنتا ہوں تو مجھے یہ سب کچھ ایک نعرہ لگتا ہے، ایک ڈھونگ لگتا ہے، ایک دھوکہ لگتا ہے۔
آخر ایسا کیوں ہے؟ یہ تو ایمانداری کا دعویٰ کرتے ہیں، زندگیوں میں انقلاب کی بات کرتے ہیں، یہ تو تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ دنیا میں اللہ کی رضا اور آخرت میں سرخرو ہونے کو اپناایمان سمجھتے ہیں۔ پھر ایسی کیا بات ہے کہ دل و ذہن ان کی بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
کبھی آپ زندگی میں ایک قدم نیچے آ کر سوچئے کہ کسی دن آپ سب اپنے یخ بستہ کمروں کے ائیر کنڈیشنڈ بند کر دیں۔ اپنی شاندار اور مہنگی گاڑیوں کو گیراج میں لا ک کر دیں۔ منرل واٹر کی ٹھنڈی بوتلوں کو حلق میں نہ انڈیلیں۔ سلائس پر مکھن اور شہد کہ تہہ نہ جمائیں۔ کینیا کی کافی میں پالینڈ کا دودھ نہ ملائیں۔ نفیس اور جدید مشینوں پر تیار اجلے لباسوں پر فرانس کی خوشبو نہ لگائیں۔ اٹلی کا جوتا نہ پہنیں اور امریکی فارمولے سے بال ڈائی نہ کریں۔ ایک حکم پر دسترخوان پر سجے کھانوں کو ترک کر دیں۔ صبح کی سہانی فضا میں چاروں طرف پھیلی ہریالی میں جاگنگ کے شوق کی مشق نہ کریں۔ لمبے کانوں اور چھوٹی دم والے جرمن کتوں سے گفتگو نہ کریں اور اپنی کارکردگی کی ڈینگیں نہ ماریں۔
ریاست مد ینہ کے دعوے داروں سے یہ گزارش ہے کہ صرف ایک دن اپنے گھروں سے نکل کر دادو، بھورے والا، چکوال، مردان، شہداد پور، گوادر، خضدار اور تھرپارکر میں پھیل جائیں اور کھال میں اترتی گرمی کی حدت، وجود میں جس کی تکلیف اور جسم سے جدا ہوتی زندگی، اس میں مایوسی اور بے بسی کے درمیان پہنچ کر چاروں طرف نظر گھمائیں۔ اپنے ہی کندھوں پر اپنے ہی جنازے اٹھاتے لوگوں کو مخاطب کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ وزیر اعظم پاکستان ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کر چکے ہیں پھر آپکے اس ببانگ دہل اعلان پر یہ بے کس اور مجبور لوگ جو جواب دیں، اسے باندھ کر واپس گھر لوٹ آئیں۔ اُسی زندگی میں لوٹ آئیں جس زندگی کو آپ نے، جی ہاں آپ نے صرف ایک دن کے لئے خیر باد کہا تھا۔ پھر ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ آپکی ریاست مدینہ اس ملک کے 65فیصد لوگوں کو پانی کا ایک گلاس فراہم کر سکتا ہے، جو صدیوں سے کیچر چھان کر پی رہے ہیں۔ ان کڑوروں لوگوں کو پٹواریوں، تحصیل داروں، تھانیداروں اور محرروں سے جان چھڑا سکتا ہے، جن کا 73سال سے کوئی والی وارث نہیں ہے۔ ان 70لاکھ نوجوانوں کو ملازمتیں دلوا سکتاہے، جو ڈگریاں ہاتھ میں تھامے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں۔
کیا آپ کی ریاست مدینہ پسینے میں شرابور اور بدبو دار انسانوں کو پارلیمنٹ میں داخلے کی اجازت دے گی؟ ہمارے درمیان تفریق کی تمام دیواروں کو گرا دے گی؟ کیا ریاست مدینہ غریب بیمار کو دوائی اور ضرورت مند کو رقم اور مظلوم کو زبان دے گا؟ کیا ملک کا صدر چھوٹے سے مکان اور وزیر اعظم کو سڑکوں پر اور وزیر وں کو گلی میں عام لوگوں کی داد رسائی کے لئے کھینچ لائے گا؟ کیا ریاست مدینہ میں سیکرٹریوں، کمشنروں، ججوں اور پولیس افسران کو ویگنوں اور بسوں میں لا بٹھائے گا؟کیا ریاست مدینہ حکمرانوں اور عام لوگوں کے بچوں کو ایک ہی معیار تعلیم دے گا؟ کیا ریاست مدینہ جاگیر داری اور وڈیرہ شاہی کی تمام جڑیں اکھاڑ پھینکے گا؟کیا مزدووں کو انکی ضرورت کے مطابق اوقات کار پر تنخواہ ادا کروا دے گا؟روتے بچوں کے آنسو پونچھ ڈالے گا؟ بیواؤں کے خوف ختم کر دے گا؟ یتیموں کے سروں پر سایہ بن جائے گا؟ سارے بد معاش، رسہ گیر، ڈاکو نما ارکان اسمبلی کو جیل بھجوا دے گا؟سارے قبضے چھڑوا دے گا؟ سارے کمیشنوں کا حساب بے باک کر دے گا؟میرٹ کا نظام نافذکر دے گا؟کیا پورے ملک میں قانون پر عمل در آمد کروا دے گا؟ اخلاقیات کو آئین بنا دے گا؟عالموں کو وزیر اور پر ہیز گار کو مشیر بنا دے گا؟ کیا سب عوام کو سکھ سے رہنے دے گا؟
جی ہاں! تو خود اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ کیا آپ اُسی ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہیں جس کی بنیاد آقائے نامدار ﷺ نے رکھی تھی اور جسے سیدنا فاروق اعظم ؓنے پوری دنیا میں پھیلا دیا تھا۔ اپنے آپ سے سوال کیجئے کہ کیا آپکی ریاست مدینہ تمام طبقاتی فرق مٹا دے گا؟ ریاست مدینہ میں تو انسان کو انسان سمجھا جاتاتھا،جس میں حکمران مظلوم کی آہ سے ڈرتا تھا اوراللہ کے خوف سے کانپتا تھا۔اگر ایسا نہیں ہے تو آپ کونسی ریاست مدینہ بنا رہے ہیں، جس کے دامن میں تازہ ہوا کا کوئی جھونکا نظرنہیں آرہا ہے۔ کوئی اصلاح اور کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ذرا سوچئے! آپکی منزل کیا ہے؟