وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی موجودگی میں پانی کی نکاسی کلئے مشینیں لگائیں

وزیراعلیٰ سندھ کا صوبے بھر میں رین ایمرجنسی کا اعلان
بارش کی ہنگامی صورتحال کا جائزہ لینے کلئے جنوبی، ملیر، کورنگی، شرقی اور وسطی اضلاع کا دورہ
کراچی: (25 اگست): وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ بھر میں رین ایمرجنسی کا اعلان کردیا جس کے تحت سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں اور پی ڈی ایم اے اور ریلیف کمشنر کو ریلیف اور بحالی کے کاموں کو شروع کرنے کلئے فعال کردیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ منگل کو بارش کے بعد شہر قائد کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے لیا۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ بلدیات سے متعلق اجلاس منعقد کیا جس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سکریٹری ممتاز شاہ نئے بلدیاتی سکریٹری افتخار شہلوانی اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی سمیت بیشتر اضلاع میں موسلادھار بارش ہوئی ہے لہذا روز مرہ کی زندگی متاثر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صورتحال کی کشش کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ بھر میں رین ایمرجنسی کا اعلان کردیا۔ انہوں نے چیف سکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں نوٹیفکیشن جاری کریں اور تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کریں اور انہیں اپنے متعلقہ محکموں کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کریں۔ نہوں نے ریلیف کمشنرز، صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کو ہدایت کی کہ فوری طور پر امدادی کام شروع کریں اور ایک بار پھر ہونے والے نقصانات کا سروے شروع کریں۔ انہوں نے کہا ہم اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور اپنی بہترین صلاحیتوں کے عیوض انکی خدمت کرتے رہیں گے۔
دورہ:
وزیراعلیٰ سندھ اجلاس کے فوراً بعد ہی صورتحال کا جائزہ لینے کلئے شہر کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے دورے کا آغاز ڈاکٹر ضیاءالدین روڈ، صدر ڈاون ٹاؤن، پاکستان چوک، شاہراہ فیصل، ملیر 15، حسن اسکوائر اور ضلعی وسطی سے کیا۔ نو تعمیر شدہ پیپلز اسکوائر پر اطراف کے لوگ جمع ہوئے اور وہاں پرلطف ماحول جیسی پکنک سے لطف اندوز ہوئے۔ بچوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور اہل خانہ نے عوامی تفریح کلئے ایک خوبصورت مقام قائم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اطراف والی سڑکیں، جیسے ضیاالدین روڈ، ایون صدر، آرٹس کونسل روڈ بارش کے پانی سے ڈوبی ہوئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی موجودگی میں پانی کی نکاسی کلئے مشینیں لگائیں۔ شاہراہ فیصل پر اسٹار گیٹ کے قریب پانی جمع ہوگیا تھا لہذا پانی کو نکالنے کلئے واٹر بورڈ اور کے ایم سی کے ذریعہ گاڑی سے چلنے والی پانی کی مشینیں لگائی گئیں۔ جن علاقوں سے پانی صاف کیا گیا ہے ان میں شاہراہ فیصل کے اہم حصے، قیوم آباد چورنگی، ملیر 15، حسن اسکوائر، لیاقت آباد کے علاقے، بورڈ آفس اور کے ڈی اے چورنگی تک شامل ہیں۔ ضلع وسطی میں کے ڈی اے چورنگی میں نالوں پر قائم گرین لائن منصوبوں کے انفراسٹرکچر کی وجہ سے بارش کا پانی جمع ہوگیا تھا۔ پانی کو سکشن مشینوں کے ذریعہ نکالا جارہا ہے۔ نئے کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے کے ڈی اے چورنگی پر چارج سنبھالنے کے فورا بعد ہی وزیراعلیٰ سندھ کو جوائن کیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں شہر کے نشیبی علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی کلئے ضروری ہدایات دیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سیفی اسپتال کا دورہ کیا جو بارش کے پانی سے صاف تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بارش کے پانی کو بروقت نکالنے پر بلدیاتی اداروں کی تعریف کی۔ مراد علی شاہ نے واٹر پمپ ایریا کا دورہ کیا اور ان علاقوں کا معائنہ کیا جہاں پانی کو صاف کرنے والی مشینوں کے ذریعے سڑکیں صاف کی گئیں۔ جسکے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے ناگن چورنگی کا دورہ کیا اور علائقہ کو پانی سے کلیئر کیا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ پہلے یہاں پانی جمع ہوجاتا تھا، اب پانی کی نکاسی ہورہی ہے، اگر اتنی زیادہ بارش میں پانی کی نکاسی ہو جائے تو متعلقہ اداروں کی بہتر کارکردگی ہے۔ اسکے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے دو منٹ چورنگی کا دورہ کرتے ہوئے سرجانی کی طرف روانہ ہوگئے۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ وزیراعلیٰ سندھ