حاصل خان کی ادھوری کہانی

————

نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو کے والد ممتاز سیاست دان میر غوث بخش بزنجو نے اپنی وصیت میں کہا تھاکہ اس کی سیاست کا وارث ان کی اولادیں نہیں ہیں بلکہ اس کے سیاسی کارکنان ہیں۔ لیکن حاصل خان نے کبھی بھی اس سیاسی وراثت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اور نہ ہی سیاست کے میدان میں انہوں نے اپنے والدکا نام استعمال کیا۔ انہوں نے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی الگ شناخت بنائی۔ طالعبلمی کے دور میں سیاست کا آغاز بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے پلیٹ فارم سے کیا۔ اور اپنی بنائی ہوئی سیاسی جماعت، نیشنل پارٹی سے اختتام کیا۔

انہوں نے اپنے والد کی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی کو مزید فعال کرنے کے بجائے اپنی جماعت بنائی۔ اور اپنے سیاسی دوست اور ورکرز پیدا کیئے۔ جو ان کے والد کی جماعت کے لوگ نہیں تھے۔ جن میں ڈاکٹر مالک، مولابخش دشتی، نسیم جنگیان، میر جان محمد بلیدی، سینیٹر اکرم دشتی، خیرجان بلوچ اور دیگر شامل ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں۔ جن کا کبھی بھی ان کے والد کی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی سے واسطہ نہیں رہا۔

والدین نے ان کا نام حاصل رکھا، مگر اس نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی مال حاصل نہیں کیا۔ کیونکہ پاکستان میں سیاست عوامی خدمت کے بجائے کاروبار بن چکا ہے۔ سیاستدان سیاست میں آکر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے اربوں روپے کمالیتے ہیں۔ لیکن حاصل خان نے اپنی سیاسی کیریئر میں مالی بدعنوانی میں ملوث نہیں رہا۔ انہوں نے مالی حوالے سے بہت کچھ کھویا مگر سیاسی حوالے سے بہت کچھ پایا۔ حاصل خان نے سیاست میں ذاتی مفادات حاصل نہیں کیے۔ آخری دم تک وہ مالی تنگ دستی میں ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ ملک سے باہر جاکر دنیا کے بہترین سے بہترین اسپتالوں میں اپنا علاج نہ کرواسکیں ۔ حالانکہ وہ جس مرض میں مبتلا تھے وہ لاعلاج مرض نہیں تھا۔وہ جس کسمپرسی میں ہم سے جدا ہوئے۔ وہ جدائی اس بات کی غمازی کرتی ہے۔ حاصل خان نے مال کماؤکی سیاست نہیں کی۔ بلکہ ملک میں جمہوریت کی با لادستی کی جدوجہد کی۔ انہوں نے ہمیشہ سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ نہ صرف بلوچستان میں جاری ناانصافی اور زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ بلکہ پنجاب کی سیاسی قیادت کو جیلوں میں ڈالنے کے خلاف بھی آواز بلند کرتے رہے۔

1999 کو پنجابی سیاسی قیادت کو اقتدار سے باہر کردیاگیا۔ مسلم لیگ ن کے بانی میاں نوازشریف کو وزیراعظم سے قیدی بنادیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کردیا۔ یہ وہ زمانہ تھا مسلم لیگ ن کے بیشتر قیادت نے جنرل پرویز مشرف کی حمایت کا اعلان کردیا اور نوازشریف سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ حاصل خان واحد سیاسی لیڈر تھے جنہوں نے نوازشریف کی معزولی کے خلاف کراچی پریس کلب میں پہلی پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے ملک میں جمہوریت کے خاتمہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پرویز مشرف کو للکارا۔ حالانکہ ان کا مسلم لیگ ن کے کوئی واسطہ نہیں تھا ۔ لیکن یہاں بات جمہوریت کی بالادستی کی آتی ہے۔ حاصل خان نے آمریت کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔ شاید یہ سوچ ان کو طالبعلمی کے دور سے بی ایس او نے دی تھی۔ اور وہ آخری دم تک بلوچ سیاسی سوچ کی عکاسی کرتے رہے۔ وہ اعصابی طورپر ایک مضبوط سیاسی رہنما تھے۔
2006 کو ایک فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت ہوتی ہے۔ اس بزرگ سیاستدان کی شہادت پر بھی حاصل خان واحد بلوچ رہنما تھے جہنوں نے پہلی پریس کانفرنس کی تھی۔ انہوں نے اس فوجی ایکشن کو ملک کی سلامتی و استحکام کا قتل قراردیا۔ آج بلوچستان جس آگ کی لپیٹ میں ہے۔ اس خدشات کا اظہار حاصل خان نے نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت پر کیا تھا۔

حاصل خان نے پرویز مشرف کے آمرانہ اقدامات کا کھل کر مقابلہ کیا۔ نوازشریف کی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ مل کر حاصل خان نے ملک میں ڈکٹیٹر شپ کے خلاف آواز بلند کی۔ جس کی وجہ سے وہ کبھی بھی سسٹم کا حصہ نہیں بن سکا۔ وہ اپوزیشن کی سوچ رکھنے والے سیاستدان تھے۔ اقتدار ان کا مقصد نہیں تھا۔

اس کی پارٹی کو بلوچستان میں حکومت نوازشریف نے دی تھی۔ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کی حکومت سے اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں تھی۔ دراصل نوازشریف نے حاصل خان کے احسان چکانے کے لیے یہ حکومت ان کو دی تھی۔ جبکہ مسلم لیگ ن بلوچستان میں بھاری اکثریت سے منتخب ہوچکی تھی۔ جبکہ نیشنل پارٹی کے پاس صرف چند نشستیں تھیں۔

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی بھی وینٹی لیٹر پر چلی گئی۔ صحت مند اور عقل مند کمیونسٹوں نے داڑھیاں رکھنا شروع کردیا اور اللہ اللہ کرنے لگے،جبکہ کمزور اور نظریاتی کمیونسٹ لاوارث ہوگئے۔ ایک عرصے تک ان کے پاس کوئی سیاسی پلیٹ فارم نہیں تھا۔ وہ انفرادی طورپر سیاست کرتے رہے بعض این جی اوز بناکر اپنا سیاسی ٹارگٹ پورا کرتے رہے۔

جب حاصل خان نے نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی۔ تو پارٹی بلوچستان کی حد تک محدود تھی۔ حاصل خان نے پارٹی کو مزید فعال کیا۔ جتنے بھی لاوارث کمیونسٹ ملک میں موجود تھے ان کو پارٹی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس طرح آج نیشنل پارٹی نہ صرف بلوچستان بلکہ سندھ اور پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں فعال جماعت بن چکی ہے۔ اس طرح ان کی جماعت نے قوم پرستی سے وفاق پرستی کی سیاست کو اپنایا۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر اور باہر سخت مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ بعض حلقوں نے ان کی پارٹی کو نیم پاگلوں (نظریاتی کمیونسٹوں) کی جماعت قراردیا۔ کیونکہ کمیونسٹ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ کم رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ متحد نہیں ہوسکے۔ نااتفاقی کو وجہ سے وہ سیاسی جماعت نہیں بنا سکے۔

حاصل خان نے ہمت و جرات کے مظاہرہ کرکے تمام کمیونسٹوں کے اختلافات کو دور کیا۔ اور ان کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ دراصل کمیونسٹوں کو اکھٹا کرنا آسان کام نہیں ہے۔ یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔ جو حاصل خان نے سرانجام دیا۔
حاصل خان نے ملکی موجودہ سیاسی صورتحال میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے اختلافات کا خاتمہ کروایا۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، اے این پی، جے یو آئی (ف)، سمیت دیگر جماعتوں کو متحد کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ جس کی بنیاد پر انہیں تمام جماعتوں نے متفقہ طورپر سینیٹ کے چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا۔
اس کی موت نے ملک میں ایک سیاسی خلا پیدا کردیا۔ اس سیاسی خلا کو کون پورا کریگا؟۔ یہ سوال ہر سیاسی رہنما اور کارکنان کے ذہنوں میں گزدش کررہا ہے۔
حاصل خان نے اصولوں کی سیاست پر سودے بازی نہیں کی۔ انہوں نے پرویز مشرف سے لیکر موجود دور میں ایک خاموش مارشل لا کا بھرپورمقابلہ کیا ۔ وہ ایک سیاسی ورکر کی صورت میں ایک سیاسی رہنما تھے۔ اور آخری دم تک ورکروں کے درمیان ہم سے جدا ہوگئے۔

عزیز سنگھور
—–
روزنامہ آزادی کوئٹہ