صحافت کی دبنگ عورتیں

یاسر پیر زادہ
————

مہمل سرفراز ایک دبنگ خاتون صحافی ہیں ، اکثر سر پر صافہ باندھ کر ٹی وی پروگراموں میں شرکت کرتی ہیں ، یہ صافہ اب ایک طرح سے اُن کا ’انتخابی نشان ‘ بن چکا ہے۔ اگلے روز انہوں نے اپنے ٹویٹر کھاتے سے نمونے کے چند تبصروں کا عکس (screenshot) شیئر کیا جو اُن کے بارے میں کچھ لوگوں نے ٹویٹ کیے تھے ۔یہ تبصرے نہیں ننگی گالیاں تھیں ، بلکہ اِس سے بھی آگے کی کوئی چیز۔ جوزبان اِن تبصروں میں استعمال کی گئی تھی اسے بیان کرنا کسی شریف آدمی تو کیا کسی بدمعاش کیلئے بھی ممکن نہیں کہ بدمعاشوں کی بھی کچھ نہ کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں ۔

ایسا ہی کچھ عاصمہ شیرازی کیساتھ بھی ہو چکا ہے ، یہ نڈر عورت اُن گنتی کے چندلوگوں میں شامل ہے جو طالبان کے عروج کے زمانے میں ڈنکے کی چوٹ پر حق سچ کی بات کیا کرتی تھی ، اِس ایوارڈ یافتہ خاتون صحافی نے بھی گزشتہ کچھ برسوں میں سوشل میڈیا پرنہ صرف غلیظ ترین مہم کا سامنا کیا بلکہ عاصمہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں۔

عاصمہ شیرازی نے اِن حالات میں کیسے کام کیا، یہ تفصیل انہیں ایک لیکچر کی صورت میں ویڈیو بنا کر یو ٹیوب پر ڈال دینی چاہیے تاکہ صحافی بننے کے خواہش مند لڑکے لڑکیاں یہ جان سکیں کہ سچ بولنے کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے ۔

خواتین صحافیوں کی ٹرولنگ ایک بالکل دوسری سطح کی چیز ہے ، اِس کا کوئی مقابلہ اُس گالم گلوچ اور الزام تراشی سے نہیں کیا جا سکتا جو مردوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

یہ درست ہے کہ اکثر مردوں کو بھی گالی دیتے وقت اُن کی ماؤں بہنوں کو ہی رگیدا جاتا ہے جو کہ ظاہر ہے نا قابل برداشت بات ہے مگرایک لمحے کو ذرا اُس عورت کا تصور کریں جس نے بہت جوکھم سے مردوں کے اِس معاشرے میں اپنا مقام بنایا ہے اور اب وہ کسی ٹی وی پروگرام میں اینکر پرسن ہے ، کسی ویب سائٹ پر کالم لکھتی ہے یا پھر انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرتی ہے جو فی زمانہ کسی جہاد سے کم نہیں اور بڑے بڑے طرم خان مرد بھی اِس کی ہمت نہیں رکھتے۔

ایسی دبنگ خاتون کا حوصلہ توڑنے کیلئے اسے سوشل میڈیا پر غلیظ ترین ٹرولنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،ببانگ دہل آن لائن قتل اور عصمت دری کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں جو کسی فورم پر پڑھ کر سنائے نہیں جا سکتے ۔ پارلیمان کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں جب یہ خواتین پیش ہوئیں تو کوشش کی گئی کہ اِن خواتین کیخلاف جو ٹویٹس کی جاتی ہیں وہ پڑھ کر سنائی جائیں مگر کسی عورت تو کیا مرد کی بھی ہمت نہیں ہوئی اوروہاں موجود کچھ لوگوں کی آنکھوں میں توآنسو آ گئے ۔

سچ بات تو یہ ہے کہ آج کل کے اِس دور میں حق سچ کا عَلم مردوں سے زیادہ اِن خواتین نے بلند کر رکھا ہے ، دو ٹوک رائے دیتی ہیں۔ آپ اِن سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر اِن کی حریت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔

اِس ضمن میں جو چند نام اِس وقت میرے ذہن میں آرہے ہیں اُن میں ریما عمر، بینظیر شاہ، ندا کرمانی، آئمہ کھوسہ، ایمان مزاری، غریدہ فاروقی، عائشہ بخش، ثنا بُچہ ، نذرانہ یوسفزئی وغیرہ شامل ہیں ( ممکن ہے کوئی نام سہواً رہ گیا ہواُس کی معذرت )، اِن میں سے زیادہ تر سے میرا کوئی تعارف ہے اور نہ ملاقات ، میری رائے اِن کے نظریات کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے ، کچھ سے مجھے اختلاف بھی ہے مگر وہ بات اہم نہیں ، اہم اِن خواتین کااپنے نظریات کے ساتھ کھڑے ہونا ہے ۔

یہ خواتین بیچاری روتی پیٹتی انسانی حقوق کی کمیٹی سے واپس آ ئیں تو انہیں اِس قسم کے مذمتی بیانات سننے کو ملے کہ گالیاں دینا بری بات ہے ، کسی کو جنسی طور پرہراساں نہیں کیا جانا چاہیے ،ہم اِس کی مذمت کرتے ہیں لیکن۔۔۔۔اِس لیکن کے بعد بات وہی کہ اگر آپ لوگ جھوٹ بولیں گی اورجعلی خبریں پھیلائیں گی تو پھر لوگ تو گالیاں دیں گے ۔

انگریزی میں اسے Blaming the victimکہتے ہیں یعنی مظلو م کو دوش دینا۔یہ ایک بیمار ذہنیت ہے اور اِس میں پڑھے لکھے اور اَن پڑھ کی کوئی تخصیص نہیں ۔ ٹرولنگ میں غلیظ زبان استعمال کرنے والو ں کا اگر پروفائل دیکھا جائے تو اِن میں سے کوئی بینکرنکلتا ہے تو کوئی برطانیہ میں آئی ٹی کا ماہر ، کسی نے ڈی پی میں کلمہ طیبہ لکھا ہوتا ہے تو کوئی سبز پرچم لپیٹ کر بیٹھا ہوتا ہے۔ تاہم ایک بات البتہ اِن سب میں مشترک ہوتی ہے۔۔۔یہ سب سنی لیون کے پرستار ضرور نکلتے ہیں۔

یہ مسئلہ بے حد گمبھیر ہے اور اِس کا حل آسان نہیں کیونکہ ٹویٹر ، یو ٹیوب، فیس بک ، گوگل وغیرہ کی اظہار رائے کی پالیسی بھی اِس ضمن میں خاصی مبہم اور غیر واضح ہے ، اچھی خاصی گالم گلوچ پر بھی یہ کمپنیاں کھاتہ بند نہیں کرتیں تا وقتیکہ آپ انہیں یہ ثبوت نہ فراہم کریں کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے اسی طر ح جھوٹی الزام تراشیوں کی بھی کھلی چھٹی ہے ، کسی سوشل میڈیا کمپنی نے اِس ضمن میںکوئی سد باب نہیں کر رکھا، شاید انہیں یہ گندی گالیاں سمجھ ہی نہیں آتی ہوں گی۔

اِس لیے حل صرف یہ ہے کہ اِن کمپنیوں کو ایک مشترکہ قانونی نوٹس بھیجاجائے اور اِس معاملے کی سنگینی کو اجاگر کرکے اِن کمپنیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔ جن ممالک میں یہ کمپنیاں کام کرتی ہیں وہاں اِس قسم کے قوانین بے حد سخت ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبورہو جائیں ۔اگر ایسا ہو گیا تو یہ بات کسی انقلاب سے کم نہیں ہوگی۔

ہم لوگ اپنی مردانگی کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ہم میں سے شاید ہی کسی میں اتنی ہمت ہو جتنی اِن عورتوں نے دکھائی ہے ، یہ عورتیں نہ جانے کس مٹی کی بنی ہیں ،آج بھی ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ پہلے کی طرح اپنے نظریئے پر قائم ہیں ۔ اصل میں تو یہ عورتیں دبنگ ہیں ، ہم تو بس یونہی ’شامل واجا‘ ہیں
—–
yasir -pirzada-jang