اسٹیٹ بینک نے تاجر خواتین کیلئے قرضے کا حجم بڑھا دیا

کراچی: اسٹیٹ بینک نے تاجرخواتین کی مدد کے لیے ری فنانس اسکیم کے تحت قرضے کا حجم بڑھا دیا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ری فنانس اینڈ کریڈٹ اسکیم فنانسنگ کی حد 15 لاکھ سے بڑھاکر 50لاکھ روپے کردی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق فیصلے سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو تقویت دینے اور بحال کرنے میں مددملے گی۔ خواتین تاجروں سمیت ترجیحی شعبوں کی فنانس تک رسائی بہتربنائی جائے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق 2017 میں ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں میں خواتین تاجروں کیلئےاسکیم متعارف کرائی گئی تھی ۔ اسکیم کا دائرہ کار بڑھاکر اسے پورے پاکستان پر محیط کردیاگیا۔

اسٹیٹ بینک اعلامیہ کے مطابق خواتین تاجروں کو فنانسنگ فراہم کرنےوالےشریک مالی اداروں کو صفر فیصد پر ری فنانس مہیاکرتاہے۔ اسکیم کےتحت فنانسنگ کی حدمیں اضافےسےخواتین کی مالی شمولیت بڑھے گی۔

مزید پڑھیں: کورونا وبا کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، ترجمان وزارت خزانہ

اس سے قبل اسٹیٹ بینک نے کہا تھا پاکستانی معیشت سے متعلق تیسری سہ ماہی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جولائی تا فروری 2020 میں معاشی بہتری کوفروغ ملا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق مجموعی گھریلو پیداور (جی ڈی پی) میں سکڑاؤ کی وجہ صنعتوں اورشعبہ خدمات کی سرگرمیوں میں کمی ہے.

اسٹیٹ بینک اعلامیہ کے مطابق کورونا میں زراعت کا شعبہ متاثر نہیں ہوا، گزشتہ سال سے اچھی فصلیں ہوئیں۔ ٹڈی دَل حملوں کے باعث کچھ سالانہ اہداف پورے نہ ہوسکے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا حکومت نے مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر 1.24 ٹریلین کا پیکیج دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ عالمی بینک سے 50 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز موصول ہو گئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عالمی بینک سے موصول ہونے والی رقم ترقیاتی منصوبوں اور کورونا سے نمٹنے کے لیے دی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق ملنی والی رقم سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔