رکن اسمبلی نند کمار گوکلانی نے جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف قانونی بل دوبارہ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا

کراچی ۔ جی ڈی اے کے رکن اسمبلی نند کمار گوکلانی نے جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف قانونی بل دوبارہ سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے کرمنل لا ( اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ) نام سے قانونی بل ترامیم کرنے کے بعد جمع کرایا گیا ہے بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں کی شادی ہونے پر چائیلڈ میریج روکتھام ایکٹ لاگو کیا جائے گا ہندو لڑکیوں کی جبری مزہب تبدیلی کیس میں لڑکی کو سوچنے کے لیے 21 دن شیلٹر ہوم میں بھیجا جائیگا عدلیہ اور پولیس کے افسران کو اس قانون کے بارے میں تربیت دی جائیگی بل میں جبری مذہب کی تبدیلی جرم قرار دیا گیا ہے۔ متن کے مطابق جرم ثابت ہونے پر مجرم کو قید کی سزا ملے گی نند کمار گوکلانی نے کہا کہ سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو اغواء کرکے جبری مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے ہندوؤں کو سندھ سے نکالنے کی سازش کے تحت ایسی حرکتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کیا جائے ہندو برادری خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہی ہے۔ ہم محب وطن ہیں اپنے وطن پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہاں کے مستقل باشندے ہیں۔ خدارا حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ہندو برادری کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں