ان کا شمار صف اول کے قومی رہنماؤں میں ہوتا تھا

کراچی(نمائندہ خصوصی )
نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ 62 سالہ میر حاصل بزنجو کچھ عرصے سے معدے کے سرطان مین مبتلا تھے۔ ان کا شمار صف اول کے قومی رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ بلوچستان کے سابق گورنر میرغوث بخش بزنجو کے صاحبزادے تھے۔


میر حاصل بزنجو نے 3 فروری 1958 ضلع خضدار کی تحصیل نال میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم مڈل ہائی اسکول نال سے حاصل کی۔ کوئٹہ میں انہوں نے اسلامیہ ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔ 1977ء میں میٹرک اور 1979ء میں گورنمنٹ کالج کوئٹہ سے انٹر کیا۔ 80ء کی دہائی میں کراچی چلے گئے جہاں جامعہ کراچی سے آنرز کرنے کے بعد فلسفے میں ماسٹرز کی سند حاصل کی۔
حاصل بزنجو نے 70ء کی دہائی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔1972ءمیں بی ایس او نال زون کے صدر اور بعد میں تنظیم کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1987ء میں بی ایس او اور بی ایس او عوامی کے اتحاد کے خلاف تنظیم سے علیحدگی اختیار کی۔


اصل بزنجو جامعہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے خلاف تشکیل دیے جانے والے قوم پرست اور ترقی پسند طلباءکے اتحاد یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس موومنٹ کے چیئرمین رہے۔ تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی ) میں متحرک رہے۔ 1988ءمیں پاکستان نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور نال سے انتخابات میں حصہ لیا۔ 1989ء میں والد کی وفات کے بعد پاکستان نیشنل پارٹی کی سرگرمیوں میں زیادہ فعال ہو گئے جس کی قیادت ان کے بڑے بھائی میر بیزن بزنجو نے سنبھالی۔ بیزن بزنجو 1990ء کے عام انتخابات قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب ہوئے بعد ازاں ایک نشست چھوڑ دی جس پر حاصل بزنجو نے انتخاب لڑا اور پہلی دفعہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1996ء میں حاصل بزنجو پاکستان نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہوئے ۔1997ء کے عام انتخابات میں وہ دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکومت کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں انہیں کچھ عرصہ قید بھی کاٹنی پڑی۔ 2002ء میں ان کی پارٹی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کا الحاق ہوا اور نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور ڈپٹی آرگنائزر حاصل بزنجو منتخب ہوئے۔ پارٹی کے پہلے کنونشن میں جنرل سیکرٹری اور دوسرے کنونشن میں سینئر نائب صدر منتخب ہوئے۔2009ء میں بلوچستان سے سینیٹر منتخب ہوئے ۔
حاصل بزنجو کی شادی اگست 1988ء میں ہوئی، ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔ ان کے تین بھائی تھے۔ حاصل بزنجو کھیلوں، مطالعے اور فلم بینی کا شوق رکھتے تھے۔ کتابوں میں تاریخ اور سوانح پڑھنا پسند کرتے تھے۔ مارکس اور لینن کی شخصیت سے متاثر تھے۔