شہر قائد میں بارش کے بعد تباہی کوئی نئی بات نہیں – تحریر: یاسمین طہٰ

یاسمین طہٰ

شہر قائد میں بارش کے بعد تباہی کوئی نئی بات نہیں ،افسوسناک بات یہ ہے کہ بلدیاتی نمائندے شدید تباہی میں سڑکوں پر نظر نہیں آتے ۔26 جولائی کو جب کراچی شدید بارشوں کے بعد ڈوب رہا تھا اس وقت وزیر اطلاعات و بلدیات ناصر شاہ اور دیگر پارٹی رہنما بلاول ہاو¿س کراچی میں آصف زرداری کی سالگرہ منانے میں مصروف تھے ۔وزیر اطلاعات ناصر شاہ کی بے خبری کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے یہ تاریخی بیان دیا کہ شہر کی تمام انڈرپاس میں پانی موجود نہیں جب کہ کراچی کی تمام سڑکیں بشمول انڈر پاس پانی سے بھر کر دریا کا منظر پیش کررہی تھی ۔27 جولائی کے دن کراچی کے ضلع وسطی کی سڑکیں بارش کے سبب مکمل ڈوب چکی تھی ،اور اس علاقے میں قائم ایک نجی اسپتال کے اندر گھٹنوں گھٹنوں پانی بھر طکا تھا ۔یہ صورتحال اسی اسپتال میں نو کے ڈی اے پر قائم ہے گزشتہ برس بھی پیش آئی تھی لیکن بلدیاتی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جس کے باعثاس برس صورتحال اور سنگین ہوگئی ۔یہ تمام علاقہ متحدہ کے زیر اثر ہے۔ باروشوں کے بعد ہونے والی تباہی نے کراچی کے شہریوں کوشدید غم و غصے میں مبتلا کردیا اور،شہری حلقوں نے مون سون سے قبل برساتی نالوں کی صفائی نا کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے میئر کراچی سمیت ضلعی بلدیات کے چیرمینز اور یوسی چیرمینز سے عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ4سال سے میئر کراچی کے اختیارات کا رونا دیکھ اور سن رہے ہیں،

میئر کراچی کو صفائی کے لئے کونسے اختیارات چاہئیں،ضلعی بلدیاتی نمائندے پانی کے کنکشن،کچرا کنڈیاں فروخت کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں صفائی ستھرائی کے لئے اختیارات اور فنڈ کا رونا روتے ہیں،شہری مر رہے ہیں املاک تباہ ہورہی ہیں مگر نا حکومت سندھ کو فکر ہے اور ناہی میئر کراچی شہر کے لئے کچھ کرنے کو تیار ہیں شیری حلقوں کا کہنا ہے شہر کا میئر اور 4اضلاع کے ضلعی بلدیاتی اداروں کے چیرمین ایم کیو ایم پاکستان کے ہیں ایم کیو ایم ووٹ کے لئے مہاجر مہاجر کرتی ہے مگر ووٹ لینے کے بعد مبینہ طور پرسب اپنی جیبیں بھرنے میں لگے رہتے ہیں ، ضلع وسطی میں سارے بلدیاتی نمائندے ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں مگر 4سال ہوگئے ضلع میں صفائی ستھرائی تک کے اقدامات نہیں کیے گئے ضلع کے تمام برساتی نالے کچرے سے بھرے ہیں جس کی وجہ سے بارش نے پورے ضلع کو کھنڈر میں تبدیل کردیا، نالے صاف نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی گھروں میں بھر گیا جس کی وجہ سے ناصرف شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا بلکہ ان کی قیمتی اشیا بھی خراب ہوگئیں ہیں شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بلدیہ وسطی سمیت شہر کے تمام 6ضلعی بلدیات کے اخراجات کی تحقیقات کی جائے،اور ضلعی بلدیاتی اداروں میں نالوں کی صفائی کے نام پر ماہانہ کڑوڑوں روپے خربرد کیے جارہے ہیں اس کی فوری تحقیقات کرائی جائے ۔ورلڈبنک نے جو خطیر رقم نالوں کی صفائی کے لئے دی تھی اس کا سندھ حکومت سے حساب لیا جائے۔اختیارات کا رونا رونے والے مئیر وسیم اختر استعفی کیوں نہیں دیتے۔ میئر کراچی وسیم اخترنے اب مالی وسائل کی کمی کا ذمہ دار لاک ڈاو¿ن کو ٹھرایا ہے اور کہا ہے کہ کے ایم سی کا ریونیو کرونا وائرس میں لاک ڈاو¿ن کے باعث نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے جس کے باعث کے ایم سی کے کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور ادارہ شدید مالی بحران میں مبتلا ہے۔میئر کراچی نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں، پینشن اور بقایا جات کی ادائیگی کے لئے وزیراعظم پاکستان کو بھی خط لکھا ہے کہ وفاقی حکومت انہیں ساڑھے 3 ارب روپے کا پیکیج دے تاکہ 2016 سے 2020 تک کے دوران ریٹائر ہونے والے ملازمین کے بقایا جات کو ادا کیا جاسکے۔کیا اس بات پر یقین کیا جاسکتا ہے کہ جس مئیر کو لاتعداد مراعات میسر ہوں اسے ادارے کے لئے مالی وسائل دستیاب نہ ہوں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وسیم اختر کے پاس 4700 سی سی کی سرکاری گاڑی ہے. ذاتی اسٹاف میں 19 گریڈ کے دو، 17/18 گریڈ کے 7 آفیسرز، اور درجن کے قریب لوئر اسٹاف موجود ہے تنخواہ کے علاوہ باقی کے تمام الاو¿نسسز بچوں اور بیگم کے لئے KMC کی دو گاڑیاں بمعہ ڈرائیور موجود ہیں. ایم کیو ایم کے جلسوں ریلیوں میں بلدیہ کی گاڑیاں، گاربیج کلیکشن وہیکل اور شارٹ اسنارکل پہنچ جاتے ہیں۔

لیکن یہ شہر کی گندگی نہیں اٹھاسکتے، اور نہ ہی گٹر کھول سکتے ہیں کیونکہ مئیر کے پاس اختیارات نہیں ہیں.لیکن وہ استعفیٰ بھی نہیں دیں گے۔ سربراہ پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر قائد کو تین ماہ کیلئے ان حوالے کر دیا جائے وہ اسے مکمل صاف کردیں گے۔انھوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو میری کارکردگی کا علم تھا ، اس لیے وہ پیچھے ہٹ گئے تھے۔ واضع رہے کہ گزشتہ بارشوں میں وسیم اختر نے مصطفیٰ کمال کی شہر صاف کرنے کی آفر قبول کرکے دوسرے ہی دن واپس لے لی تھی ۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میئر کراچی غلط بات کرتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں ہے۔ کراچی میں 32 سال سے عوام نے پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ دیا ہوا ہے اور انھوں نے کراچی کو مکمل نظر انداز کیا ہوا ہے اگلے بلدیاتی الیکشن میں کراچی کے شہریوں کو چاہئے کہ وہ سوچ سمجھ کر نمائندوں کا انتخاب کریں ۔اور پارٹی کے بدلے اپنے علاقے میں بہتر شہرت کے حامل لوگوں کو انتخابات میں نمائندہ بنائیں اور کراچی سے متحدہ اور پی پی پی کی اجارہ داری کو ختم کریں ،صرف اسی صورت میں اس شہر کے مسائل حل ہوسکتے ہیں آزمائے ہوئے لوگوں کو آزمانا محض حماقت ہے۔چند برس قبل 26 جولائی کو ممبئی میںبھارت کی تاریخ کی بدترین بارش میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ لگاتار چوبیس گھنٹے میں 38 انچ بارش نے ممبئی کا سارا ڈرینیج سسٹم تباہ کردیا کردیا اور پہلی بار ممبئی دو دن بجلی سے محروم رہا،اس کے بعد ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اپنا ہنگامی اجلاس بلایا اور ملک سے مایہ ناز سوک سسٹم کے ماہرین کو بلا کر شہر کے نئے نکاسی نظام کا منصوبہ تیار کیا۔ مہاراشٹر حکومت نے اپنے دو سال کے تمام بجٹ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے حوالے کر دئے اور پھر پانچ سال کے اندر اندر ممبئی شہر کے سارے برساتی نالے براہ راست سمندر کی طرف منتقل کردئے ،اگر سیاست دان کراچی کی بارشوں کے بعد ہونے والی تباہی سے واقعی نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سیاست دانوں کو پارٹیوں سے بالاتر ہو کر صرف کراچی کے بارے میں سوچنا ہوگا ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں تو لوگ سیاست دان حکومت کرنے اندون سندھ سے آتے ہیں ۔جب انھیں اپنے آبائی علاقوں کی ہی فکر نہیں تو کراچی تو ہے ہی مال غنیمت۔