کراچی کی صفائی کا کام فوج اور این ڈی ایم اے کرے گی تو پھر صوبائی و بلدیاتی حکومت کی کیا ضرورت ہے؟

یاسمین طہٰ

سندھ حکومت نے کراچی میں بارشوں کے بعد پیدا شدہ صور ِت حال سے نمٹنے کی کبھی منصوبہ بندی نہیں کی
ہائے اس زودپشیمان کا پشیماں ہونا ،سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علیشاہ نے اس بات کا اعتراف کرہی لیا کہ حکومتی اداروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ،اسی بنیاد پر سندھ حکومت کی ورلڈ بینک کی معاونت سے جاری نالوں کی صفائی کے کام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئےاین ڈی ایم اے نے کراچی میں نالوں کیصفائی کا بیڑا اٹھا لیا ہے، پہلی مرتبہ سندھ حکومت کی جانب سے اعتراف بھی کیا جا رہا ہے کہ بورڈ کی کارکردگی درست نہیں ہے۔سندھ حکومت نے اپنی ناقص کارکردگی کی باعث آ بیل مجھے مار کے مصداق وفاق کے ذریعےکراچی میں کچرے اور نالوں کی صفائی کے لئے این ڈی ایم اے کو خود ہی یہ موقع فراہم کیا ہے۔اور حکومت سندھ بھی گورنر راج کی تلوار سر پر دیکھ کر وفاق کی مداخلت برداشت کرنے پر مجبور ہے اور یہ مجبوری کی بنیاد سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی ہے ۔ چئیرمین این ڈی ایم اے نے کراچی میں کچرے کے ڈھیر دکھا کر ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ ہرسال سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچرہ اٹھانے کے نام پر کروڑوں روپے کے ٹینڈر جاری کرتا ہے اور نالوں کی صفائی پر گزشتہ چار سالوں میں 98 کروڑ روپے کے لگ بھگ رقم کے بعد بھی نالے صاف نہ ہوسکے ،جس کی ذمہ دار ایم سی ہے ۔کراچی میں طویل عرصے سے قابض پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم پاکستان کی کارکردگی شہریوں کے سامنے ہے اسی وجہ سے این ڈی ایم اے نے کراچی کی صفائی کا بیڑا اٹھایا ہے ، سندھ ہائیکورٹ نے بھی صوبائی حکومت اور بلدیاتی اداروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کراچی ڈوب گیا، کسی کو احساس نہیں، ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتا ہے،کراچی میں برساتی نالے بھرنے کے باعث بارشوں میں پیدا مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج کو طلب لیا گیا ہے ،نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی اورفرنٹیئرورکس آرگنائزیشن کوصفائی کے اس کام میں پاک فوج کامعاون بنایا گیا ہے۔ جس کے تحت پاکستان آرمی ، این ڈی ایم اے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کراچی میں بارش اور کچرے کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کرکے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کریں گے اور ان پر انہی اداروں کے ذریعے عملدرآمد کیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ میں نالوں سے نکالے گئے فضلہ کو لینڈ فل سائٹس تک پہنچایا جائے گا، دوسرے مرحلہ میں جو نالے بند ہیں انہیں کھولا جائے گا جبکہ تیسرے مرحلہ میں شہر میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے گا۔ کراچی میں گذشتہ دنوں بارش سے نظامِ زندگی مفلوج ہو گئی تھی ۔اور مذید بارشوں کی پیشن گوئی نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے تیز بارش کے باعث شہر میں ‘اربن فلڈنگ’ نے تباہی مچادی تھی۔اور اس تباہی کی ایک بار پھر پیشن گوئی ہے ۔جس کی بناءپر وزیر اعظم عمران خان نے صور ِت حال سے نمٹنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو فوری طور پرصفائی کا کام شروع کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ اس کام میں فوج کو بھی اتھارٹی کا ہاتھ بٹانے کا کہا گیا ہے۔شدید بارش کے بعد کراچی کی صور ِت حال پر گورنر سندھ اور میئر کراچی وسیم اختر نے وزیر اعظم عمران خان سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔جس کے بعد چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل سمیت دیگر اعلیٰ فوجی حکام بھی صور ِت حال کا جائزہ لینے کے لیے کراچی پہنچ گئے ۔دوسری جانب وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ ناصر شاہ نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد کراچی ڈوب گیا تھا۔

انہوں نے یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ اس سال شہر میں ماضی کے مقابلے صور ِت حال بہت حد تک بہتر رہی ،انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے جولائی کی ابتدا میں ہی شہر کے 38بڑے نالوں کے 78 چوکنگ پوائنٹس پر صفائی کا کام مکمل کرلیا گیاتھا۔جب کہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صوبائی حکومت کے پاس کراچی میں بارشوںکے بعد پیدا شدہ صور ِت حال سے نمٹنے کی سرے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں۔اور نہ ہی بلدیاتی ادارے شدید بارشوں میں شہر میں نظر آئے جب کہ مصطفیٰ کمال کے دور نظامت میں کراچی کے شہریوں نے انھیں ہمیشہ سڑکوں پر موجود پایا ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فوج کی مدد سے شہر صاف کرنا محض عارضی اقدام ہے جب کے شہر کے مسائل کا مستقل حل نکالنا ضروری ہے ۔اورکراچی میں نکاسی آب کے مسئلے کے حل کے لیے مستقل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔جو بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائے بغیر ممکن ہی نہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی وفاقی حکومت نے فوج کے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے تعاون سے شہر میںنالوں کی صفائی کا کام کرایا تھا ۔ادھر سندھ حکومت نے مون سون کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر 230 ملین روپے کی رقم فوری جاری کردی ہے جس کے تحت شہر بھر میں نالوں کی صفائی کا کام تیز کردیا گیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کچرہ صفائی کا کام فوج اور این ڈی ایم اے کرے گی تو پھر صوبائی و بلدیاتی حکومت کی کیا ضرورت ہے؟ کیا حکومتیں اتنی نااہل ہو چکی ہیں کہ کچرہ صفائی کے لئے بھی فوج کی طرف دیکھتی ہیں؟

ہر سال کراچی میں ہونے والی بارشوں سے کئی افراد کرنٹ لگنے اور ندی نالوں میں گر کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں لیکن نہ تو کسی کے کان پر جوں رینگتی ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی کرتا ہے۔جہاں تک نالوں کی صفائی کا کام ہے تو ایک دفعہ کی صفائی سے کراچی والوں کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا، برساتی نالوں کی صفائی منصوبہ بندی کے تحت مستقل بنیادوں پرہونی چاہئے، جو ایک سال میں کئی بار کی جاتی ہے، جسکے لیے عملہ اور مشینری موجود ہے جسے بہتر انداز میں فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے، جب تک بلدیاتی نظام درست طور پر کام نہ کر رہا ہو، این ڈی ایم اے سارا سال روزانہ 12 ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھا سکتی۔ کراچی کے مسائل کو عارضی طور پر حل کرنے کے بجائے مستقل حل سوچنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے کی جانب سے کراچی میں ایف ڈبلیو او کی مشینری کی مدد سے نالوں کی صفائی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ شہرکے بڑے نالے ایف ڈبلیو او کے حوالے کر دیے گئے،لیکن کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ایک ساتھ مل کر بیٹھنا ہوگا تاکہ کوئی دیرینہ حل نکل سکے کیونکہ وقتی طور پر کیے جانے والے اقدامات سے شہریوں کو ریلیف تو ملے گا مگر مسائل جوں کے توں رہیں گے ۔نالوں پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لئے اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کی باتیں ہورہی ہیں وہی مبینہ طور پر تجاوزات کے ذمہ دار ہیں ۔کراچی میں بارشوں کے بعد سڑکوں کی سیلابی صورتحال کی اصل وجہ روزانہ 20 ہزار ٹن پیدا ہونے والے کچرے اور نالوں کی صفائی کا کوئی مستقل انتظام نہ ہونا ہے ۔کراچی کی بزنس کمیونیٹی نے شہر کو پانچ برس کے لئے فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ان کا موقف ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی کے مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہیں ۔نوے کی دہائی سے برسراقتدار سیاسی جماعتوں نے ہی کراچی کو اس نہج پر پہونچادیا ہے ۔