سمندر برائے فروخت

عزیز سنگھور
——

روزنامہ آزادی کوئٹہ
—-
آج کل اسلام آباد میں ایک مصنوعی سمندر بنایا گیا ہے۔ لیکن اس سمندری میں مچھلیاں نہیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود آکشن ہال قائم کیاگیا۔ اس آکشن ہال میں مچھلیوں کی نیلامی نہیں ہورہی ہیں۔ بلکہ سندھ اور بلوچستان کے ساڑھے گیارہ سو کلومیٹر پھیلے ہوئے طویل سمندر کو فروخت کیا جارہا ہے۔ سمندر کی بولی لگائی جارہی ہے۔
ایک اطلاع کے مطابق تقریبا ایک سو چائینیز جہازوں کو سندھ اور بلوچستان کی سمندری حدود میں ماہی گیری کرنے کے لائسنس دیئے جاچکے ہیں۔ ان میں سے 18 سے 20 جہاز چین سے سندھ اور بلوچستان کے سمندر پہنچ چکے ہیں۔ یہ ماہی گیری کے نام پر سمندری حیات کی نسل کشی کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ یہ ماہی گیر دشمن پالیسی ہے۔
سمندر کے اصل وارث سندھی اور بلوچ ماہی گیر ہیں۔ انہیں پالیسی سازی میں بے خبر رکھا گیا ہے۔ ماہی گیروں کی مرضی کے بغیر ریاستی طاقت کے ذریعے ان کی ملکیت (سمندر) کی نیلامی کی جارہی ہے۔ لاکھوں ماہی گیر کیٹی بندر (سندھ) سے لیکر جیوانی (بلوچستان) کے ساحلی پٹی پر اپنی جھونپڑیوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جہاں نہ پینے کے لئے پانی، نہ علاج کے لئے ڈاکٹرز اور نہ ہی ان کے بچوں کے لئے تعلیم کی سہولیات میسر ہیں۔ ماہی گیروں کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اسلام آباد کے ایوانوں میں مقامی ماہی گیروں کی فلاح بہبود کے لئے کوئی بھی جامعہ پالیسی نہیں بنائی جارہی ہے۔ اور نہ ہی ماہی گیری کی صنعت کو پروان چڑھانے کے لئے کوئی پالیسی مرتب کی جارہی ہے۔ بلکہ وزرا اور بیوروکریسی اپنی جیبوں کو گرم کرنے کے لئے ماہی گیر دشمن پالیسیاں بنارہے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج ماہی گیری کی صنعت آخری سسکیاں لے رہی ہیں۔ اور ماہی گیر کمیونیٹی غربت اور بدحالی کا شکار ہوچکی ہے۔
فشری ایک صوبائی معاملہ ہے۔ وفاقی حکومت صوبائی خودمختاری کے خلاف ورزی کرکے سارے معاملات اپنے ہاتھ میں لے چکی ہے۔ پالیسی سازی میں سندھ اور بلوچستان کے ایوانوں میں موجود عوامی نمائندوں سے مشاورت نہیں کی جارہی۔ اپنی مرضی اور منشا کی پالیسیاں اپنائی جارہی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے۔ جو نیب زدہ ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت آئے روز اپنی جان بچانے کے لئے سرتوڑ کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ان کی اپنی کشتی کرپشن کی وجہ سے ڈوب رہی ہے۔ وہ کیا غریب مچھیروں کی ڈوبی ہوئی کشتی کو سہارا دے سکتے ہیں۔ سندھ حکومت میں اتنی جرات نہیں ہے کہ وہ وفاق کی جانب صوبائی خودمختاری کے خلاف ورزی کے خلاف آواز ٹھائیں۔ پی پی حکومت ایک کمزور اور وفاق کے سامنے بلیک میل ہوچکی ہے۔
اس طرح بلوچستان میں جام حکومت بھی ایک کٹھ پتلی حکومت ہے۔ بلوچستان میں 2018 کے عام انتخابات میں ایک منصوبہ بندی کے تحت سیاسی قیادت کو انتخابات سے باہر پھینک دیاگیا۔ ان کی جگہ غیر سیاسی افراد کی بھرتی کی گئی۔ ان غیر سیاسی قیادت میں سیاسی جرات کا فقدان ہے۔ اور نہ ہی ان میں ہمت و جرات ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ وہ جس منصب پر فائز ہیں وہ منصب اسلام آباد کی مہربانی سے ملا ہے۔ آج جام حکومت کی حالت ان غریب مچھیروں سے بھی بدتر ہے۔ کم از کم غریب مچھیرے کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھاسکیں گے۔ جام حکومت میں یہ بھی جرات نہیں ہے۔
بیس لاکھ افراد ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ماہی گیری کی صنعت میں لاکھوں افراد برسر روزگار ہیں۔ ان کے گھر کا چولہا ماہی گیری کی صنعت سے چلتا ہے۔ لیکن چائینیز جہازوں کی دخل اندازی سے لاکھوں ماہی گیر بے روزگار ہوجائیں گے۔اور لاکھوں خاندان معاشی بدحالی کا شکار ہوجائیں گے۔ ان گھروں کے چولہے بجھ جائیں گے۔ وہ نانِ شبینہ کے محتاج ہوجائیں گے۔ان کی خوشحال زندگی بدحالی میں تبدیل ہوجائے گی۔
اس وقت مقامی ماہی گیروں کی وجہ سے حکومت کو مچھلی کی ایکسپورٹ سے اربوں روپے زرمبادلہ حاصل ہورہا ہے۔ لیکن ان جہازوں کو سمندر میں ماہی گیری کی اجازت دینے حکومت اربوں روپے زرمبادلہ سے محروم ہوجائے گی۔
یہ چائینیز جہاز فیکٹری شپ کہلاتے ہیں۔ جن کے اندر مچھلیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے باقاعدہ پروسینگ یونٹس ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ مچھلیوں کا شکار کررہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف وہ مچھلیوں کو پروسیس کرکے براہ راست انٹرنیشنل مارکیٹ بھیج دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومت کو ایک روپیہ زرمبادلہ حاصل نہیں ہوگا۔
ماہی گیری کی صنعت کی تباہی سے ملک میں غذائی پیداوار کی قلت بھی پیدا ہوگی۔ ماہی گیر مچھلی کا شکار کرنے کے بعد اپنا سارا مال لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں خوراک کی قلت پیدا نہیں ہورہی ہے۔ اس وقت تقریبا چالیس فیصد غذائی پیداوار مچھلی سے پوری ہورہی ہے۔ باقی گوشت اور سبزی کی پیداوار سے پوری ہورہی ہے۔ ان جہازوں کا مال مقامی مارکیٹ میں نہیں آئیگا۔ جہاز مالکان اپنا مال براہ راست انٹرنیشنل مارکیٹ میں فروخت کرینگے۔ جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کاطوفان شروع ہوجائے گا۔ گوشت تو کجا سبزی بھی غریب سے دسترس سے دور ہوجائیگی۔ لیکن حکمران طبقہ کو مہنگائی سے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ وہ محلوں میں رہتے ہیں اور سونے کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں۔ ان کے پاس پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وہ اختیارات کا غلط استعمال کرکے اربوں روپے کماتے ہیں۔ اب تک ان چائینیز جہازوں کے مالکان سے اربوں روپے بٹور چکے ہیں۔ اور مزید بٹورتے رہیں گے۔ اس طرح ملک میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جارہا ہے۔
چین سے پاکستان آنے والے جہاز اس سے قبل ساؤتھ چائنا سی میں مچھلی کا شکار کرتے تھے۔
ساؤتھ چائنا سی چین کے جنوب میں واقع ایک سمندر ہے۔ یہ بحر الکاہل کا حصہ ہے اور سنگاپور سے لے کر آبنائے تائیوان تک 35 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ پانچ ابحار (اوقیانوس، کاہل، ہند، منجمد جنوبی، منجمد شمالی) کے بعد سب سے بڑا آبی جسم ہے۔
اس سمندر سے ملحقہ ممالک میں چین، مکاؤ، ہانگ کانگ، تائیوان، فلپائن، ملائیشیا، برونائی، انڈونیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویت نام شامل ہیں۔یہ پورا علاقہ ماہی گیری کے لیے زرخیز ہے مکاؤ، تائیوان، فلپائن، ملائیشیا، برونائی، انڈونیشیا، سنگاپور، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور ویت نام نے متعدد بار چین کی جانب سے ساؤتھ چائنا سی پر قبضے کے خلاف تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ چین نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہمسایہ ممالک کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ ممالک ساؤتھ چائنا سی کا معاملہ امریکہ کی مدد سے اقوام متحدہ میں لے گئے ہیں۔ ابھی تک معاملہ جوں کا توں ہے۔ اب ان جہازوں نے اپنا رخ سندھ اور بلوچستان کی سمندری حدود کیا ہوا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی وہی ہوگا جو چین نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ روا رکھا ہوا ہے۔
اس وقت ساحلی وسائل پر قبضے کے خلاف ایک میر حمل کلمتی کی ضرورت ہے۔ یہاں میں ہرگز گوادر سے منتخب رکن بلوچستان اسمبلی میر حمل کلمتی کی بات نہیں کررہا ہوں۔ ایم پی اے حمل کلمتی کے پاس اتنا بھی اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی ایس ایچ او کا تبادلہ بھی کرسکیں۔ میں اس میر حمل کلمتی کی بات کررہا ہوں جھنوں نے پندرویں صدی میں بلوچستان کے ساحل پر قابض پرتگیز سامراج کے خلاف آواز بلند کی اور ان کی بالادستی کاخاتمہ کیا۔
بلوچستان کی ساحلی پٹی سے منتخب ہونے والے ایم این اے اور از خود سالار ساحل کا لقب پانے والا، اسلم بھوتانی میں بھی اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ سمندر کو ان بڑے بڑے فیکٹری ٹرالرز سے آزاد کراسکیں۔ سالار ساحل اسلم بھوتانی کا آبائی علاقہ دریجی ہے۔ دریجی ساحل سمندر سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور اور پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے۔
خدشہ ہےکہ مستقبل میں گوادر ماہی گیر اتحاد کے مرکزی رہنما ناخدا اکبر رئیس کی جگہ ناخدا شی پیانگ آجائیگا۔ اور مشہور و معروف بلوچی شاعر، قاضی مبارک کی جگہ قاضی چی چینگ آجائےگا۔