25 سالہ ڈاکٹر ماہا علی کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم انکشافات

25 سالہ خاتون ڈاکٹر ماہا علی کی مبینہ خودکشی کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی کو گولی قریب سے لگی۔مبینہ خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا کی اپنے والد سے تلخ کلامی ہوئی تھی۔ڈاکٹر ماہا ایک عرصے سے گھریلو پریشانی کا شکار تھیں۔ڈاکٹر ماہا والد اور بہنوں کے ساتھ 15 دن قبل کرائے کے گھر پر آئی تھی۔


ڈاکٹر ماہا علی کے ورثا نے قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی کے والدین میں علحیدگی ہو چکی تھی جب کہ دونوں نے دوسری شادیاں کر رکھی تھیں،ان تمام وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر ماہا علی ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔بتایا گیا کہ جب ماہا علی نے خو دکو گولی ماری تو اس کی چھوٹی بہن نے اسلحہ چھپا دیا تھا کہ کہیں والد بھی خود کو گولی مار کر خودکشی نہ کر لیں۔
پولیس نے اسلحہ تحویل میں لے لیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ اسلحہ کس کے نام پر تھا۔ڈاکٹر ماہا علی کی لاش آبائی گاؤں میر پور خاص بھجوا دی گئی ہے۔

قبل ازیں بتایا گیا کہ ایک اور انتہائی قابل لڑکی نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ڈاکٹر ماہا علی نامی خاتون نے کراچی کے علاقے ڈیفینس میں خود کو گولی مار خودکشی کر لی۔
پولیس خاتون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی خود کو واش روم میں بند کر کے گولی ماری۔ڈاکٹر ماہا کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔ خاتون کو علاج کے دوران وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا تاہم وہ جان کی بازی ہار گئیں۔ایس پی کلفٹن عمران مرزا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی اپنے والد،چھوٹی بہنوں اور بھائی کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔
وہ ڈپریشن کا شکار تھیں،ابتدائی طور پر واقعہ گھریلو ناچاقی کا ساخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کی عمر 25 سال تھی اور ساؤتھ سٹی اسپتال میں جاب کر رہی تھیں۔ڈاکٹر ماہا خودکشی کی کوشش سے قبل ہی اسپتال سے واپس آئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا جائے گا جس سے اہم معلومات ملنے کا امکان ہے۔ڈاکٹر ماہا نے جس گھر میں خودکشی کی وہ 15 روز قبل ہی کرائے پر لیا گیا تھا
from-urdupoint-pages.