ڈاکٹر ماہا کی فیملی کراچی میں نہیں ، مقدمہ درج نہ ہوسکا

کراچی کے علاقے ڈیفنس گزری میں ڈاکٹر ماہا کی مبینہ خودکشی واقعے پر پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ تدفین کے لیے میر پور خاص گئے ہیں، کیس کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کی مبینہ خودکشی واقعے کی تفتیش جاری ہے، موقع سے ملنے والے پستول کو فارنزک کے لیے دیا گیا ہے،جبکہ پستول کی ملکیت معلوم کرنے کے لیے اسپیشل برانچ کو خط لکھا گیا ہے

پولیس نے بتایا کہ تفتیش میں قتل کے شواہد سامنے آئے تو مقدمہ درج کیا جائے گا، تفتیش کے سلسلے میں ڈاکٹر ماہا کے قریبی دوستوں سے بھی رابطہ جاری ہے۔

پولیس کاکہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق معاملہ خودکشی کا ہی معلوم ہوتا ہے ۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہا ایک عرصے سے گھریلو پریشانی کا شکار تھیں، ڈاکٹر ماہا والد اور بہنوں کے ساتھ 15 دن قبل کرائے کے گھر پر کراچی کے پوش علاقے میں منتقل ہوئی تھیں ۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا علی کے والدین میں علیحدگی ہو چکی تھی جبکہ دونوں نے دوسری شادیاں کر رکھی تھیں، ان تمام وجوہات کی بنا پر ڈاکٹر ماہا علی ذہنی دباؤ کا شکار تھی، بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی درگاہ گرھوڑ شریف کے گدی نیشن کی بیٹی تھیں

jang-report