کراچی میں 25 سالہ ڈاکٹر ماہا علی نے خودکشی کر لی

25 سالہ خاتون ڈاکٹر نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق ایک اور انتہائی قابل لڑکی نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ڈاکٹر ماہا علی نامی خاتون نے کراچی کے علاقے ڈیفینس میں خود کو گولی مار خودکشی کر لی۔پولیس خاتون کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی خود کو واش روم میں بند کر کے گولی ماری۔ڈاکٹر ماہا کو تشویشناک حالت میں اسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ علاج کے دوران دم توڑ گئیں۔
خاتون کو علاج کے دوران وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا تاہم وہ جان کی بازی ہار گئیں۔ایس پی کلفٹن عمران مرزا کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی اپنے والد،چھوٹی بہنوں اور بھائی کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔وہ ڈپریشن کا شکار تھیں،ابتدائی طور پر واقعہ گھریلو ناچاقی کا ساخسانہ معلوم ہوتا ہے۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کی عمر 25 سال تھی اور ساؤتھ سٹی اسپتال میں جاب کر رہی تھیں۔

ڈاکٹر ماہا خودکشی کی کوشش سے قبل ہی اسپتال سے واپس آئی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہا کے موبائل فون کا ریکارڈ حاصل کیا جائے گا جس سے اہم معلومات ملنے کا امکان ہے۔ڈاکٹر ماہا نے جس گھر میں خودکشی کی وہ 15 روز قبل ہی کرائے پر لیا گیا تھا۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے جامعہ کراچی کی طالبہ نادیہ اشرف نے بھی خودکشی کر لی تھی۔ہ جامعہ کراچی میں‌ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ریسرچ کی طالبہ نے پی ایچ ڈی سپروائزر سے تنگ آکر خودکشی کرلی- حالیہ دنوں میں پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں پیش آنے والا یہ سب سے المناک واقعہ ہے- ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ریسرچ جامعہ کراچی کی ایک ہونہار طالبہ نادیہ اشرف نے مبینہ طور پر اپنے PhD سپر وائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے مظالم سے تنگ آ کر خود کشی کی ۔
نادیہ اشرف اپنے قریبی دوستوں سے یہ کہتی تھیں کہ ’’ ڈاکٹر اقبال چوہدری میرا پی ایچ ڈی نہیں ہونے دیں گے، ڈاکٹر صاحب نہ جانے مجھ سے کیا چاہتے ہیں”۔ یہ وہ کلمات ہیں جو نادیہ اشرف نے خود کشی کرنے سے پہلے اپنے قریبی حلقے میں ادا کیے ہیں۔ نادیہ اشرف کے قریبی حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے نادیہ کو مزید تنگ کرنے کے لیئے اس پر اپنی چہیتی نا لائق فیکلٹی ڈاکٹر عطیۃ الوہاب کو بھی مسلط کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھی
urdupoint-report