آپ تفتیشی افسر ہیں اور آپ کے پاس بنیادی معلومات نہیں؟

سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر پر اظہارِ برہمی کیا ہے۔

شرجیل انعام میمن و دیگر کےخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شرجیل میمن نے مختلف لوگوں کے نام پر جائیدادیں خریدیں۔

انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن پر 2 ارب 43 کروڑ روپے کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس بنایا گیا، ان کی جائیدادوں میں صرف 16 کروڑ روپے کی ملکیت کی تصدیق ہوئی۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شرجیل میمن نے 2 ارب 27 کروڑ روپے کے ناجائز اثاثے بنائے، ملزم نے اپنے اہلِ خانہ اور بے نامی اداروں کے نام پر جائیدادیں خریدیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالتِ عالیہ میں جائیدادوں کی تفصیلات پیش کر دیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آپ ان جائیدادوں کی تفصیلات کیلئے خود گئے تھے؟

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ہم نے مختار کار سے ریکارڈ منگوایا تھا۔

عدالتِ عالیہ نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ جائیدادوں کی مالیت جانچنے کیلئے ہی چلے جائیں، شرجیل میمن کی اہلیہ اور والدہ کے وکیل نے بتایا ہے کہ وہ خود مختار اور ٹیکس دہندہ ہیں۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد خریدی ہے، ان کے انکم ٹیکس ریٹرن سے جائیداد کہیں زیادہ ہے۔

جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ آپ تفتیشی افسر ہیں اور آپ کے پاس بنیادی معلومات نہیں؟ آپ کو اتنا نہیں معلوم کہ فائلر اور نان فائلر میں کیا فرق ہوتا ہے؟ ہم نے کل ہی کہا تھا کہ اوریجنل دستاویزات پیش کریں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ فارم ہاؤس کی دستاویزات کہاں ہیں؟ سب سے اہم الزام یہی ہے اور آپ کے پاس دستاویزات تک نہیں۔

جسٹس ذوالفقار سانگی نے کہا کہ اگر ایسی تفتیش ہوگی تو آپ کے خلاف بھی انویسٹی گیشن ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیئے: شرجیل میمن کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

تفتیشی افسر نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ ہمیں معافی نہیں، دستاویزات چاہئیں۔

اس سے قبل شرجیل میمن و دیگر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس میں ملزم اظہار کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے۔

ملزم اظہار کے وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گھر میرے مؤکل کی بیوی کے نام پر ہے، جس کی دستاویزات موجود ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گھر 2017ء میں خریدا گیا تھا، میرا مؤکل 2018ء کے الیکشن میں شرجیل میمن کا کورنگ امید اوار تھا۔

گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی سماعت کے دوران نیب سے سوال کیا تھا کہ سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کی والدہ اور اہلیہ کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟
jang-report