فیصلے کی گھڑی

عاصمہ شیرازی
———
asma sheerazi urdu columnist urdu writer tv anchor news anchor

قومی سطح پر تو ہم ہمیشہ نازک دور سے گزرتے ہی رہے ہیں تاہم اب عالمی سطح پر بھی نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک جانب چین
خیرخواہ تو دوسری جانب امریکہ۔ پاکستان کا پہلا اور پرانا پیار، ایک جانب سعودی عرب سا بھائی تو دوسری جانب ایران سا برادر ہمسایہ۔

ایک جانب انڈیا سا دشمن اور اُس کے ساتھ کھڑے عرب امارات۔۔۔ کشمیر پر خاموش مگر اسرائیل کا دم بھرتی، بٹتی تقسیم ہوتی، انڈیا سے مراسم بڑھاتی مسلم اُمّہ اور دوسری جانب ہم مسلم اُمّہ کے سب سے بڑے پرچارک۔

سب اچھا چل رہا تھا، پھر اچانک وزیر خارجہ نے سعودی عرب کو آنکھیں دکھائیں کہ اب کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس بُلانا ہو گا، ورنہ۔۔۔

اس ورنہ سے پہلے ہی سعودی عرب کا پاکستان کو دی گئی رقم کی واپسی کا تقاضا اور چین کا ایسی صورت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام سب کھل کر سامنے آ گیا۔

صورتحال یوں ہے کہ عرب امارات کے اسرائیل اور انڈیا سے روابط، سعودی عرب کا انڈیا میں حالیہ بھاری اور تاریخی سرمایہ کاری کا اعلان اور امریکہ کی ان سب کی سرپرستی خطے میں پہلے سے جاری کشمکش کو مزید الجھا رہی ہے۔

اُدھر ایران، چین اور روس میں پینگیں بڑھ رہی ہیں۔ چین اور ایران میں تاریخی تجارتی معاہدے طے پا رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے چاہ بہار منصوبے سے انڈیا کی فراغت نے چین کے لیے نئے راستے کھولے ہیں۔

گذشتہ برس کے اختتام تک کسی نے سوچا تک نہ تھا کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ کورونا کی وبا کے بعد دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

علاقائی اور عالمی سطح پر نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ ہر ملک تیاری کر رہا ہے کہ ایک سے دو ہوتی اور مغرب سے مشرق میں منتقل ہوتی عالمی طاقتوں میں توازن کی جنگ کیسے جیتنی ہے۔

شاہ فیصل اور ہنری کسنجر
انڈیا اور امریکہ کی بڑھتی قربت کے بیچ چین اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ، عرب امارات اور اسرائیل کے مابین جگری یاری، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہلکی پھلکی موسیقی انھی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب پیچھے چھپے ملکوں کو بھی کھل کر اپنی چوائس بنانا ہو گی۔ دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے دشمن کو کھل کر قبول کرنا ہو گا۔ یزید سے مراسم اور حسین کو بھی سلام کی پالیسی ترک کرنا ہو گی۔ عالمی دوستی کے بدلتے تقاضوں کس علاقائی دوستی کے تقاضوں میں ڈھالنا ہو گا۔

گذشتہ ستر برسوں میں ہم آرام سے اپنی جغرافیائی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے رہے۔ یہاں وہاں سے آنے والے احکامات کسی حد تک اپنے مفادات کے ساتھ آگے بڑھاتے رہے۔ آزاد خارجہ پالیسی کا دم بھرتے لیکن کبھی کسی کیمپ اور کبھی کسی کیمپ کا حصہ بنتے رہے۔

بانی پاکستان محمد علی جناح جس آزاد اور خودمختار خارجہ پالیسی کا خواب دے کر گئے وہ ہم نے آزادی کے چند سال بعد ہی دھوم دھڑکے سے امریکی کیمپ کے ساتھ اپنی اپنائیت کے اظہار میں گنوا دی۔

فروری 1948 کے ایک نشریے میں امریکی عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان کو بین الاقوامی تعلقات میں غیر وابستہ رہنا چاہیے۔

جناح نے بنیادی اصول وضع کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’خارجہ پالیسی کے میدان میں ہمارا مقصد یہ ہے کہ سب سے دوستی ہو اور کسی بھی ملک کے خلاف ناپسندیدہ عزائم نہ رکھے جائیں۔ ہم قومی اور بین الاقوامی معاملات میں دیانت اور اصولی طریقِ کار اختیار کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہماری کوشش یہ ہے کہ ہماری تمام مساعی سے عالمی امن کو یقینی بنانے میں مدد ملے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق زبوں حال اور جبر سے دوچار اقوام کی حمایت اور مدد سے کبھی گریز نہیں کرے گا۔‘

لیکن ان زریں اور راہنما اصولوں کو فراموش کرتے ہمیں کچھ زیادہ وقت نہ لگا اور آزادی کے محض دو ماہ بعد ہی دو عالمی طاقتوں امریکہ اور روس کی دنیا میں پاکستان نے اپنا جھکاؤ امریکہ کی جانب ظاہر کر دیا۔

بعد میں سیٹو اور سینٹو کے معاہدوں میں باقاعدہ شمولیت نے علاقے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ’مشروط‘ بنا دیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔

بھٹو اور پہلوی
ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو علاقائی ملاپ دینے کی کوششش کی۔ ایک جانب سوشلسٹ چین اور دوسری جانب کمیونسٹ روس کے ساتھ تعلقات کے فطرتی ملاپ کو آزمایا تو دوسری جانب پاکستان کی خلیجی ریاستوں سے قربت کے لیے نصف عرب اور ایران سے دوستی کے لیے نصف فارس کا نظریہ روشناس کروایا۔

بہر حال جنرل ضیا الحق کے اقتدار پر قبضے اور اُس کے بعد امریکہ نواز پالیسیوں کی ایک طویل داستان ہے جس کا ذکر کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔

پاکستان کو اپنی جغرافیائی حیثیت اور اپنی علاقائی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے اب اہم فیصلے کرنا ہوں گے۔ آئندہ کچھ عرصے میں چند اور عرب ممالک اسرائیل کی جانب جھکیں گے اور پاکستان پر بھی دباؤ ہو گا۔

پاکستان اس نازک وقت میں اُسی صورت ایک بہتر خارجہ پالیسی بنا سکتا ہے جب اپنے قومی مفادات اور عوامی رائے کو سامنے رکھا جائے۔ اس وقت ملک میں جس قدر لسانی، علاقائی اور فرقہ وارانہ تقسیم موجود ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔

ذرا سی چنگاری قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کر سکتی ہے لہذا فیصلے صحیح معنوں میں ’قومی مفاد‘ میں کرنے کی ضرورت ہے۔

from-humsub-pages