کراچی کی پیشانی پر درج سوالات پڑھنے کی زحمت تو کریں۔

کراچی کی پیشانی پر درج سوالات پڑھنے کی زحمت تو کریں۔
کوشش کریں رب کے عتاب اور اللہ کے عذاب سے بچ سکیں۔
——-
سہیل دانش
———

جب میں کراچی کے المیے کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے کراچی کی شاہراہوں محلوں اور گلیوں میں ایک سایہ چلتا ہوا نظر آتا ہے، جس کی پیشانی پر لکیر در لکیر سوالات درج ہیں اس کے چہرے پر اتنے کھرونچے اور زخم ہیں جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔
آزادی کے بعد کا کراچی صرف ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل تھا۔ آزادی کا ترانہ بجا تو کراچی پاکستان کا دا رلخلافہ ٹھہرا۔ سمندری راستہ کے ذریعے ہندوستان سے ہجرت کرنے والوں میں غالب اکثریت کا ٹھکانہ کراچی بنا۔ مچھیروں کی بستی اور چند ہزار کاروباری خاندانوں کا مسکن یہی شہر تھا۔ نئے وطن کی تشکیل تو ہو گئی لیکن سر اٹھاتے مسائل ان وسائل کے مقابلے میں بہت ذیادہ تھے جو مملکت خداداد کی دسترس میں آئے تھے۔
1950 کی دہائی کی ابتداء میں قائد ملت خان لیاقت علی خان کی شہادت وطن عزیز کے لئے سانحہ عظیم ثابت ہوئی۔ بعد میں حکومتیں ڈگمگاتی رہی اور شازشیں اور ریشہ دوانیاں اپنا کام دکھاتی رہیں اور ایک طویل عرصہ ملکی ادارے اور اس کا معاشی اور سیاسی ڈھانچہ اس طرح نَمونہ پا سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ حکومت کا اختیار اور اس کی رٹ کمزور بنیادوں پر کھڑی تھی۔ مانتا ہوں کہ اس دوران آنے والے حکمرانوں میں سے عموماً کے سینے پر ایمانداری اور شخصی شرافت کا لیبل ضرور نظر آتا ہے لیکن بات وہی ہے کہ تاریخ کے نزدیک حکمرانوں کی انفرادی ایمانداری اور شرافت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس ملک کا ایک وزیر اعظم تھا، جس کی شیروانی کے نیچے کرتا نہیں ہوتا تھا۔ اسی ملک کا ایک وزیر اعظم گزرا ہے، اس کی اہلیہ کے ہاتھ کچن میں برتن مانجھتے مانجھتے پھٹ گئے تھے۔ وہ شخص بھی اس ملک کا وزیر اعظم تھا، جس کا پوری دنیا میں اپنا کوئی ذاتی مکان نہیں تھا۔ وہ بھی اس ملک کا صدر تھا جس کی آخری زندگی لندن کے ایک کرائے کے فلیٹ میں گزری اور اس کی بیوی کو پی آر او کی تنخواہ پر گزارا کرنا پڑا۔ وہ بھی اس ملک کا لیڈر تھا جو فلائنگ کوچ کے حادثے میں مرا تو جیب سے بر آمد ہونے والی رقم سے اس کی تدفین تک ممکن نہیں تھی۔ اس ملک کا ایک ایسا مطلق العنان حکمران بھی گزرا جو امریکہ کے دورے پر پی آئی اے کی ایک عام فلائیٹ پر مسافروں کے ساتھ گیا لیکن اب کوئی ان کا ذکر تک نہیں کرتا کیونکہ ان کے کھاتے میں ذاتی ایمانداری کے علاوہ کوئی کارنامہ نہیں تھا۔
1958میں ایوب خان بر سر اقتدار آئے تو حکمرانی میں ایک تسلسل آیا۔1993میں جناب مجید نظامی کی ہدایت پر میں نے جنرل اعظم کی خود نوشت لکھنے میں ان کی مدد کی, جنرل اعظم ان دنوں کے بہت سے رازوں کے امین تھے۔ اس لئے سکندر مرزا کی بر خاستگی سے لیکر کراچی سے دارلخلافہ کی منتقلی تک بہت سے اہم فیصلوں کے متعلق انہوں نے بتایا کہ درحقیقت ایوب خان نے اقتدار سنبھالتے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ پاکستان کا نیا دارلحکومت مرگلہ کی پہاڑیوں کے ساتھ ایک پر فضا مقام پر بنایا جائے گا۔
قائد اعظم اکیڈمی سے تعلق رکھنے والے دانشور اور محقق جناب خواجہ رضی حیدر نے بتایا تھا کہ ایک بار قائد اعظم نے راولپنڈی سے مری جاتے ہوئے مری روڈ پر گاڑی رکوا کر اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ یہ جگہ تو بہت ہی خوب صورت اور شاندار ہے۔ یہاں ایک خوب صورت اور جدید شہر تعمیر ہو سکتا ہے لیکن با بائے قوم سمجھتے تھے کہ کراچی کو ہی پاکستان کا دا رلخلافہ ہو نا چاہیئے۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ایوب خان کا آبائی گاؤں ریحانہ مرگلہ کی پہاڑیوں کے سلسلے کے ساتھ تھا، اس لئے انہوں نے اس علاقے کے قریب پاکستان کا دارلخلافہ بنایا لیکن قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایوب خان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ کراچی مغربی پاکستان کا واحد پورٹ سٹی ہونے کے سبب یہاں کی آبادی بہت تیزی سے بڑھے گی اور اس لئے یہ ایک پر سکون شہر نہیں رہ سکے گا۔ یہاں پر مختلف سیاسی اثرات اور اثرو نفوذ کار فرما رہیں گے۔ جو حکومت کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لئے پاکستان کا نیا دارلخلافہ کسی دوسرے علاقے میں بنانا ضروری تھا۔
جنرل اعظم نے کراچی کے حوالے سے ایک دلچسپ بات بتائی تھی، یہ اس وقت کی بات ہے جب کراچی میں کورنگی کی بستی آباد ہو رہی تھی۔ جب پانی کی پائپ لائن ڈالنے کا مرحلہ آیا تو جنرل اعظم اس کے معائینے کے لئے پہنچے، انہوں نے حکم دیا کہ پائپ لائن کا کام آئندہ 72گھنٹے میں ختم ہوناچاہیئے۔ اس منصوبے کے چیف انجینئر نے جنرل اعظم سے کہا کہ سر اتنی جلد ی یہ ممکن نہیں ہے۔ جنرل اعظم نے اپنی سخت زبان اور کھر درے لہجے میں چیف انجینئر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تین دن میں مکمل نہ ہوا تو پائپ لائن کی جگہ آپکو ڈال دیا جائے گا اور پھر یہ کام 72گھنٹے میں پہلے مکمل ہوچکا تھا۔
1950کی دہائی میں کراچی میں توسیع کا مرحلہ شروع ہو چکا تھا۔ عامل کالونی کے پشت پر مکانات بننے شروع ہوئے، پھر پی آئی بی کالونی نے سر اٹھانا شروع کیا۔اس وقت چند پرانی بسیں اور ٹرام پٹہ آزادی سے قبل کی یاد گار تھیں۔ آپ اس بات سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ قائد اعظم کی تدفین کراچی کے جس علاقے میں کی گئی تھی، اس وقت اس علاقے کے بارے میں اخبارات میں شہہ سرخیاں لگیں کے بابائے قوم کو شہر سے باہر ٹیلے پر دفنا دیا گیا۔ اس جگہ کی انتخاب کے لئے متعدد مسلم لیگی اکابرین کو کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ایوب خان کا دور کراچی کی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہوا، اس دور میں کراچی کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ سائیٹ ایریا بنا، صنعتیں لگنی شروع ہوئیں، متعدد تعلیمی اداروں کے دروازے کھلے اور شہر کے انفرا اسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کی زندہ مثال نارتھ ناظم آباد کے انفرا اسٹرکچر، کشادہ ڈیزائننگ اور شاندار پلاننگ سے لگایا جا سکتا ہے۔1966میں ایک ممتاز ٹاؤن پلانر نے تجویز پیش کیا تھا کہ نارتھ ناظم کے ساتھ پہاڑی سلسلے پر تفریحی مقامات بنائے جا سکتے ہیں۔ ان میں ریزروٹ، ریسٹورنٹ اور پارکس بنائے جا سکتے ہیں مگراس تجویز پر عمل نہیں کیا گیا جسکی وجہ سے اب وہاں پر غیر قانونی آبادی کا ایک جنگل ہے۔ لیاقت آباد اور گو لیمار کا علاقہ بھی پلاننگ کے مطابق نہیں بنایا گیا بعد میں ان علاقوں میں جو غیر قانونی تعمیرات ہوئیں، ا ن تعمیرات نے ان علاقوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔
گذشتہ دنوں برادرم مجاہد بریلوی اور خالد فرشوری نے ناظم آباد پر ایک گہری نظر ڈالی، بہت ہی خوب صورت انداز سے انہو ں نے اس علاقے کی ترقی، اس علاقے میں رہنے والوں کے طور طریقے اور ممتاز شخصیات کے حوالے سے ناظم آباد کے سفر کی کہانی تحریر کی تھی۔ کراچی میں کیماڑی سے لیکر بندر روڈ تک لیاری سے لیکر رنچھوڑ لائن تک ٹاور سے شاہراہ فیصل تک غرض کورنگی، لانڈھی، ملیر، گلشن اقبال، گلستان جوہر، فیڈرل بی ایریا سے نیو کراچی اور شیر شاہ سے میٹروول تک آپکو درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں بستیاں اور پھیلتی ہوئی آبادیاں نظر آئیں گی۔ ان میں بیشتر آبادیاں نہ صرف گنجان آباد ہیں بلکہ بے ترتیب بھی ہیں، پھر سب سے بڑھ کر کراچی میں آپکو کچی آ بادیوں کا ایک جنگل اگتا ہوا نظر آ ئے گا۔کراچی میں یہ کچی اور غیر قانونی آبادیاں کیسے بنیں اور ان پر قبضے کس نے کروائے؟ اب یہ سوال سپریم کورٹ تک جا پہنچا ہے کہ کراچی میں ڈرینیج کے نظام اور نکاسی آب کے لئے جو بڑے برے نالے اور ندیاں بنائی گئیں تھیں، ان میں با قاعدہ آبادیاں قائم ہو گئیں اور اہم بات یہ ہے کہ یہ آبادیاں کیسے بنیں، ان کی سر پرستی کس نے کی، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کا کلیدی کردار ہے۔ اس شہر کو اجاڑنے میں یہاں کے حکمرانوں اور دعویداروں کا ہاتھ ہے۔ اس شہر میں تجاوزات بنانے اور غیر قانونی تعمیرات میں پولیس، متعلقہ سرکاری اداروں اور سیاسی قوتوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ یہ سارا غیر قانونی کام بتدریج اور بڑی سرعت کے ساتھ ہوا۔ زمینوں پر قبضے، غیر قانونی الاٹمنٹ اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق کراچی کا چہرہ بگاڑنے والے چہروں کو ہر کوئی پہچانتا اور جانتا ہے۔
غیر قانونی کام کو قانونی بنانے کے لئے کراچی میں متعدد مافیاز ہر وقت اور ہر دور میں سر گرم رہی ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ سائیکل پر، بسوں میں، کوچز میں سفر کرنے والے پراڈو اور مر سڈیز کے کیسے مالک بن گئے؟ کبھی آپ نے سوچا کہ 18اور19گریڈ کے سرکاری ملازمین کے بچے دنیا کی مہنگی ترین یو نیورسٹیوں میں پڑھنے کے قابل کیسے ہو گئے؟ آپ صرف کراچی کی پوش بستیوں کے محل نما گھر وں کی کنڈیاں بجا کر دریافت کر لیں کہ انہوں نے یہ وسائل اور لائف اسٹائل کیسے پیدا کیا، ان میں سے 80فیصد لوگوں کے چہروں پر سے نقاب اتر جائینگے اور ہم اب نا سمجھ اور بھولے بن کر ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کراچی کا یہ حال کیسے ہوا۔ یہ باتیں نہ کوئی پہیلی ہے اور نہ ہی کوئی معمہ بلکہ یہ کھلی حقیقتیں ہیں۔
کراچی کے یہ دکھ کئی نسلوں پر محیط ہیں، یہاں لسانی تقسیم بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کراچی کے احساس محرومی کا درد بیان کرتے کرتے یہاں کے لوگ تھک گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے کبھی بھی صورت حال کا حقیقت پسندانہ جائزہ نہیں لیا کیونکہ یہ سب مفادات کے مارے لوگ ہیں۔ تمام سیاسی گروپ کچھ دو اور کچھ لو کے اصول پر کار فرما ہیں، اس شہر کو کبھی کسی نے اپنا مانا ہی نہیں ہے۔
جنرل مشرف کراچی کے مفادات کے بڑے چیمپئین کہلاتے تھے۔ وہ یک جنبش قلم کوٹہ سسٹم ختم کر سکتے تھے، میرٹ کا نظام نافذ کر سکتے تھے، سرکاری ملازمتوں میں سندھ کے شہروں کو انکا حصہ دلاسکتے تھے مگر انہوں نے ان مسائل کو حل کرنے میں کوئی خاطر خواہ اقدام نہ کیا۔ پیپلز پارٹی سندھ کی لسانی اکائیوں میں ہم آہنگی اور بھائی چارہ پیدا کرنے کے لئے کلیدی کر دار ادا کرسکتی تھی اورقدرت نے انہیں بار ہا موقع دیا مگر انہوں نے بھی ان مواقع کو ضائع کر دیا۔ایم کیو ایم کے عروج و زوال کی کہانی بھی حیران کن ہے۔ اس کے ووٹر اور سپورٹر وہ محروم، مجبور اور بے بس لوگ تھے جو مسلسل اپنے لئے ثمرات کی بالٹیاں بھرنے کی امید لگائے بیٹھے رہے لیکن آخر میں انہیں معلوم ہوا کہ ان بالٹیوں کی پیندے ہی نہیں تھے۔مراعات اور ملازمتوں کے بٹوارے ہوتے رہے، کہیں یہ فروخت ہوئیں اور کہیں ان جماعتوں کی تنظیمی آپریشنل فورس مستفید ہو تی رہی مگر کراچی کے محروم، مجبور، بے بس لوگ ان تمام ثمرات سے کوسوں دور رہے۔
اس شہر نے ہزاروں نوجوانوں کو مرتے ہوئے دیکھا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس شہر کا مقدمہ لڑنے والا کوئی بھی نہیں ہے اور اگر کوئی ہے تو اس شہر کے جسم پر لگے زخم تو بول رہے ہیں اور اسکے درد کی چیخیں بھی گواہی دے رہی ہیں تو پھر کیوں اسکے زخم اور درد کا ازالہ نہیں کیا جا رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس شہر کا انتظام چلانے والے اندھے، بہرے اور گونگے ہو گئے ہیں اور وہ اس شہر کے زخم اور درد کا ازالہ نہیں کرنا چاہتے۔
آپ سوچتے ہونگے کہ تمام قوانین کی موجودگی میں کراچی میں گذشتہ دہائیوں میں قانون کی دھجیاں کیوں بکھیری گئیں، اسکا جواب بھی بڑا سیدھا اور واضح ہے۔ دراصل ملک میں شروع دن سے ہی قوانین انتہائی سخت بنائے گئے لیکن انصاف کا عمل اتنا ڈھیلا نرم اور طویل رکھا گیا کہ مدعیوں کی تین تین نسلیں فیصلہ سننے کی آس میں قبر تک پہنچ جاتی ہیں لیکن سماعتیں، پیشیاں، گواہیاں، تاریخیں، ثبوت، بیانات، اسٹامپ پیپرز اور شہادتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ لہذا مجرموں کو معلوم ہو گیا ہے کہ اگر ان کے پاس پیسے ہیں تو قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اسٹے آرڈر لینا، پیرول پر رہا ہونا اور ضمانت قبل از گرفتاری کا بندو بست کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ چنانچہ ملک کی طرح اس شہر کراچی میں بھی جرم ہوتے رہے اور مجرم رہا ہوتے رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ کراچی میں امن قائم کرنے کے لئے اس وقت کے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو صاحبہ کو یہ فارمولااپنانا پڑا کہ مجرم کو پکڑو اور گولی سے اڑا دو اور نواز شریف کو دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ملٹری کورٹس بنانی پڑی،جس کے بعد ملک میں انصاف کے تین الگ الگ دھارے بہنے لگے۔
گذشتہ دس سالوں میں امن کمیٹی اور دیگر تنظیموں نے کیا گل کھلائے، سب ان جرائم کی باز گشت سن کر کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔ گزر جانے والے واقعات کی تفصیلات بڑی دردناک بھی ہے اور کربناک بھی مگر اس کا ذمہ دار کون تھا؟ چلیں یہ کہہ کر جان چھڑا لینگے کہ جو ہونا تھا وہ ہو گیا، اب آگے چلیں لیکن اس بات کا جائزہ تو لے لیں کہ جو کارستانیاں کی گئیں وہ کیا تھیں اور کیوں کی گئیں۔ کیونکہ قدرت کا قانون ہے جو اٹل ہے کہ جس معاشرے میں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور ظالم کیفر کردار تک نہیں پہنچتا، انہیں زمین چاٹ جایا کرتی ہے۔
ان تمام ادوار وں سے گزرنے کے بعداب ہم غور کر رہے ہیں کہ کراچی کا اسٹیٹس کیا ہونا چاہئے اس سلسلے میں اندیشے بھی ہیں، خدشات بھی ہیں اور کچھ نئی تیاریاں بھی ہیں۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ 2اپریل 1970کو اگر یحیٰ خان کراچی کو سندھ میں شامل کرنے کا فیصلہ نہ کرتے تو شاید اس شہر پر کبھی یہ افتاد نہ پڑتی۔ آج یہ شہر مسائل کا قبرستان بن گیا ہے اور شہر کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ داران اس شہر کے مسئلے حل کرنے کے بجائے صرف ایک دوسرے پر بے رحمانہ تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔
ہم نے بہت سے تجربات کر لئے ہیں۔ہم نے ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ادوار بھی دیکھ لئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومتوں کے مزے بھی چکھ لئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے دعوے اور وعدے بھی دیکھ لئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا کراچی کے حوالے سے کردار اور انداز بھی دیکھ لئے ہیں۔پھر ہم نے تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی، شہر کی صفائی، لوگوں کے روزگار کی فراہمی پیدا کرنے کے کیا اقدامات کئے۔ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں من مانے اضافے کو روکنے کے لئے کیا میکنزم بنایا۔ آیئے ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں اور غور وفکر کریں اور شہر کراچی کے مستقبل کے حوالے سے کوئی مستقل لائحہ عمل اپنائیں تاکہ اس شہر کے اوراسکے باسیوں کے دکھ درد کا مدوا ہو سکے۔ چلیں جو ہوا سوہوا لیکن اپنے اعمال نامے پر ایک نظر ڈالنے کی زحمت تو گوارا کر لیں تاکہ آئیندہ ایسی غلطیاں اور غیر ذمہ داریاں دوبارہ نہ دہرایا جائے۔
کوئی ہے جو انہیں روکے اور ٹوک کر کہے کہ پیالی میں چمچہ ہلانا بند کریں کیونکہ یہ طے ہے کہ اگر چائے میں چینی نہ ڈالی جائے تو چمچہ ہلانے سے چائے میٹھی نہیں ہوا کرتی یا ہم کوئی ایسی کتاب دریافت کریں، کوئی آیت، کوئی حدیث، کوئی فتویٰ اور حوالہ تلاش کریں۔کوئی قانون، کوئی ایسی آئینی شق، کوئی ایسا دستور، کوئی آرڈیننس، کوئی ایسی دفعہ، کوئی ایسی ترمیم وضع کریں۔ ہم کوئی ایسی گھاٹی، کوئی ایسا غار، کوئی ایسا گڑھا، کوئی ندی، کوئی ایسی قبر تیار کریں۔ جہاں ہم اپنا ضمیر اپنا احساس، اپنی شرم، اپنے سوال اور اپنے جواب دفن کر سکیں۔ ہم سب مل کر کوئی ایسا گوشہ، کوئی ایسا کونہ، کوئی ایسا تہہ خانہ، کوئی ایسی کوٹھڑی، تلاش کریں، جہاں ہم چھپ کر خدا کے قہر سے، رب کے عتاب سے اور اللہ کے انصاف سے بچ سکیں۔