کورونا کو شکست دینے والے ہمارے ہیروز

۔۔۔(خالد بن مجید)

آج دنیا بھر میں انسانیت کی خدمت کرنے والوں کا دِن منایا جارہا ہے، اِن میں وہ بھی شامل ہیں جو فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھے۔ آج ”حقیقی زندگی کے ہیرو“ کے عنوان سے دنیا بھر میں تقریبات ہوں گی۔ یہ دِن عالمی سطح پر ہر سال 19 اگست کو منایا جاتا ہے۔ گزشتہ سال طبّی امداد فراہم کرنے والے 483 افراد پر حملے ہوئے، 125 مارے گئے، 234 زخمی ہوئے اور 124 کے قریب اغواء کرلیے گئے۔ یہ سب انسانیت کی خدمت میں مصروف ِ کار تھے، یہ سب بیماریوں کے خلاف جہاد میں شریک تھے۔ یہ سب انسانی جانیں بچانے میں سرگرداں تھے۔ رواں سال کورونا وباء سے تقریباً پوری دنیا متاثر ہوئی، اِس صورتحال میں اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی زندگیوں کو بچاتے ہوئے کئی ڈاکٹر، پیرامیڈیکس بھی متاثر ہوئے۔ چند ایک زندگی کی بازی بھی ہار ے مگر کہیں سے بھی یہ آواز بلند نہیں ہوئی کہ ہم کورونا متاثرین کا علاج نہیں کریں گے۔دنیا بھر کے شورش زدہ ممالک، خطوں میں ہیلتھ ورکرز کی زندگی ہمیشہ سے خطرات سے دو چار رہی ہے، یہ عام لوگوں کی طرح نہیں جیتے، اِن کے سروں پر تشدد ہونے، اغواء کیے جانے یا خدانخواستہ جان سے مار دیے جانے کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں مگر اِن سب خدشات و خطرات کے باوجود اِن کی استقامت لائق صد تحسین ہے۔ پولیو ورکرز ہوں یا وباء کیخلاف لڑنے والے سب وہ ہیروز ہیں جو اپنا آج داؤ پر لگا کر ہمارے کل کیلئے مصروف عمل رہتے ہیں، دنیا کے متعدد ممالک میں پولیو کیخلاف ویکسینیشن پر مامور عملہ تشدد کا شکار ہوتا ہے، وطن ِ عزیز میں بھی اِن سے متعلق صورتحال حوصلہ افزاء نہیں، یہ وہ ہیروز ہیں جو فرض کی ادائیگی کو عین عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ آج کا دِن انہیں سلام پیش کرنے کا ہے آج کا دِن انہیں سراہے جانے کا ہے۔ ریڈکراس ریڈکریسنٹ موومنٹ کا  حصہ ہونے کے ناطے پاکستان کے انسانی خدمت کے صف ِ اوّل کے ادارے ہلال ِاحمر نے قومی وزرات ِ صحت اور عالمی ادارہ صحت سے جڑے رہتے ہوئے طبّی عملہ کی حفاظت کیلئے بھی آگاہی مہم میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ طبّی عملہ کو باور کرادیا گیاتھا کہ وہ کیسے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے مریضوں کو علاج ِ معالجے کی سہولتیں فراہم کریں۔ اب طبّی عملہ کے متاثرہونے کی شرح بہت کم ہوچکی ہے۔ یہ ہمارے ہیروز ہر طرح کی داد، تحسین، حوصلے اور خراج کے مستحق ہیں۔ آج کا دِن اِس بات کا متقاضی ہے کہ اِن کی خدمات کو سراہا جائے۔ کورونا وائرس جب وبائی صورتحال اختیار کرگیا تو طبّی عملہ کی مثال اِس سپاہی کی طرح ہوگئی جو جنگ کے دِنوں فرنٹ لائن پر ہوتا ہے اور دنیا بھر میں طبّی عملہ کا ایثار، اخلاص اور قربانی کو قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا اور دیکھا جاتا رہے گا۔ طبّی عملہ نے خود کو متاثرہ افراد کے علاج معالجہ کیلئے منتخب کرکے قربانی کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے اپنے پیاروں، اپنے اہلِ خانہ سے دور رہ کر دوسروں کی جان بچانے میں مصروف ِ عمل رہ کر تاریخ رقم کی۔ اِن ہیروز کی خدمات کو پوری دنیا میں ”قابل ِ رشک“ قرار دیا گیا ہے۔ انہیں خراج پیش کرنے کیلئے کہیں دیواروں کو رنگ دیا گیا، کہیں نغمے گائے گئے، کہیں سلیوٹ پیش ہوا اور کبھی تالیاں بجائی گئیں۔چین سمیت دیگر ممالک میں طبّی عملہ نے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ خود کو مشکلات میں ڈال کر متاثرہ افراد کی جانیں بچائیں۔ وطنِ عزیز میں بھی شعبہ طب سے وابستہ ہر فرد خدمت ِ انسانیت کے جذبہ سے سرشار پایا گیا۔  آج پوری دنیا میں اِن ہیروز کو خراج پیش کیا جارہا ہے۔ اِس ضمن میں ہلالِ احمر کی خدمات کو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ 18 دِنوں کی ریکارڈ مدت کورونا کیئر ہسپتال مکمل فعال کرکے ہلالِ احمر نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔جہاں متاثرہ افراد کو داخل کیا گیا اور وہ مکمل شفا یاب ہو کر گھروں کو گئے، ضروری، حفاظتی طبّی آلات کی سرکاری ہسپتالوں کو فراہمی میں بھی ہلالِ احمر نے نام کمایا۔ پی پیز سے لے کر گلاوز تک، سیٹائزر سے لے کر ماسک تک اور ہائیجین کِٹس کی فراہمی میں تعطل نہ آنے دیا۔ ہلالِ احمر نے وبائی صورتحال میں خود کو فرنٹ لائن پر رکھا۔ کورونا کیئر ہسپتال کے عملہ نے جانفشانی، لگن اور جذبہ کے ساتھ کام کیا۔ تمام عملہ حفاظتیی اقدامات سے لیس رہا اور کورونا متاثرہ افراد کے علاج معالجہ میں مصروف ِ عمل رہا۔لوگوں نے شفا پائی اور ہلالِ احمر کو دعائیں دیتے ہوئے بہتر صحت کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ ہلالِ احمر نے وبائی صورتحال میں حکومتی کوششوں کو تقویت بخشی۔ آگاہی مہم میں ہلالِ احمر پیش پیش رہا۔ محافظ فورس نے جہاں لوگوں کو وبائی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اپنانے کا درس دیا، وہاں ضرورتمندوں، متاثرہ گھرانوں کو راشن کی فراہمی کا بھی فریضہ کا حصہ پورا کیا۔”کورونا کیئر ہسپتال“ کی گونج ملک بھر میں سنائی دی گئی۔ چین کے طبّی ماہرین نے دورہ کرکے اِسے سٹیٹ آف دی آرٹ قرار دیا۔ وزیراعظم عمران خان خود معائنہ کرنے آئے اور بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تفصیلی دورہ کیا اور ہسپتال کو ریکارڈ مدت میں مکمل فعال بنانے پر جناب چیئرمین ابرار الحق اور ہلال ِاحمر کی ٹیم کو مبارکباد دی۔ آج جب طبّی عملہ، ڈاکٹروں، پیرامیڈیکس، سکیورٹی پر مامور افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے وہاں ہلالِ احمر کے جانثار ساتھی ریجنل بلڈ ڈونر سنٹر کے ایڈمن اسسٹنٹ عامر نثار شہید کا بھی تذکرہ ہونا چاہیے۔”عامر نثار“ لاک ڈاؤن کے دوران خون کے عطیات کی شدید کمی کے باوجود عوامی خدمت کیلئے متحرک رہے، خدمتِ انسانیت اِن میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔وہ دوران ِ ڈیوٹی کورونا وائرس سے متاثر ہو کر ہسپتال پہنچ گئے۔کچھ روز علاج معالجہ کے بعد اُن کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انہوں نے بذریعہ ٹیلیفون اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے فرض کی ادائیگی کیلئے جلد پہنچیں گے مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ ”عامرنثار“ بہادری سے اِس وباء سے لڑے مگر جیت نہ سکے،وہ ہسپتال کے بستر پر ہی زندگی کی بازی ہار گئے۔وہ مقررہ وقت سے زیادہ کام کرنے والے جانثار ساتھی تھے انہوں نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو اوّلیت دی، وہ 12 برس ہلال ِاحمر سے منسلک رہے، وہ بلڈ ڈونر کا خاصہ تھے۔ خون کے عطیات کی مہم کے تمام انتظامات کرتے، کیمپس کی نگرانی کرتے۔ ہلال ِاحمر پاکستان کو اِن کی قربانی پر فخر ہے، اِن کی خدمات سراہے جانے کے لائق ہیں۔ آئیے! جہاں اِن ہیروز کو جو آج زندہ ہیں خراجِ تحسین پیش کیا جائے وہاں اِس خدمت ِ انسانیت کے سفر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔ تمام عملہ دعا گو ہے کہ اللہ عامر نثار کو جنت مکین کرے۔حدیث مبارک کی رُو سے وباء کے دوران فوت ہوجانے والے شہید ہوتے ہیں۔ عامر نثار بھی ہلالِ احمرکا شہیدہیں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ضرورتمندوں، تھلیسیمیا کے شکار بچوں کو خون کی فراہمی کیلئے دِن رات کام کیا۔ ہلال ِاحمر پاکستان اپنے اِس جانثار کارکن، قابلِ فخر ورکر کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ کورونا اب بھی موجود ہے اگر اِس کی رفتار قدرے کم ہوچکی ہے مگر احتیاطی تدابیر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ احتیاط زندگی ہے۔ آئیے! دست ِ دعا بلند کریں اُن ہیروز کیلئے جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے متاثرہ لوگوں کو علاج کی سہولت دی۔ جنہوں بلا امتیاز، بلا رنگ و نسل قیمتی انسانی جانیں بچانے کیلئے دِن رات کام کیا۔ اللہ اِن کی قربانی کو اجر سے نوازے (آمین)کالم نگار ہلال ِاحمر پاکستان کے سیکرٹری جنرل ہیں