کراچی میں اسٹریٹ لائبریریوں کا دوسرا جنم

پچاس اورساٹھ کی دہائی میں کراچی کی گلی گلی میں کتب خانے ہوا کرتے تھے، مادہ پرستی نے علمی فضا کو نگل لیا
اسی کی دہائی میں کتب خانے ویران ہو گئے، کمشنر کراچی اسٹریٹ لائبریریوں کو آباد کرنے کے لئے کوشاں
——
سعیدخاور
—–

بانی پاکستان محمد علی جناح کے شہر کراچی کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں قیام پاکستان کے بعد سقوط ڈھاکہ تک سیکڑوں کتب خانے ہوا کرتے تھے جہاں ڈائجسٹوں، جاسوسی ناولوں سے لے کر معروف شاعروں اور ادیبوں کے ناول اور شعری مجموعے آنے ٹکے کی روزانہ اجرت میں کرائے پر ملا کرتے تھے جس سے شہر کی ادبی فضا تازہ رہتی تھی اور اس روایت نے کئی بڑے بڑے ادیب، دانش ور اور شاعر پیدا کئے جنہوں نے شہر قائد اور ملک کا نام روشن کیا۔ ان لائبریریوں کے قیام میں سرگرم لوگوں کا مقصد پیسا کمانا نہیں تھا بلکہ ان کی پہلی ترجیح علم وادب کا فروغ تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ان اسٹریٹ لائبریریوں کا رواج زوروں پرتھا، یہ رواج ستر کی دہائی میں کم زور پڑنے لگا۔ جوں جوں شہر میں مادہ پرستی بڑھنے لگی اور پھر دہشت گردی نے عروج پکڑا تو علم و ادب اور کتب بینی کا ذوق قصہ پارینہ بنتا چلا گیا۔ بد قسمتی سے اس شہر کی نوجوان نسل نے قلم اور کتاب سے کنارہ کشی اختیار کر کے ہتھیار اٹھا لیا۔ یوں اسی کی دہائی میں پھوٹنے والی بد گمانیوں نے شہرمیں نفرتوں کے بیج بو دیئے اور گلی گلی میں موجود یہ پرائیویٹ چھوٹے بڑے کتب خانے ویران ہو کر رہ گئے۔ پھر تو اس شہرکی ثقافت کے تیور اور رنگ ہی بدل گئے، اسٹریٹ لائبریری کی جگہ اسٹریٹ کرائم کے تصور نے جڑ پکڑ لی اور اسی کی دہائی کے بعد کسی کو یاد ہی نہ رہا کہ ایک زمانے میں کراچی کی گلیاں سیکڑوں کتب خانوں سے جگمگایا کرتی تھیں۔ حال ہی میں سندھ کے چیف سیکرٹری ممتاز علی شاہ اور کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے سندھ حکومت اور مختلف اداروں کے ساتھ مل کر شہر قائد میں اسٹریٹ لائبریریوں کے تصور کو دوبارہ زندہ کرنے کی ٹھانی ہے اور دن رات کوششیں بروئے کار لا کر حال ہی میں انہوں نے میٹروپول اور غیرت مند بلوچوں کی بستی لیاری میں اسٹریٹ لائبریریوں کا افتتاح کیا ہے جسے ملک میں ہی نہیں دنیا بھر میں ستائش کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ شہر قائد میں پہلی اسٹریٹ لائبریری میٹروپول کے اجرا کے لئے قائداعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت 25 دسمبر اور دوسری اسٹریٹ لائبریری لیاری کے لئے یوم آزادی 14 اگست کا دن مقرر کیا گیا۔


میٹروپول پر قائم ہونے والی پہلی اسٹریٹ لائبریری کراچی ہی کی نہیں پاکستان کی پہلی اسٹریٹ لائبریری قرار دی جا سکتی ہے، کراچی کی پہلی میٹروپول اسٹریٹ لائبریری حکومت سندھ اور کمشنر کراچی افتخار شلوانی اور ان کی ٹیم کی مشترکہ کوشش ہے۔ اس عظیم کاوش پر چیف سیکرٹری سندھ ممتاز علی شاہ اور کمشنر کراچی داد اور دعاﺅں کے مستحق ہیں، شہر قائد کی جون بدلنے کے لئے اس قسم کے مثبت اقدامات کی جتنی ستائش کی جائے وہ کم ہے۔ اسٹریٹ لائبریری کے قیام اور اس تصور کے حوالے سے جب کمشنر کراچی افتخار شلوانی سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک چھوٹی سی علامتی لائبریری ہے، اس لائبریری کے قیام کا مقصد شہر قائد کے لوگوں کو مطالعے کی جانب راغب کرنے کے علاوہ انہیں ایک ایسی پبلک پلیس دینا ہے، جس کا خیال بھی شہر کے عوام خود رکھ سکیں۔ افتخار شلوانی سے جب پوچھا گیا کہ اس وقت کمشنر کراچی کے زیر انتظام شہرمیں41 لائبریریاں ہیں، جن میں سے صرف چند ہی فعال ہیں باقی سب ویران پڑی ہیں، اس صورتحال میں ایک علامتی لائبریری قائم کرنے کے بجائے پہلے ہیسے موجود ان ویران کتب خانوں کا نظام بہتر بنانے پر توجہ کیوں نہیں دی جا رہی؟ اس سوال کے جواب میں کمشنر کراچی افتخار شلوانی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک” کونسل برائے کراچی لائبریریز“ بنائی ہے جو شہری انتظامیہ کے زیر انتظام کتب خانوں کا دورہ کر رہی ہے اور ان کی بحالی کے لئے سفارشات تیار کر رہی ہے۔ ہم نے ان کتب خانوں کی بحالی کے لیے نجی سیکٹر سے بھی مدد حاصل کی ہے جن میں برٹش کونسل، یو ایس اور جاپانی ادارے شامل ہیں۔ ہم نے گزشتہ دس ماہ میں تقریباً دس کتب خانوں کو بہتر انداز میں فعال کیا ہے اور مزید کتب خانوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے میٹروپول اسٹریٹ لائبریری کے بارے میں بتایا کہ یہاں ایک وقت میں تقریباً چھ سو کتابیں رکھی جائیں گی۔ پاکستان کی اس پہلی اسٹریٹ لائبریری کی سب سے دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ منفرد لائبریری ”کتاب لو، کتاب دو “کی بنیاد پر کام کرے گی۔ اگر آپ اس لائبریری سے ایک کتاب لے رہے ہیں تو اس کے بدلے میں آپ کو یہاں اس کے شیلف میں اپنی یا اپنی طرف سے ایک کتاب بہ ہر صورت رکھنا ہو گی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں کوئی لائبریرین یا نگران موجود نہیں ہو گا، عوام کو یہاں آکر اپنی پسندیدہ کتاب لینے اور رکھنے کے نظام کو خود ہی ایمانداری سے دیکھنا اور چلانا ہو گا، عوام ہی اس نظام کے نگران ہوں گے۔ اس طرح کی روایت پختہ ہونے سے یقیناً معاشرے میں ایمان داری اور احساس ذمہ داری کا عنصر بیدار ہو گا اور لوگوں میں ذوق مطالعہ بھی بڑھے گا۔
اسٹریٹ لائبریریوں کے قیام کے اگلے مرحلے میں 14 اگست 2020ء کو یوم آزادی پر کمشنر کراچی افتخارشلوانی نے ڈی ایم سی جنوبی کے چیئرمین ملک محمد فیاض اعوان، وائس چانسلر شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی اختر بلوچ اور لیاری کی ممتاز علمی اور ادبی شخصیت رمضان بلوچ اور لیاری کی دوسری اہم شخصیات کے ہمراہ بلوچ چوک پر کراچی کی دوسری اسٹریٹ لائبریری کا افتتاح کیا۔ اسٹریٹ لائبریری ضلعی بلدیہ جنوبی کے تعاون سے قائم کی گئی ہے۔ اس موقع پر کمشنر کراچی نے کہا کہ کراچی میں عام افراد کی کتابوں تک رسائی کو آسان بنانے اور مطالعہ کو فروغ دینے کے مقصد سے کراچی انتظامیہ کی شروع کی جانے والی یہ کوشش جاری رہے گی اور شہر کے دوسرے مقامات پر اسٹریٹ لائبریریاں قائم کی جائیں گی۔نارتھ ناظم آبادمیں ایک لائبریری کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے اور اس کا سنگ بنیاد بھی انہوں نے گزشتہ دنوں رکھ دیا ہے۔ گارڈن اور ملیر میں بھی لائبریریوں کے قیام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے کہا کہ اسٹریٹ لائبریری کے تصور اور اقدام کو شہریوں نے پسند کیا ہے، کراچی انتظامیہ کی جانب سے کمشنر کارنر پر قائم کی گئی لائبریری کو معاشرہ کے ہر طبقہ نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے دور کے باوجود کتابوں کی آج بھی بہت اہمیت ہے، انٹر نیٹ کتابوں کا متبادل نہیں ہے، انٹر نیٹ سے معلومات ضرور ملتی ہیں لیکن علم کتابوں سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے لوگوں نے اسٹریٹ لائبریری کا جس طرح خیر مقدم کیا ہے اس سے ان کی کتابوں سے وابستگی اور شوق کا اظہار ہو تا ہے۔(بہ شکریہ روزنامہ 92 نیوز)