برصغیر کے معروف شاعر گلزار 86 برس کے ہوگئے

اردو شاعری کو ایک نئی جہت دینے والے بھارت کے مشہور نغمہ نگار اور ہدایتکار گلزار 86 برس کے ہوگئے۔

آج دنیا جنہیں گلزار کے نام سے جانتی ہے ان کا اصل نام سمپورن سنگھ ہے جو1934میں پاکستان کے شہر جہلم میں پیدا ہوئے۔ تقسیم برصغیر کے وقت بھارت گئے اور موٹر مکینک کے طور پر زندگی کا سفر شروع کیا لیکن تقدیر نے ان کے لیے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا۔

شاعری اور فلمی دنیا کی جانب رحجان انہیں دشوار گزار راستوں سے فلمی صنعت کی طرف لے گیا جہاں انہوں نے ایک کامیاب نغمہ نگار اور ایک بہترین ہدایتکار کے طور پر اپنے لوہا منوایا، اسی سفر میں انہوں نے فلمی اداکارہ راکھی کو ہم سفر بنایا۔ گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں گیت لکھے، ان کی فلمی شاعری میں ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔

شاعری میں تشبیہات کا استعمال، گلزار کے گیتوں کو منفرد بناتا ہے۔ فلم بنٹی اور ببلی کا گانا ’کجرا رے‘ ہو یا پھر فلم معصوم کا گانا ’تجھ سے ناراض نہیں زندگی‘ ان کی تخلیقی صلاحیت کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔

فلم ’سلم ڈاگ ملینئیر‘ کے لیے لکھے گئے گیتوں پر فن کا عتراف کرتے ہوئے انہیں آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت، انگور، معصوم آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں۔

ان کا ٹیلی ڈرامہ مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثیت رکھتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کے گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔

بھارتی حکومت کی طرف سے 2004 میں گلزار کو پدما بھوشن کا خطاب ملا جبکہ 2014 میں ہندی سنیما کے سب سے بڑے ایوارڈدادا صاحب پھالکے سے بھی نوازا گیا ہے