پاکستان کا دورہ کرنے میں خوشی ہوگی: جو روٹ

انگلینڈ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کا دورہ کرنے میں خوشی ہوگی، پاکستان کی وکٹیں فلیٹ اور انگلینڈ سے مختلف ہیں جس پر بیٹنگ کرنا وہ پسند کریں گے۔ دورے کا فیصلہ کرنا ان کا اختیار نہیں لیکن جب بھی ہوگا انہیں ذاتی طور پر پاکستانی جانا پسند ہوگا۔

ساوتھمپٹن سے آن لائن پریس کانفرنس کےدوران نمائندہ جیو کے سوال کے جواب میں انگلش ٹیسٹ ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پاکستان ایک اچھا ملک ہے، وہاں جب ٹیسٹ کرکٹ واپس آئی تھی تو عوام کے جذبات دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے کھلاڑیوں سے بھی پوچھا تھا کہ پاکستان میں دوبارہ کھیل کر کیسا لگا، سب کا یہی کہنا تھا کہ کافی مثبت محسوس ہوا۔

انگلینڈ کی کسی ٹیم نے دو ہزار پانچ کے بعد سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا تاہم کورونا وائرس صورتحال میں مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے انگلینڈ ٹیم کا اس سال دورہ کیا جس کے بعد پی سی بی کے سی ای او وسیم خا ن اور سابق کپتان وسیم اکرم دونوں نے ہی کہا کہ انگلینڈ کو پاکستان کا جوابی دورہ کرنا چاہئے۔

انگلش کرکٹ ٹیم کو شیڈول کے مطابق دو ہزار بائیس میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے اور پی سی بی اس دورے سے قبل انگلینڈ کیخلاف ایک مختصر سیریز کی میزبانی کا بھی خواہشمند ہے۔

تاہم جو روٹ کہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے بعد کرکٹ کے بیک لاگ کو بھی کلیئر کرنا ہے ایسے میں شیڈول دورے سے قبل کی سیریز کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا

ساوتھمپٹن ٹیسٹ میں خراب روشنی کی وجہ سے وقت کے ضیاع پر بات کرتے ہوئے جو روٹ نے کہا کہ اس حوالے سے پلیئنگ کنڈیشنز میں تبدیلی ہونی چاہئے، امپائرز نے جو فیصلہ کیا وہ قوانین کے مطابق کیا اور جب تک آئی سی سی اس معاملہ پر کچھ نہیں کرتی، یہ معاملہ فیلڈ پر امپائرز یا پلیئرز کے کنٹرول میں نہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے تجویز دی کہ مستقبل میں خراب روشنی یا موسم کی وجہ سے اوورز کے نقصان کو پورا کرنے کیلئے کھیل کو آدھا گھنٹہ پہلے شروع کیا جاسکتا ہے تاہم جو روٹ کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ساوتھمپٹن میں تیسرے ٹیسٹ میں ایسا ہوتا یقینی دکھائی نہیں دے رہا کیوں کہ تیسرے ٹیسٹ میں ایسا کرنے کیلئے دونوں بورڈز کو بہت کچھ ڈسکس کرنا ہوگا۔