کینجھرجھیل میں کشتی رانی پر پابندی عائد

ٹھٹہ: حکومت سندھ نے کینجھرجھیل میں کشتی رانی پر غیر معینہ مدت تک پابندی عائد کر دی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کینجھر جھیل میں میں کشتی ڈوبنے کے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے اوور لوڈنگ کو حادثے کی وجہ قرار دیا ہے۔ پولیس نے کشتی مالک کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس ضمن میں ایس ایس پی ٹھٹھہ عمران خان نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ کینجھر جھیل میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیش آنے والے افسوسناک سانحہ میں دس افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ تین افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ: کینجھر جھیل سانحہ،کشتی الٹنے کا مقدمہ درج کر لیا گیا

ایس ایس پی ٹھٹھہ عمران خان کا کہنا تھا کہ کشتی کے مالک نے استعداد سے زیادہ لوگوں کو سوار کیا تھا جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا۔

گزشتہ روز ٹھٹھہ کی کینجھر جھیل میں کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے10 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ جاں بحق افراد کا تعلق کراچی سے تھا۔

کراچی کے علاقے محمود آباد کا رہائشی خاندان پکنک منانے کے لیے ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل گیا جہاں خاندان کے لوگ کشتی میں جھیل کی سیر کررہے تھے کہ کشتی الٹ گئی جس نتیجے میں تمام خواتین سمندر میں ڈوب گئیں۔

جاں بحق ہونے والوں میں عثمان غنی کی اہلیہ 40 سالہ روبینہ اور ان کی بیٹیاں 19 سالہ عروج ، 11 سالہ ایمان اور 10 سالہ نمرہ شامل ہیں۔ اسی طرح یوسف خان کی اہلیہ 40 سالہ صبیحہ اور ان کی 3 بیٹیاں 16 سالہ شانزا و علیشہ (جڑواں) اور 21 سالہ سعدیہ شامل ہیں دیگر میں ڈیڑھ سالہ ماہم دختر آصف اور 30 سالہ عظمیٰ زوجہ محمد عامر شامل ہیں۔ بچ جانے والی خواتین میں نصرت اور رشیدہ سمیت ایک بچی شامل ہے۔