چینی کی قیمت100روپے فی کلو ہوگئی

کراچی/پشاور: پاکستان کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمت ایک بار پھر100 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

پشاورمیں چینی کی قیمت سو روپے فی کلو سے بڑھ گئی ہے اور کچھ دکاندار پرچون میں فی کلو 110 روپے فروخت کر رہے ہیں۔

ہم نیوز کے نمائندہ فاطمہ نازش نے بتایا کہ پشاور کی ہول سیل مارکیٹ میں چینی کا نرخ 98 تا 100 روپے فی کلو ہے۔ شہریوں نے بڑھتی ہوئی قیمت پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے ریٹس کو مستحکم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کراچی میں بھی ریٹیل پرچینی کی قیمت 100 روپے فی کلو ہوگئی ہے جب کہ ہول سیل پرچینی کی قیمت 95 روپے فی کلو ہے۔ کراچی میں 3 ماہ کے دوران چینی کی قیمت میں 15 روپے فی کلو اضافہ ہوا۔

لاہور میں بھی چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک ہی روز میں پچاس کلو کی بوری میں سو روپے کا اضافہ ہوگیا جس کے بعد چینی سو سے ایک سو پانچ روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگی ہے

دکانداروں کا کہنا تھا کہ ہول سیل پر قیمت میں کمی پرہی ریٹیل میں کمی ممکن ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات نے بھی اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ چینی کی قیمتوں میں دو ماہ سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے چینی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے 88 پیسے کا اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0.22 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ ہفتے 15 روزمرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس چینی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چینی کا بحران پیدا ہوا تھا۔ چینی کی فی کلو قیمت جو فروری 2019 میں 55 روپے تھی ، فروری 2020 میں 80 روپے فی کلو تک جاپہنچی تھی۔

فروری2020 میں وزیراعظم عمران خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کو یہ ہدف دیا گیا کہ معلوم کیا جائے کہ چینی کی قیمت میں اس قدر اضافہ کیسے ہوا۔

انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں چینی بحران کا ذمہ دار ریگولیٹرز کو قرار دیا گیا۔ مشیر برائے احتساب شہزاداکبر نے بتایا تھا کہ ریگولیٹرزکی غفلت کے باعث چینی بحران پیدا ہوا اورقیمت بڑھی۔ 5 سال میں 29ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔

چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فارنزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں
humnews-report