جو نجی اسکولز صوبے بھر میں کھلیں ہیں ان کی رجسٹریشن فوری کینسل کردی جائے: صوبائی وزیر تعلیم سندھ سعید غنی

کراچی: وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جو نجی اسکولز صوبے بھر میں کھلیں ہیں ان کی رجسٹریشن فوری کینسل کردی جائے اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز ان اسکولز کی انتظامیہ کے خلاف سخت اقدامات کریں اور ان کے خلاف ایکشن لیں۔

تعلیمی اداروں کو 15 ستمبر کو کھولنے کا حتمی فیصلہ ایس سی او سی کے اجلاس میں ہوگا،ہم چاہتے ہیں کہ 7 ستمبر کو وفاقی وزیر تعلیم اور تمام صوبائی وزراء تعلیم کا اجلاس ہو تو ہمارے پاس تمام حوالے سے تیاریاں مکمل ہوں،ہماری پوری کوشش ہے کہ طلبہ و طالبات کا کرونا وائرس کے باعث جو تعلیمی عمل تعطل کا شکار ہوا اور اس کے باعث جو خلا ان کی تعلیم میں آیا ہے اس کو پورا کیا جائے۔تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم وقت نے ثابت کردیا کہ یہ فیصلہ درست فیصلہ تھا۔ ورکس اینڈ سروسس محکمہ تعلیم کے تحت جو ترقیاتی اسکیمز بالخصوص ان 9000 اسکولوں میں جہاں انرولمنٹ 80فیصد سے زائد ہے وہاں جاری اسکیموں کو جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے دفتر میں محکمہ تعلیم کے حوالے سے منعقدہ مختلف اجلاس اور یونیسیف سندھ چیپٹر کی چیف مس کرسٹینا سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز باقر نقوی،ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر فوزیہ، آصف میمن اور دیگر شریک ہیں۔ محکمہ تعلیم کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ 7 ستمبر کو وفاقی وزیر تعلیم اور تمام صوبائی وزراء تعلیم کا اجلاس ہو تو ہمارے پاس تمام حوالے سے تیاریاں مکمل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں کو مکمل ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ہماری پوری کوشش ہے کہ طلبہ و طالبات کا کرونا وائرس کے باعث جو تعلیمی عمل تعطل کا شکار ہوا اور اس کے باعث جو خلا ان کی تعلیم میں آیا ہے اس کو پورا کیا جائے۔سعید غنی نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو 15 ستمبر کو کھولنے کا حتمی فیصلہ این سی او سی کے اجلاس میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی مکمل تیاری 15 ستمبر کو تعلیمی ادارے کھولنے پر مرکوز کرنا ہوگی اور15 ستمبر سے قبل تمام تعلیمی اداروں میں اسپرے سمیت تمام اقدامات کو مکمل کرلیا جائے۔ اجلاس میں صوبے بھر میں تعلیمی نصاب، کرونا وائرس کے بعد کی صورتحال، نئے تعلیمی سال سمیت دیگر امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ابل ازیں دوران اجلاس مختلف نجی چینلز پر کراچی میں نجی تعلیمی اداروں کو کھول دئیے جانے کی خبروں پر سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے سیکرٹری تعلیم اور ڈی جی پرائیویٹ اسکولز کو ان اسکولوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایات دی۔ انہوں نے کہا کہ جو نجی اسکولز صوبے بھر میں کھلیں ہیں ان کی رجسٹریشن فوری کینسل کردی جائے۔سعید غنی نے تمام متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے بھی ان اسکولز کی انتظامیہ کے خلاف سخت اقدامات لینے اور ان کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایات دی۔سعید غنی نے کہا کہ بچوں کی زندگی سے کھیلنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے۔ بعد ازاں صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی سے یونیسف سندھ چیپٹر کی چیف کریسٹینا نے ملاقات کی۔ملاقات میں یونسیف سے تعلق رکھنے والے ماہر تعلیم آصف ابرار بھی ان کے ہمراہ موجود تھے.ملاقات میں سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، ایڈیشنل سیکرٹری میڈم فوزیہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مس کریسٹینا نے صوبائی وزیر کو سندھ حکومت کی جانب سے کوویڈ 19 کے حوالے سے کئے جانے والے اقدامات پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے جو اقدامات کئے وہ قابل ستائش ہیں۔ مس کریسٹینانے کہا کہ محکمہ تعلیم سندھ نے بھی سب سے پہلے اپنے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں میں اس وبا سے پھیلاؤ سے قبل ان کو بند کیا جو قابل تحسین ہے۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے ہر وہ اقدامات کئے جو کوویڈ 19 سے عوام کو بچا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم وقت نے ثابت کردیا کہ یہ فیصلہ درست فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 15 ستمبر سے تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ وفاقی سطح پر قائم این سی او سی کرے گی،جس میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم اور وفاقی وزیر تعلیم شامل ہیں۔سعید غنی نے مزید کہا کہ ہم نے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو ایس او پیز جاری کردی ہیں اور ہم نے تمام تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ اپنے اپنے تعلیمی ادارے کھلنے سے قبل جاری کردہ تمام ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر یونیسیف کے وفد نے صوبائی وزیر سے تعلیمی اداروں کو کھولنے اور اس حوالے سے کئے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہی حاصل کی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر تعلیم کی زیر صدارت ورکس اینڈ سروس محکمہ تعلیم کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبے میں محکمہ تعلیم میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایڈیشنل سیکرٹری آصف میمن نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ صوبے میں 9000 وہ اسکولز جہاں صوبے کی 80 فیصد انرولمنٹ ہیں وہاں تمام ضروریات کی فراہمی کے حوالے سے جاری اسکیم کے فیز ون کے 4170 اسکولوں میں سے 1700 سے زائد اسکولوں میں کام مکمل کرلیا گیا ہے جبکہ باقی مانندہ فیز ون کی اسکولوں میں کام جاری ہے، جو رواں مالی سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیز ٹو کی اسٹیڈی شروع کردی گئی ہے اور جلد ہی اس کی پی ٹی ون بنا کر اس کو پیش کردیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ کو اسکول مکمل کرلئے گئے ہیں اس کی ایک ایک کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرکے تمام وہ اقدامات جو پی سی ون کے تحت وہاں ہونے تھے اس کی تصاویر کے ساتھ رپورٹ مرتب کرکے انہیں دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر اسکول کی فرداً فرداً رپورٹ بنائی جائے اور متعلقہ ٹی ای او سے اس کی تصدیق کروا کر رپورٹ پیش کی جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ جن جن اسکولوں میں فرنیچر کی پروکیومنٹ کرنا ہے اس کی بھی رپورٹ مرتب کی جائے اور اسے سالانہ ترقیاتی اسکیم کے تحت مکمل کیا جائے۔ اس موقع پر ارلی چائلڈ لرننگ ایجوکیشن کی ایک اسکیم جس کے تحت 100 اسکولوں میں اس کے لئے کمرے مختص کرنا تھے اس کی بھی رپورٹ پیش کی گئی اور بتایا گیا کہ ان 100 میں سے 96 اسکولوں میں کام مکمل کرلیا گیا ہے اور جلد ہی اس کو شروع کردیا جائے گا۔