درس گاہیں بنی “ہوس گاہیں” اور اب ” قتل گاہیں”

درس گاہیں بنی “ہوس گاہیں” اور اب ” قتل گاہیں”
کراچی کی ایک یونیورسٹی طلبہ کی خودکشی ملکی سطح کا ایشو بن چکی ہے ۔ پی ایچ ڈی کی طالبہ نادیہ اشرف نے اپنے سپروائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے ” بے جا ۔ناجائز مطالبات ” سے تنگ آکر خود کشی کر لی ۔ اس نے اپنے پوسٹ میں لکھا کہ سپروائزر شائد ان کی ڈگری مکمل نہیں ہونے دینا چاہتے ۔ پتہ نہیں وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ” ۔ ابھی اس معاملے کی تحقیقات ہونا باقی ہیں ۔ سپروائزر کے ” مطالبات” کے حوالےسے بھی پتہ مستند تحقیقات کے بعد ہی چلے گا ۔ لیکن یہ معاملہ اب قومی سوشل و دیگر میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب ڈسکس ہو رہا ہے ۔ اسی دوران یونیورسٹی آف میانوالی کی ایک طالبہ کی ٹویٹ سامنے آئی ہے کہ جس میں اس نے دعوی کیا ہے کہ ان کی کلاس کی 16 طالبات زوالوجی کے ایک پروفیسر کی جنسی ہوس کا نشانہ بن چکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اس طالبہ نے سوال کیا کہ کوئی ہے جو ہمارا ساتھ دے ؟ چند روز قبل ہی لاہور کے ایلیٹ ایل جی ایس سکول کی طالبات کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنے مرد اساتذہ کرام پر سنگین الزامات لگائے گئے ۔ ان طالبات نے کئی ٹیچرز کی مزموم حرکتوں کو بے نقاب کیا اور پھر اس واقعے کی گونج ایوان وزیر اعلی تک سنی گئی ، ٹیچرز گرفتار ہوئے اور ان کے خلاف کارروائی جا ری ہے ۔ میانوالی یونیورسٹی کی ہی ایک طالبہ نے کچھ عرصہ قبل ایک پروفیسر کی باقاعدہ ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر شئیر کر دی تھی جس میں وہ اس طالبہ کے ساتھ شرمناک حرکات میں ملوث تھا ۔ سرگودھا کے ہی ایک نجی کالج کی طالبہ کو بھی دھوکے سے کالج بلا کر ہوس کا نشانہ بنایا گیا ۔ اسی طرح پشاور یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی تحریر بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ کس طرح بار بار اسے ایک ہی مضمون میں فیل کیا گیا اور پروفیسر نے ناجائز مطالبات نہ ماننے پر اسے اذیت سے دوچار کر دیا ۔ اسی طرح کا ایک کیس کچھ عرصہ قبل سرگودھا یونیورسٹی میں بھی پیش آیا جب ایک مضمون کے پروفیسر نے کئی طالبات کو بار بار ایک ہی سبجیکٹ میں فیل کیا جس پر وائس چانسلر نے ایکشن لیتے ہوئے ان طالبات کو نجات دلائی ۔
ایسے واقعات تواتر سے پیش آ رہے ہیں ۔ یہ درندے درسگاہوں کے مقدس ماحول کو داغدار کر رہے ہیں ۔ استاد شاگرد کے پاکیزہ رشتے کو پامال کر رہے ہیں ۔ ارباب اختیار کو اب حوالےسے سنجیدہ کوششیں کرنی ہوں گی ۔ ایسا میکنزم بنایا جائے کہ طلبہ و طالبات اس طرح کی ہراسیگی سے بچ سکیں ۔ تعلیمی اداروں میں ایسا انتظام ہونا چاہیے جہاں ایسے کیسز کو دیکھا جائے ۔ یہ بھی حقیقت ہے بعض اوقات گروپ بندی ، کسی دوسرے کے اکسانے اور بعض مزموم مقاصد کے تحت اساتذہ پر بھی جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں ۔ ان کی عزت اچھالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس سلسلے کا بھی سدباب ہونا چاہیے ۔ ایم اے او کالج کے ایک معزز پروفیسر صاحب نے جھوٹے الزام اور بدنامی کے خوف سے خود کشی کر لی تھی۔ شائد اب وقت ہے کہ تعلیمی اداروں میں بھی اس حوالے سے احتساب کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔ بنیادی مسئلہ طلباو طالبات کا ڈر بھی ہے کہ اگر ٹیچر کے خلاف شکایت کی تو انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی کر دے گی ، انہیں فیل کر دیا جائے گا یا کوئی اور مشکل کھڑی ہو جائے گی اور اسی خوف کے تحت بہت سی طالبات ہراسیگی کا شکار بن جاتی ہیں ۔ دوسری جانب اساتذہ پر جھوٹے الزامات کا بھی سدباب ہونا چاہیے ۔ ان کی عزت اچھالنا ، بدنام کرنا بھی مناسب نہیں ۔ جب بھی کوئی ایسا معاملہ آئے تو اسے انتہائی احتیاط سے دیکھا جائے ۔ پرکھا جائے اور ایکشن لیا جائے ۔ جو بھی قصور وار ہو اسے نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ آئندہ باقی لوگ بچ سکیں ۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو اعتماد اور ذمہ داری سیکھائیں ، نہ تو وہ کسی پر جھوٹا الزام لگائیں اور نہ ہی کسی کی ہوس کا شکار بنیں ۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں بھی سینئر اساتذہ کی کمیٹی بنائی جائے جو کہ اس حوالےسے شعور کی بیداری کے لئے کام کرے ۔ مخلوط طرز تعلیم میں احتیاط کے تقاضے کہیں زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔ دوسری جانب تعلیمی اداروں کے ماحول کو مغرب زدہ سرگرمیوں ، ناچ گانے ، میوزک اور ہلے گلے کی بجائے سنجیدہ اور اسلامی و مشرقی روایات کا مظہر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے