منزلوں کی خبر کیا راستے مبارک

ثنا بتول درانی

زندگی میں سب سے اہم ہے خوش رہنا۔ ان لوگوں کا ساتھ ہونا جو آپ کی خوشی کا سبب بنیں۔ اور جن کی خوشی آپ سے جڑی ہوئی۔ ایسے لوگ کہیں اچانک مل جاتے ہیں ان کا ساتھ، باتیں، خیال، ہنسی اداسی ہر احساس اور خیال زندگی کے رخ کو بدل دیتا ہے ہر پل میں روح پھونک دیتا یے ہر لمحے کو زندہ کر دیتا ہے۔

زندگی تب ہی اہم اور خوبصورت لگتی ہے جب احساس پیدا ہو جائے کہ یہ تو بہت ہی ان پرڈیکٹ ایبل ہے کسی بھی لمحہ پلٹ سکتی ہے۔ سب کچھ بدل سکتا ہے۔ کوویڈ 19 نے یہ احساس شدت سے بیدار کیا ہے کہ سب ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ آپ آج آفس سے گھر آئے ہیں۔ بے فکر ہیں اور آپ کو پتہ چلتا ہے کہ زندگی کل سے مقید ہے۔ یہ رک گئی ہے۔ آپ گھر سے باہر نہیں جا سکتے، کسی سے مل نہیں سکتے، آپ کی ہر ایکٹیوٹی معطل ہو چکی یے۔ یہاں تک کہ کسی کو پیار سے چھو نہیں سکتے گلے لگانا در کنار۔ نجانے کب محض چودہ دن میں موت کا پیغام آ پہنچے، سب بدل گیا۔ ایک ویرانی، خاموشی، اداسی، اور بے وقت آفت اور موت کا کھٹکا

لیکن ساتھ ہی سب واضح بھی ہوگیا کہ اس سب کے ساتھ، محبت، پیار، رشتے، ساتھ، لمس، کس قدر اہم اور ضروری ہے جسے فار گرانٹڈ لیا تھا، ۔ کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ یوں اچانک چھن سکتا ہے۔ ایک بے یقینی کی کیفیت ایسے بھی گھیر سکتی ہے۔

کچھ حالات سنبھلنے پہ زندگی کی قدر نے اسے بے حد حسین کر دیا ہے۔ کل کیا ہوگا۔ کا خوف اپنی موت مر گیا یے کل کس نے دیکھی کون جانے وہ ہے بھی یا نہیں یہ لمحہ جی لو اس پل جو خوشی ہے اسے جیت لو۔ کسی پیارے کا لمس خود پہ امر کر لو۔ کون سوچے کہ کل کیا ہونا ہے۔ مجھے کوئی کیا کہے گا۔ ہر وہ لمحہ جو خود سے جڑا ہے وہی اہم ہے وہی امر ہے اس سے پہلے اس کے بعد کچھ نہیں۔

انسان کی سوچ اور نظریے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اس کے احساسات اور جذبات ایسی چیز ہیں جو تمام انسان یکساں شیئر کرتے ہیں۔ کسی علاقے، کسی زبان، کسی بھی شناخت رکھنے والے افراد ہوں ان کے آنسوؤں کا رنگ ایک سا ہوتا ہے، ان کا دل محبت میں ایک سا دھڑکتا، ان کا خوف، نفرت، غصہ ایک سا ہوتا ہے۔ یہی جذبات و احساسات انسانوں میں ایمپتھی پیدا کرتے ہیں ان کو خوشی ہو یا غم ایک سا محسوس کرنے پہ مجبور کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو کافکا نے جس بے وقعتی کے احساس کو ایک کیڑے میں بدلنے سے تشبیہ دے کے اس میں یونیورسل فیلنگ کا رنگ بھرا ہے کسی آج کے دور کے انسان کو محسوس نہ ہوتا۔

نہ شیکسپیئر کا ہیملٹ آج کے انسان کی کشمکش کو ویسے ہی ظاہر کرتا جیسا کہ صدیوں پہلے اس کردار نے کیا۔ انسان جب کسی وبا کا سامنا کر رہے ہوں یا جنگ مسلط ہو تو ان کے احساسات و جذبات زیادہ شدت سے آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ بھوک، موت، بے یقینی کا خوف انسانوں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔ سب فلسفے، سب نظریے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں جب اس قدر بے یقینی ہو کہ اگلے پل سانس آئے گا بھی یا نہیں۔

پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک ایسی وبا جو پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑ رہی ہو ہمارے احساسات و جذبات کو ایک ہی پیج ہہ نہ لے آئے۔ زندگی کے حسن کو، محبت کو کھول کے اجاگر نہ کر دے۔ یہی کیا ہے اس عفریت نے ایک دم سب واضح کر دیا۔ بتا دیا زندگی میں آج اور ابھی اہم ہے۔

وہ لمحہ جو خوشی دے، وہ ساتھ جو دل کو سکوں دے، وہ ہاتھ جو اپنایت سے بھرپور ہو اسے تھام لو۔ یہ خدشے کل کیا ہوگا، اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ سب بے کار ہے اب نہ سمجھے تو کون سا وقت آئے گا کہ ہم سمجھی‍ں گے۔

راستے منزل بنیں یہ کوئی اصول نہیں ہے کوئی طے شدہ قانون نہیں ہے اور ہھر کون سی منزل وہ جسے یہ سماج طے کرتا ہے، فرسودہ سوچ و روایات طے کرتی ہیں، وہ لوگ طے کرتے ہیں جن کے لیے آپ کی ذات کا ذکر محض زبان کا چسکا ہے۔ جو آپ کی پرسنل سپیس میں دخل دینا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں وہ جن کا کنوویس اتنا محدود ہے کہ نظر پڑتے ہی ختم ہو جاتا ہے۔

اسے کوئی طے نہیں کر سکتا کہ آپ کو زندگی سے کیا چاہیے۔ اس کا فیصلہ آپ خود کرتے ہیں اور پھر اس کو حاصل کرنے کی جنگ بھی خود لڑتے ہیں۔ کوئی ساتھ دینے نہیں آتا۔ ہر فیصلے کا نتجہ انسان کو خود بھگتنا ہوتا ہے۔ چاہے وہ فیصلہ انسان نے خود کیا ہو یا وہ سوشل پریشر کی دین ہو۔ تو پھر فیصلہ خود کیوں نہ کیا جائے۔ ہر انسان کی زندگی کا سوالنامہ مختلف ہے تو کسی سے کاپی ہر کے وہ کون سا حل ڈھونڈ سکتا ہے۔ یہی تو دلچسپ پہلو ہے ورنہ بے زاری کا راج ہوتا۔

انسان کسی کو نہیں سمجھا سکتا کہ آپ نے زندگی کے کون سے رنگ دیکھے ہیں، ان سے کیا سیکھا ہے، اس وقت آپ زبدگی کے کس موڑ پہ ہیں، آپ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اور زبدگی آپ کو کس جانب لے جا رہی ہے۔ جو لوگ آپ کے اس سفر کوکسی بھی طرح آسان کر دیں، جو خوشی کا باعث ہوں اداسی کو قہقہے سے بدل دیں وہ بلیسنگ ہیں۔ وہ قابل محبت ہیں۔ ان کا وقت، ایک ایک پل جو آپ کے ساتھ بیتا جو انہیں نے اپ کو دیا وہ اہم ہے۔ اس سے خوشی کشید کرنا اور اسے جینے کا ہنر ہی سب سے بڑا آرٹ ہے۔

ایک آرٹسٹ اپنے فیصلے میں آزاد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہنر کا استعمال کیسے کرے چاہے تو فن پارہ بنا لے امر ہو جائے چاہے تو رنگوں کو بکھیر کے انہیں ضائع کر دے۔ جس آرٹسٹ کو یہ ادراک ہو کہ ہر رنگ ایک محدود مقدار میں ہے اس کے پاس اپنا شہکار بنانے کا وقت محدود ہے وہی اپنے فن پارے کو ایسا شہکار بنا سکتا ہے جو اس کی روح کو طمانیت سے بھر دے اس کے من کو خوشی سے منور کر دے۔ ایسے لوگوں کا اپنا ایک ردھم، ایک دھن ہوتی ہے جو اس میں جیتے ہیں سانس لیتے ہیں اور اسی پہ جھومتے ہیں۔ وہی خوشی کو پا لیتے ہیں محبت اور خوشی ان کی متلاشی ہوتی ہے۔ جو راستوں کو جیتے ہیں منزل کی فکر میں ہلکان نہیں ہوتے
from-humsub-pages