طلعت حسین اور عمر چیمہ ۔ دونوں کا شمار ملک کے نامور صحافیوں میں ہوتا ہے

ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر

کرونا وائرس ہماری زندگی میں بہت سی تبدیلیاں لانے کا باعث بنا ہے۔ کم و بیش تمام شعبوں پر اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ شعبہ تعلیم کو بھی اس نے متاثر کیا ہے۔ طالب علموں اور اساتذ ہ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا کہ کمرہ جماعت میں پڑھنے اور پڑھانے کے بجائے، آن۔ لائن کلاسیں لینا پڑیں گی۔ گھنٹوں موبائل اور لیپ ٹاپ کے ساتھ گزارنا پڑیں گے۔ ذاتی طور پر مجھے جدید ٹیکنالوجی اور خاص طور پر سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کچھ خاص پسند نہیں ہے۔

ہمیشہ سے مجھے یہ وقت، صحت اور توانائی کا زیاں معلوم ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یوں بھی جھوٹ، بہتان اور گالی گلوچ کرنے والے گروہ غالب دکھائی دیتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابیوں پر اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے والوں، بغیر تحقیق اور تصدیق کے تبصرہ کرنے والوں، اور مخالفین پر الزام تراشی کے ذریعے اپنی نفسیاتی تسکین کا اہتمام کرنے والوں کی بھی بہتات ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ میں کلی طور پر ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی اہمیت سے منکر ہوں۔

علمی، تعلیمی اور پیشہ وارانہ روابط کے لئے سوشل میڈیا کی اہمیت سے میں بخوبی آگاہ ہوں۔ خاص طور پر بیرون ملک دوست احباب سے روابط کا یہ نہایت سستا اور باسہولت ذریعہ ہے۔ کرونا کے ہنگام مجھے اس کی اہمیت کا مزید ادراک ہوا۔ بہت سی علمی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لئے اس کی موجودگی کسی نعمت سے کم نہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں، مجھے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والے درجن بھر مذاکروں اور مکالموں میں شمولیت کے مواقع میسر آئے۔

خیال مجھے یہ آتا رہا کہ اس وبائی صورتحال سے نجات کے بعد بھی جدید ٹیکنالوجی کو علمی اور تعلیمی مقاصد کے حصول کے لئے بخوبی استعمال اور اختیار کیا جا سکتا ہے۔ خود میں نے بھی کرونا کے ہنگام ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا اور طالب علموں کے لئے میڈیا کی کچھ شخصیات کے ساتھ ملاقاتو ں کا اہتمام کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبعلموں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی آن۔ لائن سرگرمیوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس ضمن میں پاکستان کی صحافت اور ڈرامہ انڈسٹری کی چند شخصیات کے ساتھ ہونے والی نشستیں قابل ذکر ہیں۔

دو نہایت معلوماتی سیشن طلعت حسین اور عمر چیمہ کے ساتھ رہے۔ دونوں کا شمار ملک کے نامور صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ان کے تجزیوں اور تبصروں سے اختلاف کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ لیکن ان کی پیشہ وارانہ مہارت اور صحافتی قد کاٹھ سے انکار ممکن نہیں۔ عمومی طور پر کسی صحافتی شخصیت کو طالب علموں کے ساتھ مکالمے کے لئے مدعو کرتے وقت، یہ خیال میرے پیش نظر رہتا ہے کہ گالی گلوچ اور بغیر تحقیق گفتگو کرنے والوں کے بجائے ایسے صحافیوں کو اظہار خیال کی دعوت دی جائے جو دلیل کے ساتھ بات کرنے کے عادی ہوں۔ تہذیب اور شائستگی کے ساتھ اپنا موقف حاضرین کے سامنے رکھنے کے سلیقے سے آگاہ ہوں۔ ان دونوں صحافتی شخصیات کے انتخاب میں بھی یہی اصول کارفرما تھا۔

طلعت صاحب نے سیشن میں شرکت کے لئے حامی بھری تو ساتھ ہی آگاہ کیا کہ وہ چالیس منٹ سے زیادہ بات نہیں کر سکتے۔ کہنے لگے کہ تیس چالیس منٹ کے بعد الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور میرے پاس کہنے کے لئے کچھ خاص باقی نہیں رہتا۔ لیکن ان کے ساتھ ہونے والا سیشن کم و بیش تین گھنٹوں پر محیط ہو گیا۔ وہ روانی سے موضوع پر اظہار خیال کرتے رہے۔ طالبعلموں کے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ تلخ اور تنقیدی سوالات کو بھی تحمل سنا اور اپنا نقطہ نظر واضح کیا۔

گفتگو کاآغاز انہوں نے اخباری صحافت کے دور سے کیا۔ بتایا کہ جس زمانے میں کمپیوٹر کی سہولت دستیاب نہیں تھی، تب خبر بنانا کس قدر پیچیدہ اور مہارت طلب کام تھا۔ آج کل کمپیوٹر کے استعمال نے بہت سے معاملات کو آسان بنا دیا ہے۔ کہنا ان کا یہ تھا کہ جدید ٹیکنالوجی نے پاکستانی صحا فت پر اثرات مرتب کیے ہیں۔ روایتی میڈیا میں کئی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ایک طرف صحافت کا معیار گرا ہے۔ تاہم دوسری طرف ڈیجیٹل میڈیا کی وجہ سے اب صحافیوں کو اپنے کام کا فوری فیڈ بیک موصول ہوتا ہے۔

اس صورتحال نے اچھے صحافی کو مزید محنت پرمجبور کر دیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر قدغن کی بات چلی تو انہوں نے بتایا کہ موجودہ دور میں پاکستانی صحافت پر نہایت منظم طریقے سے سنسر شپ عائد کر دی گئی ہے۔ ایسی کڑی سنسر شپ کسی زمانے میں نہیں تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں مکمل سنسر شپ ناممکن ہو چکی ہے۔ اخبار یا صحافتی ادارے کا دفتر بند کر دیا جائے۔ تب بھی معلومات اور خبروں کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں رہا۔

چین اور سعودی عرب جیسے ممالک بھی ایسا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل اطلاعات اور خبروں کو ڈنڈے کے زور پر روکنے کے بجائے، ان کے مقابل جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈا کا انبار لگا دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سے لوگ ان جھوٹی خبروں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ اس تکنیک کے ذریعے سچی خبر کی اثر انگیزی اور صحافی کی ساکھ کو متاثر کیا جاتا ہے۔

ایک عمدہ سیشن معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کے ساتھ رہا۔ عمر چیمہ وہ صحافی ہیں جنہوں نے پاکستان میں پانامہ لیکس کی خبر بریک کی تھی۔ عمومی طور پر کامیاب لوگ اپنا پسماندہ پس منظر بتانے سے گریزاں رہتے ہیں۔ عمر چیمہ نے گفتگو کے آغاز میں بتایا کہ وہ ایک پسماندہ علاقے اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ طالب علموں کو نصیحت کی کہ محنت اور مستقل مزاجی سے انسان کسی سفارش اور شارٹ کٹ کے بغیر کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

یہ سیشن تحقیقاتی صحافت (investigative journalism) سے متعلق تھا۔ طالب علموں کو تحقیقاتی صحافت کے عملی پہلوؤں سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگرچہ وہ ایک انتہائی عام سے طالب علم تھے، لیکن جب عملی صحافت میں قدم رکھا تو ہر آن ذہن میں یہ خیال رہتا تھا کہ میں عمومی خبروں یا پریس کانفرنسوں کا گہرائی سے جائزہ لوں۔ سوچتا تھا کہ میری خبر دوسرے صحافیوں سے مختلف ہونی چاہیے۔ اس شوق اور عادت نے مجھے تحقیقاتی رپورٹنگ کی طرف مائل کر دیا۔

اپنے تجربے کی روشنی میں کہنے لگے کہ سچ کہنا مشکل کام ہے۔ مگر سچ سننے کا حوصلہ رکھنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ ہر کوئی محض اپنے مطلب کا سچ سننا چاہتا ہے۔ بتانے لگے کہ شعوری طور پر سچ لکھنے اور بولنے کی کوشش کی جائے تو رفتہ رفتہ سچ بولنا ہماری عادت بن جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ صحافت کی تعلیم اور انڈسٹری میں ایک خلا موجود ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی ادارے صحافت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ میں نے ان کی رائے سے اتفاق کیا مگر یہ بھی واضح کیا کہ یہ صورتحال صرف شعبہ صحافت کو درپیش نہیں۔ کسی بھی شعبہ کا جائزہ لیں۔ اس شعبہ کی تعلیم اور متعلقہ انڈسٹری کے درمیان خلا (gap) دکھائی دے گا۔ بہرحال اس خلا کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

دو عمدہ سیشن ڈرامہ انڈسٹری سے منسلک خواتین آمنہ مفتی اور سعدیہ جبار کے ساتھ ہوئے۔ آمنہ مفتی معروف ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار ہیں۔ بی بی سی اردو پر کالم بھی لکھتی ہیں۔ کچھ برس پہلے تک میں آمنہ کو پیار محبت اور شادی طلاق جیسے موضوعات پر ڈرامے لکھنے والی عام سی لکھاری سمجھا کرتی تھی۔ کچھ ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ اچھی بھلی دانشور خاتون ہیں۔ اچھا لکھتی ہیں اور بہت اچھا بولتی ہیں۔ آمنہ مفتی کے ساتھ ہونے والا سیشن ہمیشہ کی طرح نہایت دلچسپ رہا۔


طالبعلموں کو انہوں نے ڈرامہ نگاری کی تکنیک سے متعلق آگاہ کیا۔ انہیں سمجھایا کہ اچھا لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کہ اچھے لکھاریوں کو پڑھا جائے۔ زیادہ سے زیادہ تحقیق کی جائے۔ مختلف موضوعات پر معلومات حاصل کی جائیں۔ ایک اچھی نصیحت طالبعلموں کو یہ کی کہ دوسروں کی ترقی اور کامیابی سے حسد کرنے کے بجائے، محنت کریں اور اپنے کام میں بہتری لانے کی کو شش کریں۔ ڈرامہ اور فیچر فلم پروڈیوسر سعدیہ جبار کے ساتھ ہونے والی نشست بھی دلچسپ اور معلوماتی تھی۔

کئی برس قبل سعدیہ نے ایک تفریحی ٹیلی ویژن چینل سے بطور اسسٹنٹ پروڈیوسر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ سعدیہ کے والد اس چینل کے مالک تھے۔ مجھے یاد ہے اس زمانے میں سعدیہ دیگر ملازمین ہی کی طرح پروگرام بنانے کے لئے متحرک رہا کرتی تھیں۔ آج وہ ایک پروڈکشن ہاؤس کی سی۔ ای۔ او ہیں۔ سیشن میں بتانے لگیں کہ بطور اسسٹنٹ بعض اوقات پروگرام میں آئے مہمانوں کے لئے چائے کی ٹرے رکھنا اور اٹھانا پڑتی۔ کبھی کبھی اس پر شرمندگی محسوس ہوا کرتی تھی۔

طالب علموں کی تفہیم کے لئے سعدیہ انہیں اپنے ڈراموں اور فلم پروڈکشن کے حوالے سے تجربات سے آگاہ کرتی رہیں۔ کہنا ان کا یہ تھا کہ اچھے برے لوگ ہر شعبہ میں موجود ہوتے ہیں۔ ڈرامہ اور فلم انڈسٹری میں بھی ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ نصیحت کی کہ پڑھے لکھے بچے بچیوں کو ضرور اس فیلڈ میں آنا چاہیے۔ ملک کے ابتر معاشی اور کاروباری حالات کے تناظر میں بات ہوئی تو آمنہ مفتی نے ڈرامہ انڈسٹری کے مستقبل کے حوالے سے کچھ خدشات اور فکرمندی کا اظہار کیا۔ سعدیہ جبار مگر انڈسٹری کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی پر امید ہیں۔ اللہ کرئے کہ ان کی یہ امید سلامت رہے۔ آمین۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات