یاد رہے پاکستان کسی جنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا مالِ غنیمت ہر گز نہیں

ڈاکٹر صغرا صدف
———

اس بات سے قطع نظر کہ تقسیم کے وقت پاکستان سے کن علاقوں کو کاٹ دیا گیا اور کن کو متنازعہ بنا دیا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کے حصے میں جو علاقہ آیا وہ زرخیز ترین زمین کے دلکش میدان، معدنیات سے بھرے بلند و بالا پہاڑ، آباد دریائوں اور سمندر پر مشتمل تھا۔ پاکستان ایک پھلدار درخت اور ہرے بھرے کھیت کی مانند تھا۔ دریائوں میں پانی بھی پورا تھا اور ان کے اردگرد ہریالی سرسبز اور آبادی بھی خوشحال تھی۔ سمندر نہ صرف دیگر دنیا سے راستے ہموار کر رہا تھا بلکہ تجارت میں بیش بہا خدمات بھی سرانجام دے رہا تھا۔ کچھ دیر ان کی حفاظت کی گئی پھر سب پکے ہوئے پھل کھانے میں مصروف ہو گئے۔ یاد رہے پاکستان کسی جنگ کے ذریعے حاصل ہونے والا مالِ غنیمت ہر گز نہیں تھا مگر مذاکرات کی میز پر ہونے والے فیصلے کو مالِ غنیمت بنا دیا گیا۔ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس پر عملدرآمد شروع ہوا تو پھر رُکنے کا نام ہی نہ لیا۔

شروع دن سے ہی سازشوں کا جال بچھا دیا گیا۔ اب تک حالات کی انارکی ہمارے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ نعرہ ہر دور اور ہر حکومت کے منشور میں شامل رہا ہے کہ ملک کو جو خطرات اس وقت لاحق ہیں وہ پہلے کبھی نہ تھے۔ مگر ملک تو پُرامن پناہ گاہ تھا، خطرات تو ہم نے خود بوئے تھے۔ کچھ پکی اینٹوں سے تعمیر کئے تھے۔ ایسے خطرات کی فصل تلف بھی کر دی جائے تو بیج باقی رہ جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اب اگر ہم یہ محاسبہ کریں کہ 1947ء میں آزاد ہونے والا وسائل سے مالا مال پاکستان آج قرضوں میں کیوں جکڑا ہوا ہے تو جہاں جمہوری و غیر جمہوری حکمرانوں کی اقتدار کے حصول کے لئے ملکی مفادات کو پسِ پشت ڈالنے کی مسلسل روایت نظر آتی ہے وہیں ایک بڑا قصور اس جدوجہد کو برقرار نہ رکھنا بھی ہے۔ آزاد ملک کے حصول کے بعد لوگ سہل پسند اور ذمہ داریوں سے آزاد ہوتے گئے۔ جب آزادی ان کے لئے قومی وقار کی علامت نہ بنائی گئی تو انہوں نے اشارے توڑنے کے سفر کو قانون توڑنے تک پھیلا دیا۔ ملک میں طبقات وجود میں آتے رہے۔ معاشی آزادی اور برابری کا نعرہ نعرہ ہی رہ گیا۔ وسائل میں میرٹ کی بنیاد پر حصہ کی بجائے قبضہ گروپ نے چھینا جھپٹی شروع کر دی۔ مذہب بھی عمل کی بجائے سیاسی اور غیر سیاسی مفادات کے لئے استعمال ہونے والا ٹول بن گیا۔ کسی کو یاد نہ رہا کہ نئی نسل کے نصاب میں کچھ ایسے چیلنجز بھی رکھنے ہیں جو وہ عملی زندگی کے اہداف سمجھ کر پورے کریں۔ کون کون سے شعبے کو آگے لے کر جانا ہے۔ تاجروں کو برآمدات بڑھانے کیلئے اضافی سہولتوں کی بجائے ان کی بجلی مزید مہنگی ہوئی۔ ٹیکسوں کے علاوہ خفیہ مطالبات نے اجیرن کیا تو وہ لگی فیکٹریوں کی عمارتیں خالی کر کے بنگلہ دیش روانہ ہو گئے جس کی معاشی حالت ہم سے کئی گنا بہتر ہو چکی ہے اور ان کی ترقی میں ہمارے صنعتکاروں کا خصوصی تعاون شامل ہے۔

آج بھی بہت لمبے چوڑے احتساب کی بجائے ہر شخص، ہر رہنما، ہر ادارہ ملکی قوانین کے مطابق اپنا قبلہ درست کر لے۔ جب سمت متعین ہو جائے تو سفر آسان ہو جاتا ہے۔ قانون کو ترجیح بنا لیں۔ اعلیٰ و ادنیٰ، اپنے پرائے کی تفریق ختم کر دیں۔ ہمارے لوگوں میں محنت، دیانت اور صلاحیت سب کچھ ہے۔ وہ اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ صرف ان سے کام لینے والے، معاملات سے آگاہی رکھنے والے ہوں تو گھبرانے کی بات نہیں۔ قوم چیلنج قبول کرنے اور اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

حال ہی میں ملک میں درخت لگانے کی مہم کے دوران کروڑوں نئے درخت لگائے گئے جو بہت خوش آئند ہے۔ ہر علاقے کے درخت قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ درآمد کئے گئے صرف خوبصورتی کے حامل درختوں کی بجائے سڑکوں کے اردگرد، گھروں اور اداروں، سرکاری اداروں اور خالی زمینوں پر پھل دار درختوں کی مہم بھی شروع کی جائے۔ پھلوں والے پودے اور درخت سے کوئی اور پودا خوبصورت نہیں ہو سکتا۔ میرے گھر کی دو دیواروں پر ایک انگور کی بیل تھی جس پر اتنا انگور لگا کہ ہم نے صرف گھر کے اندر والے انگور توڑے، تمام محلے اور رشتے داروں میں تقسیم کئے اور باہر والے کوئی بھی توڑ سکتا تھا۔ صرف چوکیدار یہ خیال کرتا کہ ایک ہی فرد دو کلو سے زیادہ نہ توڑے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو سکیں۔

آموں کے حوالے سے پاکستان کی زمین بہت معاون ہے مگر ہمارا آم درآمد کرنے والوں ملکوں میں 15 واں نمبر ہے جبکہ ہندوستان پہلے نمبر پر ہے۔ وزیراعظم صاحب براہِ مہربانی امرود، سنگترے، آم اور جامن کے درخت لگانے کا اعلان بھی کریں تا کہ غریب لوگوں کی رسائی میں بھی پھل آ سکیں۔ مزدور اور پیدل چلنے والے تھک جائیں تو ذرا سستا بھی لیں اور کچے پکے پھل سے پیٹ بھی بھر لیں۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو پھلدار درخت بنانے کے لئے ہم سب کو مالی کی طرح سوچنا اور عمل کرنا ہے
—–
jang